رضی الدین رضیکالملکھاری

گل نوخیز اختر کا تخت لاہور اور ہمارا نیا پاکستان : ڈرتے ڈرتے / رضی الدین رضی

گل نوخیز اخترکے اعزاز میں منعقد ہونے والی اس تقریب کے منتظمین نے ہمیں بتایا تھا کہ اسے معمول کی تقریب مت سمجھیں کہ اس کی صدارت عطاءالحق قاسمی کررہے ہیں۔وہ وقت کے بہت پابند ہیں اور دعوت نامے پر اگر چاربجے کا وقت درج ہے تو وہ چاربجے ہی پنڈال میں پہنچ جائیں گے کہ گزشتہ برس جب اسی ملتان ٹی ہاﺅس میں خود ان کے ساتھ شام منائی گئی تو اس روز بھی وہ عین وقت پر پنڈال میں آگئے تھے۔ہم نے منتظمین کو بتایا کہ تقریبات میں تاخیر ہمارا روزمرہ کا معمول ہے۔ہم گزشتہ 8برسوں سے ہر ہفتے ادبی بیٹھک میں لوگوں کا انتظارکرتے ہیں اور ان آٹھ برسوں کے دوران ہم اپنے آٹھ دوستوں کوبھی وقت کا پابندنہیں کر سکے۔ویسے بھی نئے پاکستان میں وقت ابھی پرانا ہی چل رہا ہے۔اور اسے تبدیل ہونے میں کافی وقت لگے گا۔سوتشویش کی ضرورت نہیں۔تقریب ”وقت “ پر ہی شروع ہوگی یعنی ایک ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے۔
وقت سے یاد آیا کہ جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کو روشن خیال ممالک کی صف میں لانے کے لیے اداروں کے ساتھ ہی نہیں وقت کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ کی تھی۔اور بعض یورپی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی سردیوں اور گرمیوں میں گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے یا پیچھے کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔اس زمانے میں گھڑیاں آگے نہ کرنے والوں نے وقت کی اس تبدیلی کو مشرف ٹائم کا نام دیاتھا ۔ اور جیسے نئے پاکستان میں روز ایک نیا لطیفہ مارکیٹ میں آرہاہے اسی طرح مشرف ٹائم کے بھی بہت سے لطیفے زبان زدعام ہوئے تھے۔اس پر آشوب دور میں ڈکٹیٹر کے سامنے آئین کی رکھوالی عدالتوں سمیت بڑے بڑے انقلابی سجدہ ریز ہوگئے تھے۔ایک کالم نگار بہرحال ایسا تھا جو اس تمام عرصے کے د وران اپنے موقف پر ڈٹا رہا اس نے قلم کی حرمت قائم رکھی اور اپنے ہم عصروں کی طرح کسی دباﺅ یا لالچ میں آنے سے انکار کردیا۔خوشی کی بات ہے کہ وہ کالم نگار آج اس تقریب میں مسند صدارت پر موجود ہے۔عطاءالحق قاسمی عہد حاضر میں پاکستان کے سب سے بڑے مزاح نگارہیں اوروہ نئی نسل کے مقبول ترین مزاح نگار گل نوخیز اختر کی پذیرائی کے لیے آج ملتان میں موجودہیں۔گل نوخیز اختر کاتعلق ہمارے شہر سے ہے ۔ لیکن آج وہ دنیا بھر میں ملتان بلکہ پورے پاکستان کی پہچان بن چکا ہے۔
حاضرین محترم ، ہم آج کی مسکراتی ہوئی شام ایک ایسے ماحول میں منا رہے ہیں جب نئے پاکستان میں نئے مکانوں کی تعمیر کے لیے لوگوں کے پرانے گھر مسمار کیے جارہے ہیں۔ بلڈوزر سڑکوں اور گلی محلوں میں عام لوگوں کے مکان اور دکانیں تجاوزات قراردے کر گراتے چلے جارہے ہیں۔اور کوئی یہ سوال بھی نہیں کر تا کہ اگر پاکستان میں مدینہ کی ریاست جیسا نظام لایا جارہاہے توپھرسب کے ساتھ یکساں سلوک کیوں نہیں ہوتا۔پھربھلاترازو ایک جانب کیوں جھکا ہوا ہے۔اور بنی گالہ کی تجاوزات پربھی اسی طرح بلڈوزر کیوں نہیں چڑھایا جاسکتاجیسے کچی آبادیوں پر چڑھایا جاتا ہے ۔آج تحریک انصاف کے دور حکومت میں عدل و انصاف کے نئے مفاہیم تلاش کئے جا رہے ہیں ۔وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا جا چکا اور یونیورسٹی اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگاجارہی ہیں کہ وزیر اعظم ہاؤس کے راستے میں ہتھکڑی تو آتی ہے ۔دوسری جانب ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈز جمع کیے جارہے ہیں اورآب رواں کی قلت دور کر نے کے لیے سردست اشک رواں سے کام لیا جا رہاہے ۔آزادی اظہار کایہ عالم ہے کہ ہمیں قاتلوں کا نام لینے کی بھی اجازت نہیں۔چیخ وپکار اور شورشرابہ کرنے والے میڈیا کوبھی اپنی اوقات کا اندازہ ہوگیاہے۔ملک بھر میں صحافیوں کو بے روزگار کیا جارہاہے۔ پہلے تو اخبارات کے صفحات کم ہوئے ۔اس کے بعد مالکان نے ڈاﺅن سائزنگ شروع کردی۔کوئی ان سے یہ پوچھنے والا نہیں کہ جب آپ کے پاس سرکاری اشتہارات موجودتھے اس وقت تم نے کون سا کارکن صحافیوں کی زندگیاں خوبصورت بنادیں جو اب اجیرن کررہے ہو۔دکھ تو یہ ہے کہ صحافیوں کے ان دکھوں پر کوئی کالم نگار کالم بھی نہیں لکھ سکے گا اور اگر کسی نے لکھ بھی دیا تو اسے شائع بھلاکون کرے گا۔دکھ کی ایسی کیفیت میں قہقہے لگانا ضروری ہوجاتا ہے۔سو آج ہم قہقہوں کی اس محفل میں اسی لیے آئے ہیں کہ ہم اپنے دکھوں پر ہنسنا چاہتے ہیں۔اس سے پہلے کہ کوئی اور ہماری حالت پرہنسے ہمیں خود پردل کھو کر خود ہی ہنس لینا چاہیے اور یہ تو آپ جانتے ہیں کہ اس دکھ بھرے معاشرے میں قہقہے تقسیم کرنا کتنا مشکل کام ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ عطاءالحق قاسمی ،گل نوخیز اختر اوریاسرپیرزادہ جیسے کالم نگار اس دکھی معاشرے میں مسکراہٹیں تقسیم کررہے ہیں۔
گل نوخیز اختر اسی شہر کا سپوت ہے۔اس کے ادبی سفر کے ہم عینی شاہد ہیں۔ہم نے اسی شہر کی تقریبات میں اسے شعر سناتے ،مضمون پڑھتے اور شرارتیں کرتے دیکھا۔آج سے پچیس تیس برس پہلے یہ ملتان کی تقریبات میں بہت متحرک تھا۔پھرتلاش رزق میں یہ شرارتی بچہ لاہورپہنچا تو اسے عطاءالحق قاسمی جیسے بزرگ شرارتی کی شفقت اور رہنمائی میسر آ گئی۔ صلاحیتیں اس میں موجودتھیں ۔سو یہ دیکھتے ہی دیکھتے بلندیوں کی جانب روانہ ہوگیا۔ لاہور میں اسے عزت بھی ملی اور شہرت بھی۔گل نوخیز اختر کی کامیابیاں ہمیں ہمیشہ اطمینان دیتی ہیں۔خوشی کی بات ہے کہ آج گل نوخیز اختر اپنے ہی شہر میں یہ محبتیں سمیٹنے آیا ہے۔منو بھائی نے ایک بار کہا تھا کہ” جس کا ملتان مضبوط ہو اس کا اسلام آباد بھی مضبوط ہوتا ہے“۔اس شہر کے لوگ جانتے ہیں کہ انہوں نے یہ جملہ 1983ءمیں ملتان کی ایک تقریب میں ہی اصغر ندیم سید کومخاطب ہو کر کہا تھا۔اس زمانے میں اصغر ندیم سید نئے نئے لاہور گئے تھے اورمنو بھائی انہیں بتارہے تھے کہ اگر لاہور کو مضبوط رکھنا ہے تو تمہیں اپنا ملتان مضبوط رکھنا ہوگا۔ آج گل نوخیز اختر کو معلوم ہوگیاہوگا کہ اس کا لاہور اسی لیے مضبوط ہوا کہ اس کا ملتان بہت مضبوط ہے ۔ اورجس کا ملتان مضبوط ہو اسے تخت لاہور اپنی محبتوں کا اسیر کرلیتا ہے اور یہ تو آپ جانتے ہیں کہ محبتوں کے اسیر خودکو قیدی کبھی نہیں سمجھتے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker