سید مجاہد علیکالملکھاری

جمال خشوگی کا قتل: پھانسی کا پھندا کس کی گردن میں پڑے گا؟۔۔ سید مجاہد علی

استنبول کے سعودی قونصل خانہ میں صحافی جمال خشوگی کی ہلاکت کا معاملہ دن بدن سنگین صورت اختیار کر رہا ہے۔ امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سخت مشکل میں گرفتار ہیں اور دوسری طرف ریاض میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو بھی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ہفتہ کے روز سعودی عرب نے 2 اکتوبر کو استنبول کے قونصل خانہ میں جمال خشوگی کی ہلاکت کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے دو ہفتے پرانے بیان کو تبدیل کیا تھا کہ سعودی حکومت کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تب کہا گیا تھا کہ جمال خشوگی قونصل خانہ میں آئے ضرور تھے لیکن واپس چلے گئے تھے۔
ہفتہ کو علی الصبح ریاض میں جاری ہونے والے مختصر سرکاری بیان میں اس مؤقف کو تبدیل کرتے ہوئے یہ اعتراف کیا گیا کہ جمال خشوگی قونصل خانہ میں آئے تھے اور اس دوران ان کی سعودی اہلکاروں سے ہاتھا پائی ہوئی جس کے نتیجہ میں وہ حادثاتی طور پر ہلاک ہوگئے۔ اس بیان کے مطابق سعودی انٹیلی جنس کے ڈپٹی چیف اور شہزادہ محمد بن سلمان کے قریبی سمجھے جانے والے جنرل احمد العصیری اور ولی عہد ہی کے مشیر سعود القطانی کو برطرف کردیا گیا ہے اور اس قتل کے الزام میں 18 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم اس بیان کو دنیا بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوا کسی نے بھی ’قابل اعتبار‘ قرار نہیں دیا۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنے کالم نگار کی المناک موت پر سعودی وضاحت کو شرمناک قرار دیتے ہوئے اس سانحہ کی عالمی تحقیقات کروانے اور اس قتل کے اصل مجرم کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔ اخبار کا مؤقف ہے کہ اس قتل کا حکم ولی عہد شہزادہ محمد نے خود دیا تھا۔ اسی لئے ان کے قریبی لوگ اس معاملہ میں ملوث تھے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف دو ہفتے بعد امریکی کانگرس اور سینیٹ کے ہونے والے انتخابات میں ری پبلیکن پارٹی کے امید واروں کی کامیابی کے لئے مہم جوئی کررہے ہیں اور دوسری طرف جمال خشوگی قتل اسکینڈل کو جلد از جلد ختم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے قریب سمجھے جانے والے ری پبلیکن پارٹی کے بعض سینیٹرز بھی جمال خشوگی کے قتل کے بعد سعودی ولی عہد کی علیحدگی کا مطالبہ کرچکے ہیں ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اپنی صدارت کے پونے دو سال کے دوران ایک کے بعد دوسرے اسکینڈل کا سامنا رہا ہے لیکن وہ ہر معاملہ میں صاف بچ کر نکلتے رہے ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی معاملہ دو چار روز سے زیادہ خبروں میں نہیں رہا اور اخباروں کی سرخیوں اور ٹیلی ویژن اسکرین سے اوجھل ہونے کے بعد صدر کو کسی معاملہ کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یوں بھی صدر ٹرمپ مین اسٹریم میڈیا کو ’فیک نیوز‘ قرار دے کر اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے جھوٹی سچی خبریں اور سنسی خیز تبصرے عام کر کے اپنے حامیوں کی تعداد برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اسی لئے ان کے خلاف ری پبلیکن پارٹی کے سینیٹرز اور کانگرس کے اراکین آواز اٹھانے کا حوصلہ نہیں کرتے۔ ان میں سے بیشتر کو اب مڈ ٹرم الیکشن کے دوران کامیابی کے لئے ٹرمپ کی حمایت اور ان کی اعانت سے الیکشن لڑنے کے لئے وسائل جمع کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر کی مقبولیت کے پیش نظر یہ سب لوگ ٹرمپ کی کوتاہیوں اور غلطیوں سے فاصلہ اختیار کرنے کی بجائے ان کا دفاع کرنا سیاسی مجبوری سمجھتے ہیں۔ مبصرین اور سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ جمال خشوگی کا معاملہ گزشتہ اٹھارہ روز سے خبروں اور تبصروں کا حصہ بنا ہؤا ہے ۔ اس لئے صدر ٹرمپ کے لئے اسے نظر انداز کرنا اور اپنی مرضی کے مطابق سعودی عرب کو رعایت فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔
ترکی نے جمال خشوگی کی گمشدگی کے تین روز بعد ہی یہ خبر عام کردی تھی کہ انہیں قونصل خانہ میں تشدد کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔ اس کے بعد سے ترک ذرائع سے مسلسل اس حوالے سے کوئی نہ کوئی خبر سامنے آتی رہی ہے۔ ان خبروں میں جمال خشوگی کے قتل کی تصدیق کرنے کے علاوہ ان پر تشدد کے حوالے سے ہولناک تفصیلات بھی بتائی جاتی رہی ہیں۔ اسی لئے اقوام متحدہ سے لے کر دیگر یورپی ملکوں کے علاوہ امریکہ کے میڈیا، سول سوسائٹی اور سیاست دانوں کی طرف سے اس معاملہ کی تہ تک پہنچنے اور یہ سراغ لگانے کا مطالبہ شدت پکڑتا رہا کہ جمال خشوگی کی گمشدگی کا پتہ لگایا جائے۔ اسی دباؤ کے باعث صدر ٹرمپ نے وزیر خارجہ مائیک پومیو کو گزشتہ منگل کو ریاض اور انقرہ کے دورہ پر روانہ کیا۔ ریاض میں امریکی وزیر خارجہ نے شاہ سلمان کے علاوہ ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران مائیک پومیو کے خوشگوار رویہ اور خوشامدانہ حد تک مفاہمانہ باڈی لینگویج کی وجہ سے وزیر خارجہ اور صدر ٹرمپ کی حکمت عملی پر تنقید ہوتی رہی۔ اس پر امریکی ذرائع نے واضح کیا کہ فوٹو سیشن کے بعد ہونے والی ملاقات بہت واضح اور دو ٹوک تھی اور سعودی عرب سے جمال خشوگی کے معاملہ میں قابل بھروسہ تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تاہم گزشتہ روز سعودی حکومت کی طرف سے جمال خشوگی کے قتل کے اعتراف کے بارے میں جو بیان سامنے آیا ہے اس کی روشنی میں یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے دراصل سعودی ولی عہد کو اس قتل کی ذمہ داری قبول کرلینے کا مشورہ دیا ہوگا۔ اسی لئے صدر ٹرمپ نے اس دوران شاہ سلمان سے فون پر بات کرنے کے بعد میڈیا کو بتایا تھا کہ سعودی حکومت کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جمال خشوگی کو بعض ’بدمعاش‘ عناصر نے مار دیا ہو۔ دیکھا جائے تو اعتراف جرم پر مبنی سعودی سرکاری بیان صدر ٹرمپ کے اسی مؤقف کا چربہ ہے۔ اس میں جمال خشوگی کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک حادثہ اور لڑائی کو اس کی وجہ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا کہ اصل مقصد خشوگی کو ہلاک کرنا نہیں تھا ۔ اس کے ساتھ ہی اس واقعہ میں ملوث ہونے کی وجہ سے دو اعلیٰ افسروں کو معزول کرنے کے علاوہ اٹھارہ افراد کو گرفتار کرکے تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ۔
سعودی عرب کے علاوہ صدر ٹرمپ اور ان کی مشیروں کا خیال تھا کہ جزوی ذمہ داری قبول کرنے کے اس ڈرامائی اعلان اور اس الزام میں اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں کو برطرف کرنے کی وجہ سے اس کہانی کو قابل اعتبار بنا لیا جائے گا۔ اور اس معاملہ کو میڈیا کی توجہ سے دور کرنے کا مقصد حاصل ہو جائے گا۔ اس کے بعد ری پبلیکن پارٹی یا سیاسی حلقوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کا اندرون خانہ جواب فراہم کرکے معاملہ دبا لیا جائے گا۔ لیکن سعودی عرب کے بیان کو صدر ٹرمپ کی طرف سے قابل اعتبار قرار دینے کے باوجود قبول نہیں کیا گیا۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے علاوہ اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹر نیشنل سمیت سب ملکوں اور ادروں نے اس وضاحت کو ماننے سے انکار کر دیا اور اسے سعودعی عرب کا نیا جھوٹ قرار دیا گیا۔ اسی دباؤ کی وجہ سے اب صدر ٹرمپ بھی اپنا مؤقف تبدیل کرنے اور سعودی جواب کو نا مکمل قرار دینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ اب بھی غلط اعداد و شمار کے ساتھ سعودی عرب کے ساتھ جاری کاروبار اور اسلحہ کی فروخت کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ معاملات خراب کرنے کی صورت میں امریکہ کے دس لاکھ سے زائد لوگوں کا روزگار متاثر ہوسکتا ہے۔ ایک تو یہ معلومات کسی دستاویزی شواہد کے بغیر پیش کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے قابل اعتبار نہیں ہیں۔ دوسرے متعدد امریکی لیڈروں اور میڈیا کی طرف سے یہ دلیل دی جارہی ہے کہ یہ معاملہ معیشت سے زیادہ ان اقدار کا ہے جن پر امریکی معاشرہ کی تشکیل ہوئی ہے۔ سابق نائب صدر جوبائیڈن نے گزشتہ روز ایک جذباتی تقریر میں کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کو نظر انداز کرکے اور اصولی مؤقف اختیار کرنے سے انکار کرکے صدر ٹرمپ امریکہ کو دنیا کی قیادت کے اخلاقی حق سے محروم کر رہے ہیں۔
جمال خشوگی کی موت کی ذمہ داری قبول کرکے اس کی تحقیقات کروانے اور چند لوگوں کی گرفتاریوں کا اثر زائل ہوتے دیکھ کر اب سعودی حکام ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو اس معاملہ سے بچانے کے لئے نت نئی تفصیلات سامنے لارہے ہیں۔ ایک اعلیٰ سعودی افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ہے کہ اصل مقصد خشوگی کو ہلاک کرنا نہیں بلکہ اغوا کرکے سعودی عرب لانا تھا۔ تاہم جب خشوگی نے اونچی آواز میں بات کی تو سعودی ٹیم کے ارکان گھبرا گئے اور ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر انہیں خاموش کروانے کی کوشش کی گئی جس کی وجہ سے وہ حادثاتی طور پر فوت ہوگئے۔
اس غلطی پر پردہ ڈالنے کے لئے اس ٹیم کے ارکان نے پہلے تو خشوگی کے کپڑے ایک رکن کو پہنا کر قونصل خانہ کے پچھلے دروازہ سے نکالا تاکہ یہ کہا جا سکے کہ وہ تو قونصل خانہ سے باہر نکل گئے تھے۔ اس ذریعہ کے مطابق خشوگی کی لاش ایک مقامی شخص کے حوالے کی گئی تاکہ وہ اسے ٹھکانے لگا سکے۔ تاہم اس شخص کی قومیت یا نام بتانے سے گریز کیا گیا ہے ۔ اس سعودی افسر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابتدائی سعودی مؤقف بھی درست تھا کیوں کہ ٹیم نے اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لئے غلط رپورٹ اعلیٰ حکام کو دی تھی۔ اس رپورٹ کے نقص کا سراغ بعد میں ہونے والی تحقیقات میں لگایا گیا۔ سعودی افسر نے ایک بار پھر اصرار کیا کہ شہزادہ محمد کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں۔
تاہم پہلے بیان کی طرح یہ وضاحتی بیان بھی امریکی میڈیا یا دنیا کے لیڈروں کو مطمئن نہیں کرسکے گا۔ اب اس معاملہ میں سعودی ولی عہد پر براہ راست انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں۔ یہ دباؤ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے اس معاملہ میں بہت زیادہ مزاحمت کی کوشش کی تو ان کی اپنی پوزیشن کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اسی لئے وہ ہر روز اپنا مؤقف تبدیل کرکے اس معاملہ سے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ یہ مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے اور جمال خشوگی کے قتل کی اقوام متحدہ کے ذریعے تحقیقات کرواکے اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔
بعض مبصر اب واضح طور سے کہنے لگے ہیں کہ سعودی ولی عہد کی تبدیلی سے پہلے یہ بحران قابو میں نہیں آسکتا۔ واشنگٹن پوسٹ نےسعودی اعتراف کے بعد ایک سخت اداریہ میں یہ مطالبہ کیا ہے: ’(تحقیقات مکمل ہونے تک) انسانی حقوق اور آزادی رائے کو اہمیت دینے والے سب لوگوں کو سعودی عرب اور اس کی حکومت کو مجرم سمجھنا چاہئے۔ جن تجارتی کمپنیوں نے اس ہفتہ کے دوران ریاض میں ہونے والی سرمایہ کانفرنس کا بائیکاٹ کیا ہے، انہیں ولی عہد سے ہر قسم کا تعلق ختم کرنا چاہئے۔ واشنگٹن میں لابی کرنے والوں کو سعودی ولی عہد کے لئے کام کرنا بند کرنا چاہئے۔ کانگرس کو سعودی عرب کو دئیے جانے والے ہر قسم کے اسلحہ کی فراہمی روکنا چاہئے۔ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات اور تعاون جاری رہے لیکن انہیں نئی بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ خشوگی کے قتل کا پورا سچ سامنے لایا جائے اور اس منصوبہ کے ممکنہ مصنف محمد بن سلمان کو کٹہرے میں لایا جائے‘۔
امریکہ کے معتبر اخبار کی طرف سے اس دوٹوک اور واضح مؤقف کے بعد یوں لگتا ہے کہ جمال خشوگی کے معاملہ پر پردہ ڈالنے کی کوششیں زیادہ دیر تک کامیاب نہیں ہوں گی۔ شکوک کا سایہ سعودی ولی عہد کے گرد گہرا ہو رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے انہیں بچانے کی غیرروایتی کوشش کی تو وہ خود اپنی انگلیاں جلا بیٹھیں گے۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker