قیصر عباس صابرکالملکھاری

مولانا فضل الرحمن ہی آخری امید کیوں ؟ : صدائے عدل / قیصر عباس صابر

ہم بات کرسکتے ہیں موسم کی ، فضا کی ، بادلوں کی ، پھولوں کی ، محبتوں کی اور ہر اس چیز کا ذکر ہمیں تختہ دار تک نہیں لاسکتا ، نذرزنجیر نہیں کرسکتا، ہم آسانی سے اسے ذکر محفل بناسکتے ہیں ، ہم کیوں ذکر کریں ان باتوں کا جو ہمارے اپنے اور ہمارے بچوں کے لئے مشکلات میں اضافے کا سبب بنیں ، ایسا جملہ کیوں لکھیں جو ہمارے لئے نوحہ بن جائے۔ ایسا سوال ہی کیوں کریں جس کا سوالیہ نشان بغاوت کے زمرے میں آئے کہ ہم عیسی ابن مریم، منصور بن حلاج یا حسین ابن علی تو نہیں ہیں کہ دار پر وار دیے جائیں۔



ہم صرف عام شہری ہیں اور عام شہریوں کے لئے دو وقت کی روٹی ، پانی اور ہوا ہی کافی ہوتی ہے۔ ہم کیوں ایسے بکھیڑوں میں پڑیں کہ الیکشن میں سلیکشن کون کرتا ہے؟ دنیا کے طاقتور ممالک سے تعلقات کی پالیسی کس کی مرضی سے بنتی ہے؟ کشمیر پر بھارت کے قبضے کی اصل کہانی کیا ہے؟ دورہ امریکا کے فوری بعد کیوں بھارت نے کشمیر ” حاصل “ کرلیا؟ مولانا فضل الرحمن جیسا مولوی اب کیوں ”ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے“ کے ترانوں میں سلامی لے رہا ہے؟ اب مولانا فضل الرحمن ہی آخری امید کیوں لگنے لگا ہے ؟ مولانا کو کس نے بتایا کہ فیض احمد فیض کے اشعار انقلابی ہیں؟ دھرنے کے پیچھے کون ہیں اور کون اربوں روپے کے اخراجات برداشت کرے گا؟ دھرنا کس کی گردن جھکانے کے لئے ہونے جارہا ہے؟



ہمیں ایسے سوالات سے دور رہنا چاہیے۔ ایسے سوالات ہمیں ”باغی “قرار دلوا سکتے ہیں اور ریاست جو ماں جیسی ہے وہ سوتیلی بھی ہوسکتی ہے ۔ عام شہری کی طرح آنکھ بھی کچھ نہ دیکھنے والی ہی بہتر ہے۔ بقول احمد فراز:۔
نہ کوئی تازہ رفاقت نہ یارِ دیرینہ
وہ قحط عشق کہ دشوار ہوگیا جینا
یہی کہا تھا مری آنکھ دیکھ سکتی ہے
تو مجھ پہ ٹوٹ پڑا سارا شہر نابینا



تو آﺅ پھر عہد کریں کہ ہم نے صرف حالات کے ستم کو سہنا ہے اور کچھ نہیں کہنا ہے ۔ مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی ، رہزنی اور زبان بندی یہ سب کچھ تو صرف ملک کے بہتر مستقبل کے لئے ہیں ۔ مشکل فیصلوں کو غلط نہ کہا جائے کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے ۔ ہم احمد فراز کے اشعار سے لطف لیتے ہیں کہ کہیں کوئی مماثلت ہوبھی گئی تو شبلی فراز سنبھال لیں گے۔
ہم سے کہیں کچھ دوست ہمارے مت لکھو
جان اگر پیاری ہے پیارے مت لکھو
حاکم کی تلوار مقدس ہوتی ہے
حاکم کی تلوار کے بارے مت لکھو
کہتے ہیں یہ دار و رسن کا موسم ہے
جو بھی جس کی گردن مارے مت لکھو
لوگ الہام کو بھی الحاد سمجھتے ہیں
جو دل پر وجدان اتارے مت لکھو
وہ لکھو بس جو بھی امیرِ شہر کہے
جو کہتے ہیں درد کے مارے مت لکھو
خود منصف پابستہ ہیں لب بستہ ہیں
کون کہاں اب عرض گزار ے ، مت لکھو
کچھ اعزاز رسیدہ ہم سے کہتے ہیں
اپنی بیاض میں نام ہمار ے مت لکھو
دل کہتا ہے کھل کر سچی بات کہو
اور لفظوں کے بیچ ستارے مت لکھو



اور ہم نے بھی حالات کو سمجھتے ہوئے نہ لکھنے کا فیصلہ کیا ہے کہ سوچ کے عین مطابق نہ لکھنا، لکھنا بھی ہو تو نہ لکھنا ہی ہوتا ہے کہ صرف دل کی مان کر ”آتش نمرود “ میں بے خطر کود جانا ہمارے بس کا روگ نہیں کہ ہم روٹی ، کپڑا اور مکان کی طلب کے مدار کے گرد گھومتے عام عوام ہی تو ہیں ۔ وہ دن گئے جب لوگ صرف دل کی مان کر کوڑے کھاتے تھے ، جیلوں میں جاتے تھے یا بوڑھے ہاتھوں کے ساتھ چکیاں پیستے تھے مگر اپنے مو¿قف ، شعر یا نظم سے منحرف نہیں ہوتے تھے ۔
وہ ظلمتیں ہیں کہ شاید قبول شب بھی نہ ہوں
مگر حصار فلک میں شگاف اب بھی نہ ہوں
تمام شہر ہے شائستگی کا زہر پیے
نہ جانے کیا ہو جو دوچار بے ادب بھی نہ ہوں

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker