قیصر عباس صابرکالملکھاری

ہم سب گورکن ہیں : صدائے عدل / قیصر عباس صابر

ہم سب گورکن ہیں جن کا کام قبر کھودنا ہے ۔ دفن ہونے والے کی شناخت ، تعارف ،ذات پات سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ دفن ہونے والے پر نوحہ خوانی بھی ہمارے فرائض میں شامل نہیں۔ ہم صحافی ، ڈاکٹر ، وکیل ، سیاستدان ، حکمران ، بیوروکریٹ ، تاجر ، مزدور ہیں مگر ایک قدر مشترک یہی ہے کہ ہم سب گورکن ہیں۔ اخبارات کے نیوز روم میں رات کے وقت جب ہم خبریں ایڈ ٹ کرتے تھے ، حادثے میں مارے جانے والے درجن بھر لوگوں کی خبر بھی مسکراتے ہوئے ، چائے پیتے ہوئے ، قہقہے لگاتے ہوئے بنتی تھی۔ خبر کے کس جملے پر مرحوم کے کس وارث کی جان نکل جاتی ہے ، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہ تھا ، مرنے والوں نے کتنے یتیم بچے خدا کے سہارے چھوڑے ہیں اور ہماری یہ خبر ان کے لئے کس قدر اہم ہے ہم بالکل بے خبر رہتے تھے کیونکہ ہم صرف گورکن تھے۔ ساہیوال میں سرکاری قاتلوں کے ہاتھوں مارے جانے والے والدین جنہیں ان کے معصوم بچوں کے سامنے بھون ڈالا گیا تھا، ان کی ،خبر بھی عام سے حالات میں بنی تھی کہ گورکن کا کام مرنے والوں کی تدفین ہوتا ہے ان کی خاندانی ہسٹری سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔
آپریشن تھیٹر میں ڈاکٹر بھی صرف گورکن ہوتا ہے جس کے سامنے ایک مریض جو بے شک ایک خاندان کا واحد سہارا ہوتا ہے ، وہ کراہتا رہے، تڑپتا رہے ، ڈاکٹر نے صرف پیشہ ورانہ رویہ اختیار کرنا ہوتا ہے ،فوری جان بچانے سے زیادہ پرچی ، ٹکٹ ، ٹوکن، ریفر، ایم ایس کی اجازت ، پولیس ڈاکٹ اور ایسی بہت سی غیر اہم چیزیں اہم ہوتی ہیں جن کا مریض کی جان بچانے میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔ جان چلی جائے تو ڈاکٹر نے صرف سوری بول کر کترا کے نکل جانا ہوتا ہے۔ گورکن کا صحیح کردار اسی پیشے میں نظر آتا ہے کہ اکثر اوقات تو ورثا کو موت کی وجہ بھی نہیں بتائی جاتی ۔
عدالتوں میں وکلاءبھی صرف گورکن ہوتے ہیں۔ کسی شریف کو ہتھکڑی لگنے سے جیل جانے تک ، عمر قید سے سزائے موت تک کے عمل میں وکیل کا کردار بھی پیشہ ورانہ ہوتا ہے جس کی کھودی گئی قبر میں دفن ہونے والا چاہے اپنے خاندان اور بچوں کی عزت اور بھرم بھی ساتھ ہی دفن کررہا ہو گورکن کو ان کی آہوں ، سسکیوں اور آنسوﺅں سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا ۔
اس وقت وطن عزیز کے ہر شعبہءزندگی میں ہر کردار آپ کو گورکن دکھائی دے گا۔ تاجر اپنی منافع خوری کے لئے صارفین کو بغیر کفن کے دفن کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ادویات ساز کمپنیاں زندگی بچانے کے بجائے اب قبروں پر کتبے نصب کررہی ہیں۔ قانون ساز ادارے صرف نئے پاکستان کے لئے ایسے قبرستان آباد کررہے ہیں جس میں ہر نئی قبر اصولوں کے مقبروں کو مسمار کرکے کھودی جارہی ہے جس میں دفن ہونے والا ہر وعدہ، ہر تقریر اور ہر نعرہ ہمیں بد عہدی ، عدم برداشت اور شیخ چلی کے جہاں آباد کرتا نظر آتا ہے۔
اخلاقی قحط عوامی و جمہوری سطح سے ہوتا ہوا اب عسکری صحراﺅں کو ندامت کے آنسوﺅں سے بھگو رہا ہے ۔ وہ ادارے بھی اب گورکن بنتے نظر آرہے ہیں جن کو اپنے نظم و ضبط پر بہت ناز تھا۔ مفادات کے لئے سرحدوں کی حفاظت کرنے والے بھی آئینی و قانونی گورستان کے لئے اضافی رقبے مانگ رہے ہیں ۔ یہ بجا ہے کہ گورکن کا لاشوں کی شناخت یا ان کے شجر ے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور تعلق ہونا بھی نہیں چاہیے کہ جذبات ہمیشہ مفادات کے لئے منافع بخش نہیں ہوتے۔
میڈیکل ، قانون ، انصاف اور بیورو کریسی کے گورکن اب معاشی سرحدوں کے ساتھ ساتھ فکری سرحدوں کو بھی جناز گاہوں کی زینت بنانے سے گریز نہیں کررہے اگر یہی روش رہی تو جابہ جا قومی اثاثوں کے درباروں پر مسلح مجاور نظر آئیں گے۔
اتنے خشک موضوع کے بعد محسن نقوی کی یہ غزل پڑھیے:۔
عذابِ دید میں آنکھیں لہو لہو کرکے
میں شرمسار ہوا تیری جستجو کرکے
کھنڈر کی تہہ سے بریدہ بدن سروں کے سوا
ملا نہ کچھ بھی خزانوں کی آرزو کرکے
سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے
چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کرکے
مسافت شب ِ ہجراں کے بعد بھید کھلا
ہوا دکھی ہے چراغوں کی آبرو کرکے
زمین کی پیاس اسی کے لہو کو چاٹ گئی
وہ خوش ہوا تھا سمندر کو آب جو کرکے
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کرکے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker