قیصر عباس صابرکشمیرلکھاری

وادی شونٹر کی جھیل ، عبدالرشید اورلاپتہ ڈاکٹر کا احوال : صدائے عدل / قیصر عباس صابر

ایک سرزمین جو اس قدر نرم تھی کہ پاﺅں دھنسے جاتے تھے ، عین درمیان سے ندی گزرتی تھی اور صرف گزرتی ہی نہیں تھی گنگناتی بھی تھی اور کبھی بے سری ہوکر دیپک راگ چھیڑتی تھی تو دور دراز سے آئے چند سیاحوں کے بدنوں کو آگ لگاتی تھی۔ چاروں اطراف برف کے ڈھیر تھے جو سخت جان ہوکر پتھروں کا ہی حصہ بن چکے تھے ۔ سری پربت کی طرف آباد ایک بستی، جس کے مکین مویشی پالتے تھے ، دودھ پیتے تھے اور پنیر کھاتے تھے ۔سری پربت کے عقب میں بھارتی کمین گاہیں تھیں جہاں سے وہ گاہے بگاہے اپنی کمینگی ثابت کرنے پر تلے رہتے تھے اور جب مسلسل تلے رہتے تھے تو پھر یہ چند گھروں پر مشتمل بستی بے آباد ہوجاتی تھی۔
خانہ بدوشوں کی بستی میں رہنے والے اپنی مرضی سے اس ” دیس نکالے “ پرراضی تھے کہ یہاں انہیں چراگاہیں میسر تھیں ۔ ایک پگڈنڈی جو برفیلے راستوں سے اوپر اٹھتی تھی وہ شونٹر ٹاپ پر جاتی تھی، کہتے ہیں کبھی یہ جیپ ٹریک بھی تھا مگر شائد ، کبھی تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ وادی شونٹر تھی جہاں زلزلے کی تباہی کے دوران ڈاکٹر عامر نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک کیمپ لگایا تھا جس میں بیماروں کا علاج اور مفت آپریشن کئے جاتے تھے ، پھر وہ ڈاکٹر ہی لاپتہ کردیا گیا ۔ اپنی بے گناہی ثابت کرتے کرتے اک عمر بیت چیک تو لاپتہ کرنے والوں نے ” بم “ ڈال کر ایک ایسی پولیس کے حوالے کردیا جو ان لوگوں پر ” بم “ ڈالنے میں مصروف ہیں جنہوں نے کبھی ”بم“ دیکھا بھی نہیں ہوتا، مگر اچھا ہوا کہ جسے گھر والے مردہ سمجھ چکے تھے وہ زندہ ہوگیا اور جیل میں ملاقات بھی ہوگئی۔
ڈاکٹر عامر ایک انتہائی پڑھا لکھا نوجوان اور اپنے پیشے میں مہارت رکھتا تھا اس لئے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اسے ضمانت کا ریلیف فراہم کیا اور وہ میانوالی میں کلینک پر مریضوں کی خدمت کرنے کے قابل ہوا ۔
ڈاکٹر عامر نے بتایا تھا کہ وادی دو میل اور شونٹر ویلی کی آبشاریں ،جھرنے ، گلیشیئر اور سبزہ زار قابل دید ہیں کہ انہوں نے انہیں تب دیکھا تھا جب وہ لاہور سے ڈاکٹر ز کی ایک ٹیم لے کر وہاں زلزلہ زدگان کی امداد کے لئے پہنچے تھے۔
میں اس لئے بھی شونٹر ویلی پہنچا تھا کہ اگر سالوں سال لاپتہ رہنے والے ڈاکٹر صاحب ، بم کے کیس میں ضمانت ہوجانے کے بعد بھی اس خوبصورتی کو نہیں بھولے تو پھر وہ واقعی ناقابل فراموش وادی ہوگی اور وہ واقعی ناقابل فراموش تھی۔ ایک ایسا دیس جسے انسان نے نہیں قدرت نے ترتیب دیا تھا اور اس کی نوک پلک فطرت نے سنواری تھی ۔ ایسی وادی جس کا نقشہ نویس خود حسن پرست تھا جو احسن تقویم اشیاءکا خالق ہے۔ ایسی وادی جسے لمحہ لمحہ جبر اور قیدمیں گزار کر بھی ڈاکٹر عامر بھولے نہ تھے کہ وہ جب قید و بند کے دن گزارتے تھے تو ان کے بدن پر جو شونٹر وادی کی ہواﺅں کا لمس تھا وہ زندہ تھا اور انہیں زندگی کی نوید دیتا تھا۔ ان کے قدم جب اچھے دنوں کے دوران دومیل کی زعفرانی گھاس پر چلتے تھے تو زبان ورد کرتی تھی کہ ” تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاﺅ گے“ وہ ورد مشکل گھڑی میں بھی ان کی زبان پر تھا۔ ہم ڈاکٹر عامر کی طرف سے دی گئی ہدایات پر اس جنت نظیر نہیں، جنت وادی میں پہنچے تھے، ایک ایسی جنت جس میں ہم جیتے جی پہنچ چکے تھے۔
وادی شونٹر کے بیچ بہتی ندی کے کنارے لگے ایک خیمے میں سوائے مشروبات کے کچھ نہ تھا۔ ہم سرخ رنگ کی کرسیوں پر بیٹھ کر تھر تھر کانپتے تھے اور بچے انہماک سے ، سردی کو نظر انداز کرتے ہوئے برف کے ڈھیر پر کھیلتے تھے ۔ آیت زہرا کے ہاتھ نیلے ہوچکے تھے اور انگلیوں کی پوروں میں خون منجمد تھا ۔ وادی شونٹر کو بادلوں نے گھیرلیا تو درجہ حرارت منفی ہوتا چلا گیا ۔ ہم نے چند گھنٹوں کے دوران شونٹر ویلی کے سارے موسم دیکھ لئے ، جب آئے تھے تو دھوپ کی زردی برف کو نرم کرتی تھی، پھر بادلوں نے حدت کو شکست دی تو موسم کے ساتھ ساتھ پوری وادی منجمد ہونے لگی اور اب جب شام ٹھہر گئی تو بوندا باندی نے اپنا آپ دکھایا۔
واپسی کا ارادہ کیا تو شونٹر ویلی نے ہمارے پاﺅں پکڑلیے ، ہماری جیپ نرم و گداز سرزمین میں دھنسی جاچکی تھی اور خیمے کے پاس بہت سے لوگ ہمارے ڈرائیور کا ہاتھ بٹاتے تھے ، دھکا لگا کر جیپ کو برفیلے قبرستان سے نکالنے کی کوشش کرتے تھے۔ غلام مرتضیٰ نے بہت سے دوستوں کی منت سماجت کی ، ایک اور جیپ سے زور لگوایا۔ غلام مرتضیٰ کا بھانجا جو عمران خان کی محبت میں گرفتار تھا اور حیرت ہے اب تک تھا، وہ بھی جیپ کو مزید دھنسے جانے سے بچاتا تھا مگر جیپ نکلنے کا نام ہی نہ لیتی تھی ۔ہم اب جیپ کے نکلنے تک وای شونٹر کے موسموں کے رحم وکرم پر تھے۔ ندی کے جستی پل کے پاس کھڑے تھے کہ عبدالرشید سے ملاقات ہوگئی۔ اس کے اہل خانہ فوزیہ اور ماریہ سے محو گفتگو تھے ۔ آیت زہرا نے دس روپے شونٹر ندی کے تیز پانی کے حوالے کئے اور پھر اسے بہتا ہوا دیکھتی رہی مگر دس کا نوٹ بہاﺅکے بجائے پل کے ایک کونے میں رکے ہوئے پل کی گردش میں آگیا جس نے وقت گزاری کا ، موسم کو سہہ جانے کا ایک اور بہانہ فراہم کیا۔ عون عباس اور حجاب اس کھیل میں ” پرائی جنج میں عبداللہ دیوانہ“ کا کردار ادا کرتے رہے اور خوش ہوتے رہے۔
وادی شونٹر کے مکین عبدالرشید نے اس دوران موجودہ حکومت کی غریب مار پالیسی سے لے کر بھارتی دہشت گردی تک ، ہر موضوع پر کھل کر بات کی۔ میں حیران ہوا کہ کشمیر کی آخری وادی میں موجود ایک مویشی پال کس قدر سیاسی حالات سے آگاہی رکھتا ہے۔ عبدالرشید نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے ایک بیل اس نے تیس ہزار روپے کا بیچا، جو مانسہرہ کی منڈی میں ایک لاکھ چالیس ہزار روپے کا فروخت ہوا ۔ وسائل نہ ہونے سے کتنے عبدالرشید مارے جارہے تھے۔ ”اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ خود اپنے جانور کسی بڑے شہر کی منڈی تک لے جاسکیں“۔
عبدالرشید نے ہمیں کس قدر محبت سے چائے آفر کی اور پنیر کھلانے پر وہ بضد تھا ، ہمارا باربار انکار بھی اقرار میں بدل گیا۔ وہ سری پربت چوٹی کے پہلو میں آباد اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا کہ ہم نے اس کے گھر سے آگ جلتے اور دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا ۔چائے بننے میں جتنا وقت درکار تھا ہم نہ ٹھہر سکے اور نرم و گداز زمین میں دھنسی ہوئی جیپ باہر نکل آئی۔ غلام مرتضیٰ اور اس کے سب ساتھی کیچڑ میں کیچڑ ہوچکے تھے اور جلدی وادی شونٹر سے نکلنے پر بضد تھے۔ میں نے انہیں آنیوالی چائے اور پنیر کے بارے میں بتایا مگر وہ جلدی واپسی پر بضد رہے کہ ہم نہ چاہتے ہوئے بھی جیپ میں سوار ہوگئے۔ کوئی اطلاع کا ذریعہ نہ تھا کہ عبدالرشید کا شکریہ ادا کرتے اور چائے منع کردیتے ، مگر یقین ہے کہ وہ چائے لے کرآیا ہوگا۔ جب کبھی آئندہ برسوں میں، ہم شونٹر گئے تو پھر وہی چائے پئیں گے اگر عبدالرشید کسی بھارتی گولے کے نشانے پر نہ آگیا ، کسی برفانی تودے میں نہ دب گیا تو وہی ہمارا پہلا میزبان ہوگا۔ اس نے جو نمبر مجھے دیا تھا وہ مسلسل بند ہے ۔ آج جب یہ روداد سفر لکھی جارہی ہے تو بھارت کی طرف سے مسلسل دھمکی آرہی ہے کہ ” ہم مظفر آباد پر قبضہ کرلیں گے“ ، کبھی کوئی خبر آتی ہے کہ ” بھارتی فائرنگ سے متعدد کشمیر ی شہید“ ۔
میری ہرخبر پر نظر ہے ، ہر شہید کا نام پڑھتا ہوں کہ کہیں کوئی شہید ہونے والا وادی شونٹر کا عبدالرشید تو نہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker