اختصارئےلکھاری

سید صاحب اور گوبھی کے پھول ۔۔ قیصر شہزاد ساقی

قصہ کچھ یو ں ہے کہ ایک شخص کو تقریر کرنے میں بڑی دقت پیش آرہی تھی ۔لوگو ں کے سامنے آتے ہی پانی کی طرح یاد  تقریر کسی انجانے خوف تلے دب کے منہ سے ادا ہونے سے باز رہتی ۔قصہ کچھ یو ں ہے کہ ایک شخص کو تقریر کرنے میں بڑی دقت پیش آرہی تھی ۔لوگو ں کے سامنے آتے ہی پانی کی طرح یاد  تقریر کسی انجانے خوف تلے دب کے منہ سے ادا ہونے سے باز رہتی ۔آخر وہ ایک کامل اور مشاق استاد کے پاس مد د کے لیے پہنچا ۔ استاد بڑا زیرک تھا فن تقریر کے داﺅ پیچ خوب جانتا تھا۔ استاد نے اس شخص کو گوبھی کے کھیت میں بھیجا اور اسے یہ سمجھا دیا کہ گوبھی کے پھولو ں کو پھول نہیں سمجھنا بلکہ وہ تمہارے سامع ہیں۔غرض ایک ماہ کی خو ب محنت و مجاہد ے کے بعد جب تقریر حر ف بہ حرف اسے یاد ہو گئی اور کوئی جھجھک بھی نہ رہی وہ تقریر کرنے سٹیج پر پہنچا ۔ جیسے ہی اس کی آنکھیں سامعین سے چا رہو ئیں تقریر اڑن چھو ہو گئی ۔ اس نے بس یہی کہا: ”گوبھی ، گوبھی ہو تی ہے اور بندے بند ے ہوتے ہیں“لیکن اس خو ش گفتارکے لیے ہم سب گو بھی کے پھول ہی تو تھے بلکہ وہ اکثر کہتے کہ تم سب ایک جیسے ہو جیسے تربوز کے کھیت میں تربوز اور ان پہ لکھ دیا گیا ہو MURF15M001,002دراز قد، چہرے سے وجاہت و دانش ٹپکتی ہو ئی پیشانی سے بالو ں کی فصیل ذرا دور ہٹتی ہو ئی جیسے بالو ں کی سرزمین پر ، چہرہ آہستہ آہستہ قبضہ جما رہا ہو لفظوں کا چنا ﺅ شائستہ لہجہ اور ساتھ ہی مزاح ان کے لیکچر میں دیکھنے والا ہو تا ۔ معاشرے کے باغی وہی ترقی پسند ی مگر سہمے ہو ئے آخر پیمانے بدل گئے جب قوم قوم نہ رہے ہجوم بن جائے تو فیصلے عقل و لیاقت اور بحث و مباحثے سے کہا ں ممکن ہو تے ہیں لیکن ترقی پسند ی اور سرخ جدوجہد کو سلام کرنے والو ں میں ان کا شمار اب بھی ہے کارل مارکس، فیض،چیگو یرا، فید ل کاسترو اور منٹو گستاخ کو بھی اگر کسی کے دل میں جائے اما ں ملی تو وہ ان کا ہی دل تھاجس کے در پہ مجید امجد بیاض آرزو لیے کھڑا ہے۔جب لیکچر شروع ہو تا تو کشتوں کے پشتے لگا دیتے اور ہم سب الوﺅ ں کی طرح فقط گھورتے رہتے وہ سیل رواں کب تھمتا تھا؟؟؟میں یونیورسٹی میں پہلے روز جب اپنے مذموم عزائم کے ساتھ داخل ہو ا تو پہلی کلاس سید صاحب کی ہی تھی میں ان کے انداز اوپر سے شعبہ کے ہیڈ ہو نے کی وجہ سے کافی مرعوب ہو گیا۔ انھوں نے پہلے ہی دن دھمکی آمیز لہجے میں ہمیں باور کر ادیا کہ میں شعبے میں اور شعبہ سے باہر بھی تم سب پہ کڑی نظر رکھوں گا جس سے میرے کم از کم یو نیورسٹی سے متعلق تمام الف لیلوی خواب خطرے میں پڑتے نظر آئے یہی وجہ تھی کہ آغاز کے دنوں میں میرے خوابوں میں بھی آپ مجھے کسی نہ کسی دریچے سے نظر رکھے ہوئے نظر آتے میں ہڑ بڑا کے اٹھ بیٹھتا اور کروٹ بدل کے گھٹنے سیکڑ کے سینے سے چمٹا لیتا جس سے اگلے خواب میں لطف دوبالا اور ڈر کم سے کم ہو جاتا جب ایک دن سید صاحب کی اہلیہ جامعہ میں کسی تقریب کے سلسلے میں تشریف لائیں تو موصوف معزز مہمان سے اجازت لیے بغیر انتہائی سعادت مندی سے بذاتِ خود ”کہ اپنے سائے سے سر پاﺅں سے ہے دوقدم آگے“ ان کو خوش آمدید کہنے گئے اور تقریب کے آخر میں ہم سب کو رہنے دیا اور ان کا شکریہ ادا کرنے پر اکتفاکیا ۔ اس دن مجھے یقین ہو ا کہ آپ بھی اپنے پیر بھائی ہیں مزاح اور شوخی ان کے مزاج میں راسخ ہو چکا تھا اور ہم بھی ایسے موقعوں کی تلاش میں رہتے ایک دن کلاس میں حاضر ی کا وقت تھا میں نے ازراہ تفنن”yes  sir“ کی ترتیب کو توڑتے ہو ئے ”لبیک“ کہہ  دیا ۔ آپ نے غور سے مجھے دیکھا پھر اس زبان کے دھنی نے بڑے و ثوق سے کہا کہ اکاون رولنمبر جان بوجھ کے ایسی حرکتیں نہیں کرتے بلکہ میرے مشاہدے کے مطابق یہ قدرتی طور پر ڈھیٹ اور کمینے واقع ہو ئے ہیں ۔ ساری کلاس نے آپ کی زیرک نگاہی کی خوب داد دی اور آپ خو ش سے ہو گئے۔شعبے سے نکلتے ہی ہم سب جیسے ایک دوجے کے لیے اجنبی ہو گئے اور آنکھیں پھیرنا کتنا تکلیف دہ ہو تا ہے اس کا اندازہ بلکہ تجربہ بھی آپ کی ذات سے ہو ا ۔ وقت کے ساتھ لطف و کرم کے پیرائے بھی بدل جاتے ہیں شعبہ اردو آج جس نہج پر کھڑا ہے اس میں سیدصاحب کا براہِ راست حصہ ہے اور بہت زیادہ ہے۔ شعبہ اردو کے بیٹرے بلکہ ہو ائی بیٹرے کے آپ ناخدا ہیں جو بےکراں سمندر کی موجوں اور ہواؤ ں کے بدلتے مزاج سے با خبر کسی دور بلند منزل کی جانب بڑھتے جارہے ہیں ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker