قمر رضا شہزادکالملکھاری

آصف فرخی کی تعزیت کس سے کروں ؟ ۔۔ قمررضا شہزاد

یہ ان دنوں کی بات ہے نوجوان شاعر انعام ندیم کا پہلا شعری مجموعہ منظر عام پر آیا تھا۔ انعام ندیم کی شاعری کاشف مجید کے توسط سے مجھ تک پہلے ہی پہنچ چکی تھی۔ وہ اپنی نسل کے تازہ کار عمدہ شاعروں میں سے تھا اور میں عمدہ شاعری کا دلدادہ ۔ میں نے کسی طرح یہ مجموعہ حاصل کیا۔میں کتاب پڑھنے سے پہلے اس کا دیباچہ ضرور پڑھتا ہوں جسے کسی روایتی دیباچہ نگار نے نہ لکھا ہوکیونکہ روایتی دیباچہ نگار عموما کتاب کا مطالعہ کئے بغیر ہی اپنے غیبی علم سے ہی کتاب کی قدر وقیمت کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ انعام ندیم کے شعری مجموعے کا دیباچہ ایک غیر روایتی دیباچہ نگار آصف فرخی نے لکھا تھا۔ اس وقت تک میں آصف فرخی کے حوالے سے صرف اتنا آگاہ تھا کہ وہ ڈاکٹر اسلم فرخی کے صاحب زادے ہیں اور افسانہ نگار ہیں جب کہ میں اپنی شخصیت اور شاعری کے حوالے سے ان کی رائے نہیں جانتا تھا بلکہ میرا تو یہاں تک خیال تھا کہ وہ شاید میرے نام سے بھی آگاہ نہ ہوں۔
لیکن میرے لئے یہ سب کچھ حیران کن تھا جب میں نے انعام ندیم کے شعری مجموعے کے دیباچے جن دوتین شاعروں کے کلام کی تعریف کی گئی تھی ان میں ایک میرا نام بھی تھا۔ یقینا کسی ایسے صاحب الرائے ادیب سے اپنی تعریف سن کر ضرور خوشی ہوتی ہے۔ جو صرف آپ کو آپ کی شاعری کے حوالے سے جانتا ہو۔ ورنہ میری چشم گناہگار نے یہاں بہت سے ایسے جتھا بند شاعروں کو دیکھا ہے جنہوں نے مختلف حیلوں بہانوں سے اپنے گرد خوشامدیوں کو جمع کر رکھا ہے۔ جن کا کام ہی صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اس شاعر کے ہر شعر پر فلک شگاف آواز میں واہ واہ کا شور کئے رکھیں اور اسے یہ بتائیں رکھیں کہ اس سے بڑا شعر نہ پہلے کبھی ہوا ہے اور نہ آئندہ کسی سے ہوسکے گا۔ ان خوشامدیوں کی تعریف کے بعد شاعر موصوف کسی اور ہی فضا میں سانس لینے لگتے ہیں ۔ ان کا اپنے بارے میں یہ تصور یقین میں بدل جاتا ہے کہ وہ اس عہد کے بہت بڑے شاعر ہیں ۔ ان حالات میں مجھ ایسے غیر جتھا بند شاعر کے بارے میں آصف فرخی کے لفظوں نے مجھے حوصلہ عطا کیا تھا۔
کچھ عرصے بعد آصف فرخی نے دنیا زاد شائع کرنا شروع کردیا۔ شب خون اور فنون کے بعد مجھے جس ادبی جریدے میں شائع ہونے کی خواہش ہوئی وہ یہ جریدہ تھا۔ چنانچہ میں نے آصف فرخی کو اپنی چند غیر مطبوعہ غزلیں بھیج دیں جس کے جواب میں فرخی صاحب نے مجھے خط لکھا جس میں انہوں نے میری غزلوں پر خوشی کا اظہار کرنے کے بعد میرے بارے میں تفصیلات حاصل کیں۔۔۔۔۔
یہ میرا آصف فرخی سے پہلا رابطہ تھا۔ بعد ازاں دنیا زاد میں مری غزلیں شائع ہونا شروع ہوگئیں۔
2013 کے اوائل میں فرخی صاحب کا مجھے فون آیا اور انہوں نے مجھے اسلام آباد میں ہونے والے تین روزہ آکسفورڈ لٹریری فیسٹیول میں بطور مندوب شرکت کی دعوت دی اور مشاعرے کے ایونٹ میں میرا نام شامل کیا۔میں مقررہ تاریخ پر مارگلہ موٹل پہنچا ۔ جہاں فیسٹیول اور ہماری رہائش کےانتظامات کئے گئے تھے۔کاؤنٹر پر جاکر میں نے کمرہ لیا اور پھر آصف فرخی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ۔ پتہ چلا وہ ہوٹل کی لابی میں موجودہیں ۔ وہاں پہنچا تو میں نے انہیں دور سے ہی پہچان لیا ۔ وہ انتظار حسین اور آپا زہرہ نگاہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں نے جاکر اپنا تعارف کرایا تو انہون نے اپنی نشست سے اٹھ کر مجھے گلے لگا لیا ۔ آپا اور انتظار حسین کو انہوں نے جن شاندار لفظوں سے میرا تعارف کروایا۔ یقینا یہ ان کی میری شاعری سےمحبتیں تھیں۔ یہ میری آصف فرخی سے پہلی ملاقات تھی۔ اس فیسٹیول کے تمام ایونٹس مسحور کن تھے۔ اسی فیسٹیول میں میری ملاقات احمد شاہ صاحب سے ہوئی جن کی شخصیت اور بولڈ رویے نے مجھے بہت متاثر کیا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کراچی آرٹس کونسل کے صدر ہیں۔ میں تو مختلف سیشنز میں ان کی جادوئی گفتگو کا اسیر ہوگیا تھا۔
ان تین دنوں میں آصف فرخی کی تخلیقی اور ادبی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ میں ان کی انتظامی صلاحیتوں کا بھی قائل ہوگیا تھا۔میں نے کسی لمحے بھی ان کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نہیں دیکھے۔ ہر مندوب سے وہ مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ مل رہے تھے۔ لوگوں کا ایک ہجوم تھا جو اس میلے میں شریک تھا۔ لیکن وقت کی پابندی اور ڈسپلن کہیں بھی ڈسٹرب نہیں ہوا۔یہ تین دن تو گزرگئے لیکن آصف فرخی سے میری محبتوں میں اضافہ کرگئے۔
بعد ازاں میں ان سے ٹیلی فون پر میں رابطے رہا۔ اسی فیسٹول میں میری شاعری سن کر احمد شاہ صاحب نے مجھے کراچی آرٹس کونسل کی انٹر نیشنل پانچ روزہ کانفرنس میں بلالیا۔ یہاں بھی آصف فرخی سے مختلف نشستیں رہیں۔ ان دنوں میں نے اپنی یادداشتیں لکھنے کا آغاز کیا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے آصف فرخی نے میری ان یاداشتوں اور میری تحریر کے انداز کی نہ صرف تعریف کی بلکہ کہا کہ اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے انہیں مکمل کریں۔ کیونکہ یہاں کراچی میں رہ کر پنجاب اور دیگر علاقوں کی ادبی سرگرمیاں میرے لئے دلچسپی کا باعث ہیں ۔ یہ عہد رواں کی ادبی تاریخ ہے جسے ایک شاعر بے ساختگی سے لکھ رہا ہے۔بلکہ انہوں نے مجھے کہا ان یاداشتوں کو میں دنیا زاد میں بھی شائع کرنا پسند کروں گا۔
بعد ازاں اسلام آباد میں ہونے والے دیگر لٹریری فیسٹیولز میں بھی میں شریک ہوا اور ہر لمحہ ان کی محبتوں نے مجھے سرشار رکھا۔تین مواقع ایسے آئے جب میں نے انہیں دل گرفتہ دیکھا ۔ پہلی مرتبہ جب ان کے والد ڈاکٹر اسلم فرخی ، دوسری مرتبہ انتظار حسین اور تیسری مرتبہ جب فہمیدہ ریاض کا انتقال ہوا۔
میری ان سے آخری ملاقات گزشتہ سال کراچی میں آرٹس کونسل کے زیر اہتمام ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنس میں ہوئی۔ اسی طرح مسکراتا ہوا چہرہ مختلف سیشنز میں ان کی عمدہ گفتگو۔ کھانے کے مواقع پر بہت سی سنجیدہ اور غیر سنجیدہ باتیں کرتے ہوئے۔میرے گمان تک میں بھی نہیں تھا میں انہیں آخری مرتبہ دیکھ رہا ہوں۔
میری ادبی زندگی میں صرف چند شخصیات ایسی ہیں جو میرے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان میں زیادہ تر وہ ہیں جنہوں نے ادب کو سنجیدگی سے لیا اور سنجیدگی سے بسر کیا۔
ایک شاعر ہونے کی حیثیت سے میرے لئے آسان تھا کہ میں واہ واہ اور داد کے چکر میں ایسی سرگرمیوں کا حصہ بن جاتا جو بظاہر بڑی پرکشش ہیں۔ اور میری آنکھیں بہت سے ایسے عمدہ شاعروں سے آگاہ ہیں جنہوں نے شعر میں دنیا داری کی اور بظاہربڑا نام اور مال کمایا۔میرے لئے بھی ایسا کرنا کوئی زیادہ مشکل نہیں تھا۔ زیادہ سے زیادہ اپنی انا اور خوداری ہی کو تو قربان کرنا پڑتا ہے۔ شہرت کے تمام دروازے آپ پر کھل جاتے ہیں۔مانگنے والوں کی جھولی میں بھیک پڑ ہی جاتی ہے
لیکن میرا مسلہ یہی رہا کہ میرے آئیڈیل عموما وہ لوگ رہے جو ان آلودگیوں سے الگ تھلگ رہے۔ ان میں ایک آصف فرخی بھی تھا۔اگر میں کبھی لڑکھڑایا بھی تو انہوں نے مجھے سنبھالا دیا۔ انہوں نے مجھے کہا کسی تخلیق کار کے لئے سب سے قیمتی وہ لفظ ہیں جو وہ لکھتا ہے۔ ان کی عزت و حرمت پر کبھی سودا نہ کرنا۔ یہ شہرت کی چکا چوند ایک عارضی عمل ہے۔لفظ وہی زندہ رہیں گے جن میں زندگی سانس لے گی
آصف فرخی ہرجگہ ہمیشہ اپنے انفراد کے ساتھ نمایاں رہا افسانہ ہو یا تنقید ہو ۔ کالم نگاری ہو یاتراجم وہ اپنے الگ انداز فکر کے حوالے سے نمایاں رہے۔
انہوں نے مختصر وقت میں بہت زیادہ کام کیا ۔اپنی زندگی کا ہر لمحہ علم وادب کے لئے وقف رکھا۔ خود میڈیکل کے ڈاکٹر تھے شاید انہیں اس بات کا اندازہ ہو کہ ان کے پاس وقت کم ہے۔
مجھے سمجھ نہیں آتی میں آصف فرخی کی تعزیت کس سے کروں ۔اپنے آپ سے یا آپی زہرہ نگاہ سے۔احمد شاہ سے یا انور شعور سے۔ کشور آپی سے یاافتخار عارف سے۔ حارث خلیق سے یا حمید شاہد سے۔ابھی یہ غم نیا نیا ہے ۔ تمام دوستوں کے دل اشکبار ہوں گے۔ اچھا نہیں کیا آصف بھائی آپ نے جیتے جی تمام دوستوں کو ماردیا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker