تجزیےعقیل عباس جعفریلکھاری

میر باقر علی داستان گو اور سو برس پہلے دلی کی عید۔۔عقیل عباس جعفری

داستان گوئی ہندوستان کی ایک قدیم صنف ہے جس کا آغاز 16ویں صدی میں ہوا اور یہ سلسلہ 20ویں صدی کے تیسرے عشرے تک جاری رہا۔
اس سلسلے میں جن داستان گو شخصیات نے شہرت پائی ان میں محمد حسین جاہ، احمد حسین قمر، میر کاظم علی اور میر باقر علی کے نام سرِفہرست ہیں۔
ان تمام شخصیات میں میر باقر علی نے داستان گوئی کے فن کو جو جہت عطا کی وہ دوسروں کے حصے میں نہیں آئی۔ ان کی داستان گوئی کا زمانہ وہی ہے جو پارسی تھیٹر کے عروج کا زمانہ ہے۔
پارسی تھیٹر کے اداکار جدید تکنیک سے آراستہ ہونے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں تو میر باقر علی داستان گوئی کی روایات کے عظیم اداکار کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔
انھوں نے نہ صرف داستان گوئی کے فن میں اضافہ کیا بلکہ اس فن کے دوران ان کی اداکاری کا بہترین نمونہ بھی دیکھنے کو ملا۔
وہ جسامت کے لحاظ سے بہت دبلے پتلے تھے لیکن کردار کو پیش کرتے وقت اپنے جسم کے حرکات و سکنات اور چہرے کے تاثرات سے ہر کردار کا فرق صاف طور پر دکھا دیتے تھے اور ناظرین ان کے ہر کردار کی مکمل صورت محسوس کرتے تھے۔
ناظرین ان کے بیانیے کے ساتھ سفر کرتے تھے اور ان کے ذریعے بیان کیے گئے واقعات و حادثات کو مکمل صورت میں اپنی نظروں کے سامنے پیش ہوتا ہوا محسوس کرتے تھے گویا وہ سن نہیں رہے بلکہ دیکھ رہے ہیں۔
میر باقر علی کون تھے؟
میر باقر علی سنہ 1850 میں دلی میں پیدا ہوئے اور انھوں نے سنہ 1928 میں وفات پائی۔میر صاحب کے بزرگ ایران سے ہندوستان تشریف لائے تھے۔ والد کا سایہ بچپن ہی میں سر سے اٹھ گیا تھا، نانا کے گھر پر پرورش پائی جہاں ان کے ماموں میر کاظم علی نے انھیں داستان گوئی کے فن سے آشنا کیا۔
یہ عجیب زمانہ تھا۔ انگریزوں کی سکہ شاہی، انگریزی کی ترقی، اردو اور فارسی کی تنزلی، غرض دنیا ہمہ گیر مشکلات سے دوچار تھی۔
تاہم میر باقر علی اپنے شوق کی بدولت تمام علوم حاصل کرتے گئے اور یہ شوق یہاں تک پہنچا کہ انھوں نے بڑھاپے میں طبیہ کالج دہلی میں نوجوان طالب علموں کے ساتھ بیٹھ کر علم حاصل کیا۔
انھیں داستان سنانے کے لیے دور دراز علاقوں میں بلایا جاتا تھا مگر جب ریاستیں اور رجواڑے ختم ہوئے تو انھوں نے اپنے گھر میں ہی داستان سنانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔
دلی کا کون سا رہنے والا ہے جو میر باقر علی کی داستان گوئی کے سحر میں گرفتار نہیں ہوا؟ خواجہ حسن نظامی نے انھیں مقرر کائنات کا خطاب دیا اورملا واحدی، شاہد احمد دہلوی، یوسف بخاری، فیروز دہلوی اور اشرف صبوحی سب ہی نے میر باقر علی کے بارے میں اپنے خیالات کو تحریر کیا اور ان کا احوال محفوظ کیا۔
افسوس میر صاحب نے اپنا کوئی جانشین نہ چھوڑا، ان کے خود کوئی اولاد نرینہ نہ تھی صرف ایک صاحبزادی تھیں جو طبیہ کالج دہلی سے سند حاصل کر کے طبیبہ باقری بیگم کے نام سے مشہور ہو گئی تھیں۔
قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی آ گئیں جہاں انھوں نے خواتین کے لیے ایک شفاخانہ قائم کیا۔ ان کی وفات سنہ 1952 میں ہوئی۔ مرحومہ کی یادگار ان کے دو لڑکے سید رضی حسین اور سید شہنشاہ حسین تھے۔ اب خدا جانے وہ اور ان کی اولاد کہاں ہیں۔
میر باقر علی کی داستانوں کی کئی کتابیں شائع ہوئیں جن میں سے کچھ تو دوبارہ شائع ہو گئی ہیں مگر کچھ اب بھی ناپید ہیں۔
میر باقر علی کا انداز داستان گوئی یقیناً پُرکشش تھا۔ اس میں کیسے کیسے علوم سمٹے ہوئے تھے اور وہ انھیں کیسا سجا بنا کر بیان کرتے تھے، ہم اس کا جز یہاں پیش کر رہے ہیں۔ اپنی ہی ایک داستان میں میر باقر علی محاورے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’محاورہ تو زبان میں ٹکسالی ہوتا ہے، محاورے پر تو شاعر مٹے جاتے ہیں اور کیوں نہ مٹیں کہ مختصر کلام گفتگو کی جان ہوتا ہے اور حقیقت بھی یوں ہی ہے کہ محاورے کے دو لفظوں میں بڑے بڑے مضامین ادا ہو جاتے ہیں کہ جن کا خلاصہ جس زبان کا محاورہ ہوتا ہے وہ بھی جوں کا توں ادا نہیں کر سکتی اور غیر زبان کی تو مجال ہی کیا ہے جو کسی زبان کے محاورہ پر ہاتھ ڈالے اور ایسا جچا ہوا لفظ بولے جو اس محاورہ کا ہم پلہ ہو اور پھر محاورہ بھی کس زبان کا اردو کا جو زبان دنیا کی زبانوں سے انوکھی ہو۔۔۔‘
میر باقر علی کی اس داستان کا عنوان ہے ’دلی کی عید۔‘
اتفاق سے آج پاکستان سمیت دنیا بھر کے کئی حصوں میں عید الفطر منائی جا رہی ہے۔ تو کیوں نہ ہم بھی میر باقر علی کی زبانی سو سال پہلے کی عید کا احوال جانیں؟
اس داستان میں وہ لکھتے ہیں کہ دنیا میں دو ہی چیزیں مشہور ہیں: خوشی یا غم۔ لیکن تمام خوشیوں سے زیادہ خوشی عید کی ہے جس کو دلی والے بولتے ہیں کہ ’میاں تم کو تو عید کی سی خوشی ہوئی۔‘
دلی میں عید کی خوشی کیوں مشہور تھی؟ دلی کی صاحبی کا زمانہ رمضان کے اکل کُھرے (روکھے) دن دلی والوں نے گِن گِن کر کاٹے۔ اب اللہ اللہ کرکے انتیسواں دن خدا لایا۔
وہ لکھتے ہیں کہ ’اس زور کی خوشی کی بے چینی۔ ایک سے ایک آپس میں کہہ رہا ہے کہ کہو بھئی کچھ سنا سنایا، ہاں چاند کا حال کہو۔ آج چاند یقینی ہے یا کل۔ اورجنتری والے کیا لکھتے ہیں؟ آج چاند ہوگا یا نہیں؟ اگر اللہ نے آج چاند کر دیا تو جوان عید ہے اور خوشی تو جوان ہی عید کی ہوتی ہے، ورنہ کل تو خیر ہو گا ہی دیکھنا نہ دیکھنا برابر۔‘
یہ اضطرابی کیفیت جدید دور کے مسلمانوں کے لیے بھی مانوس ہو گی۔ لیکن ان الفاظ کو پڑھ کر تھوڑا صدمہ بھی ہوتا ہے، کہ سو سال بعد بھی ہم ان ہی اختلافات پر اڑے ہوئے ہیں۔ خیر، آگے چلتے ہیں۔
وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’اس زمانے میں یہ لال قلعہ نوجوان اپنے جوبن پر تھا، اس میں سے رات دن انوکھی ادائیں نکلتی تھیں اور اب تو کچھ سن پتھر سا بن گیا ہے اور اس سے بات کرو تو سوائے لال زبان دکھانے کے کچھ نہیں کہتا سنتا۔‘
’غرض اسی لال قلعہ میں شاہزادے، سلاطین زادے، نو محلے والے، نیاد والے، کھاری کوئیں والے سب عید کے بناؤ کا سامان کر رہے ہیں۔ دیوان خانوں میں درزی اور محلات میں مغلانیوں کو آنکھ اٹھانے اور سر کھجانے کی فرصت نہیں۔
’صاحب عالم درزی سے فرما رہے ہیں کہ دیکھنا میری قبا سلنے میں قباحت نہ ہو اور محل میں مغلانیوں سے کوئی کہتی ہے کہ اچھی مغلانی آج تمہیں کیا ہوگیا۔ تم بسم اللہ پڑھ پڑھ کر ٹانکا نکالتی ہو۔ جلدی کرو۔‘
اُدھر شاہی کارخانوں میں دوڑ دھوپ ہو رہی ہے۔ ربط و بے ربط احکام جاری ہو رہے ہیں۔ سانڈنی سوار پچھلی رات چاروں طرف نکل گئے ہیں کہ چاند کی خبر لائیں۔’
انھوں نے لکھا کہ میر آتش نے توپ خانوں میں حکم جاری کیا کہ توپ خانے درست ہو کر آئیں۔ اب یہ توپ خانے گزر رہے ہیں۔ گڑ گڑاہٹ کی آواز بلند ہے۔ کسی توپ پر نہایت خوش خط (یہ) شعر لکھا ہوا ہے:
چو آتش ہا بجان و تن بسا داغ کہن دارم
حذر کن اے رقیب از من کہ آتش در دہن دارم
وہ لکھتے ہیں کہ صبح کا سہانا وقت ٹھنڈی ہوا پر اُڑتی اُڑتی وہ نوبت کی ٹکور، شہنا کی آواز، جھانج کا زمزمہ، نجگروں کا مستوں کی طرح جھومنا، وردی نوازوں کے باجوں کا شور، تماشائیوں کی کثرت، نقیبوں کی ہٹو بڑھو، افسروں کے اہتمام، سرداروں کے انتظام، راستہ کے دونوں طرف خلقت کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ کھڑے ہیں، چلنے کو جگہ نہیں اور شہر میں بچہ، بڑا، امیر، غریب، نوکر چاکر ان کے گھروں میں گہما گہمی۔
کوئی بچہ اپنی ماں سے کہہ رہا ہے ‘دیکھو بی اماں میرا جوڑا اچھا ہو۔ تم نے بھائی کو تو لال مخمل کا چغہ بنادیا اور بنارسی حاشیہ مونڈھے مداخل بیل لگائی۔ ہم تو یہ نہیں پہنیں گے۔ اچھا ٹوپی کون سی ہے، اماں میں تو شبرات والی ٹوپی اوڑھوں گا۔’
اس سے آگے وہ لکھتے ہیں کہ بازاروں میں حلوائیوں نے اپنی اپنی دکانیں سجائیں، شامیانے تانے، بھٹیاں گرم ہیں۔ پوری پکوان، تر حلوا تیار ہو رہا ہے۔ تنبولیوں نے دکانوں کے آگے تختہ بڑھا، لال صافیاں قند کی گوٹہ ٹنکی جن پر پان دیسی، کافوری، بنگلہ، ماچل پوری، بیگمی، دھرے پانی چھڑکا صافی سے پانی کی بوند میں ٹپکتی ہیں۔
تھالیوں میں کتری ہوئی چھالیہ گولی برابر کے دانے، کسی تھالی میں دھنیا، چکنی چوگھڑ الائچیاں پانڑ میں نہایت صفائی اور سلیقہ سے دھریں، کتھے چونے کی کلیاں منجھی دھلی۔
زردہ پوربی امانت خانی سورتی رنگا ہوا خوشبودار نہایت تیز۔ ایک سینی میں گلوریاں، لقمان معشوق پسند ہزار پان کی گلوری، بازاروں میں کھلونے والے کاغذ کاٹ کئی ابرک مٹی کے کھلونے لیے پھرتے ہیں۔
’کوئی پپیہا بجا رہا ہے، کوئی ٹیٹری پھرا رہا ہے، کوئی تاڑ کے پتے کا بگل۔ اکثر دونوں طرف تھڑیاں لگائے بیٹھے ہیں، کہیں ککڑ والے چمڑہ کے حلقے گلوں میں ڈالے ککڑ ہاتھوں میں سنبھالے جو طرح طرح کی بندشوں سے بندھے کوئی الٹی چلی کوئی سیدھی چلی۔ مڑوڑی، ٹاٹ بافی، لہریہ، پن چھلیا، پمبئی، خس پوش، چلمیں بھریں، چمبر چڑھے۔’
عید کے دن کا حال بیان کرتے ہوئے میر باقر لکھتے ہیں: ’اتنے میں توپ دغی، مسجدوں میں اذانیں ہوئیں، روزے کھلے۔ نمازی کثرت سے مسجدوں میں جمع ہوئے، ادھر جامع مسجد میں ہزاروں چاند دیکھنے آئے، اس عرصہ میں توپوں پر بتیاں پڑیں۔ محلوں میں بچوں نے غل مچایا چاند ہوگیا۔ آپس میں لوگوں نے چاند کی مبارک باد دی۔ اب دلی والوں کی خوشی کے مارے تمام رات پلک سے پلک نہ جھپکی۔
’گھڑیاں گنتے گنتے صبح ہو گئی۔ تمام شہر کے حمام رات سے گرم تھے۔ سب نہا دھو کپڑے بدل کر درست ہوئے۔ اب پہر دن چڑھا۔ دودھ سویاں چھواروں سے روزہ کھول نماز میں جانے کو وضو کر تیار ہوئے۔ ماؤں نے بچوں کو نہلا دھلا کپڑے پہنا، سرمہ لگا بناسنوار کر درست کیا اور کہا لو ماں واری جائے۔ عیدگاہ میں الگ کھڑے رہنا۔ حضور کی سواری آئے گی، بھیڑ بھاڑ میں اپنے ابا سے الگ نہ ہو جانا۔ اب قلعہ کے اندر وہ فوجوں کا آنا، نشانوں کا کھلنا، رسالوں کی رگدبگد ،نقیبوں کی صدائیں:
یلو نوجوان بڑھے آئیو دو جانب سے باگھیں لیے آئیو
رہے پاشنا ایک انداز کا نہ بگڑے قرینہ تگ و تاز کا
داستان ختم کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ اب سانڈنی سواروں نے سنگر زنبورچیوں کے فرقے جن کے سروں پر سرمئی بتیاں بندھی شتری باناتی دگلہ گلوں میں، ایک ہاتھ میں مہار، دوسرے میں تازیانہ سانڈھوں کی گردنیں گودوں میں لیے۔ گلوں کے گھنگرو اور زانوئوں کے جھانجن چھم چھم کرتے گزرے۔
ان کے بعد جلوس کے ہاتھی جن کے بھونڈے سیندور سے رنگین اور لال ڈھالیں فولادی مستکوں پر چہروں کے دونوں طرف مغرق تاپاشنا ریشم اور مقیش کی ڈوریوں میں سریلے گھنٹے لٹکتے جن کی آوازیں ٹھنڈی ہوا میں دور تک گھنگراتی چلی جاتی ہیں۔ گرد ہاتھیوں کے سانٹے مار، بھالے بردار چرکٹے۔
بال انداز، چرخی مارمیل دہٹ چٹی گھوم کی صدائیں بلند کرتے۔ ان کے بعد تخت ہوادار اور نالکی مہاڈول۔ پالکی و محافہ کے کہار اور ان کے جمعدار دیوان عام دلال پردہ کے قریب حاضر ہوئی۔ علاوہ ازیں ان کے چوبدار و نقیب، مردھے پیادہ کتک بردار، چتربردار، آفتاب گردانی والے اب شاگرد پیشہ اور مردھے پیادہ مغرق وردیاں پہنے جن سے دیوان جگمگا رہا ہے۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker