قمر رضا شہزادکالملکھاری

خواتین پریذائڈنگ افسروں پر کیا بیتی ؟ : گزر گیا جو زمانہ / قمر رضا شہزاد

1990 ء‌کے عام انتخابات کے لئے ریٹرنگ افسر عدلیہ کے جج صاحبان اور اسسٹنٹ ریٹرنگ افسر لوکل گورنمنٹ کے پراجیکٹ مینجر منتخب کئے گئے ۔۔ اگرچہ خوش قسمتی سے مری ڈیوٹی نہیں لگی ۔ پھربھی دو وجوہات کی بنا پر میں نے خود ہی اپنی ڈیوٹی ایک ریٹرنگ افسر کے ساتھ اپنے متعلقہ افسر سے کہہ کر لگوالی ۔۔ ایک تو وجہ یہ تھی کہ میں الیکشن کا کام سیکھنا چاہتا تھا دوسرے تقریبا دو ماہ کے لئے مجھے اپنے دفتر مخدوم عالی کی بجائے ملتان ایڈیشنل جج کے پاس حاضر ہونا تھا۔ اور یوں روزانہ مجھے آدھے سفر سے نجات مل جاتی۔ الیکشن کروانے کا یہ تجربہ بھی شاندار تھا۔ میرے ریٹرنگ افسر ایک ایڈیشنل جج تھے جو عموما عدالت کے فرائض انجام دینے کے بعد ہر شام ہم سے کام کی پراگرس لیتے تھے۔ اہم کام پولنگ سکیم کی تیاری تھی۔ ان دنوں کمپیو ٹرز کا تصور نہیں تھا اور سارا کام ٹائپ رائٹرز کے ذریعے ہوتا تھا۔ مختلف محکموں سے ٹائپسٹ پابند کر دئیے گئے تھے ۔ سیکر ٹری یونین کونسلز کی ذمہ داری تھی کہ وہ محکمہ تعلیم کے لیکچرر ز اور ٹیچرز کو مختلف پولنگ اسٹیشن پر بطور پریذائڈانگ افسر اسسٹنٹ پریذ ایڈنگ افسر اور پولنگ افسر تعینات کریں۔ تمام دن الیکشن لڑنے والے امیدواروں کے کارکن اپنا من پسند عملہ تعینات کروانے کی تگ ودو میں لگے رہتے۔ ان دنوں ریٹرنگ افسران کو مقامی انتظامیہ گاڑی اور ٹیلی فون کی سہولت بھی میسر کردیتی۔ چونکہ ابھی موبائل آئے نہیں تھے۔ لہٰذہ ان کے لئے یہ سہولت سرکاری کاموں کے ساتھ ساتھ اپنے بہت سے عزیزوں اور دوستوں سے بھی لمبی لمبی بات کرنے میں کام آتی۔ ۔ ایک روز مجھے علم ہوا کہ یہیں ممتاز افسانہ نگار عباس خان بھی بطور ریٹرنگ افسر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ بھکر سے تعلق رکھنے والے یہ ایڈشنل جج اپنی قابلیت ایمانداری کی وجہ سے عدلیہ میں ایک خاص عزت واحترام کے حامل تھے۔ان دنوں ان کے افسانوں کا ایک مجموعہ قلم ، کرسی اور وردی ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکا تھا۔ ان کے افسانوں کے اکثر کردار ان کی عدالتوں میں پیش ہونے والے وہ ملزمان یا مجرمان تھے ۔۔ جنہیں معاشرتی ناانصافیوں نے اس گڑھے میں دھکیلا۔۔اب میرا اکثر وقت عباس خان کے پاس گزرنے لگا۔ وہ عدلیہ میں آتو گئے تھے لیکن ان کے اندر کا ادیب اس سارے سسٹم کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھا ۔ و ہ جانتے تھے ان کے نیچے عملہ عدالتی نظام میں پھنسنے والوں کا جو حشر کرتا تھا۔ محض ایک پیشی لینے یا نقل حاصل کرنے والوں سے روزانہ سینکڑوں نذ رانہ وصول کیا جاتا تھا۔ ۔ میں نے ایک دن عباس خان سے پوچھا کہ وہ فیصلے کرتے ہوئے خاص طور پر کسی کو موت سزا دیتے ہوئے کیسا محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا میں کوشش کرتا ہوں کہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ہو اور اگر میری اس کوشش میں کوئی گناہ گار چھوٹ بھی جائے تو میں غمزدہ نہیں ہوتا تھا کیونکہ میں جانتا ہوں آگے ایک بڑی عدالت خدا وند کریم کی بھی ہے جہاں یہ اپنے گناہ کی سزا پالے گا۔ لیکن اگر کسی بے گناہ کو میرےکسی فیصلے سے سزا مل گئی تو میں آخرت میں اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکوں گا ۔ کسی کو سزائے موت دینے کے بعد میں اس دن ساری رات سو نہیں سکتا۔ ایک روز میں نے ان سے یہ سوال کیا کہ وہ رشوت کے بالکل قریب نہیں پھٹکتے۔ جبکہ ارد گرد کی دنیا میں بہت سی آسائشیں اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ کیا آپ کو کبھی خیال نہیں آتا۔ کہنے لگے ہاں جب کبھی کبھی میری بیوی میرے معاشی حالات کا موزانہ دیگر رشوت خوروں سے کرتی ہے اور شکایتی نظروں سے میری طرف دیکھتی ہے تو میں اس کا سامنا نہیں کر پاتا۔۔ لیکن پھر میں اسے اپنے سے بھی زیادہ تنگدستوں کاذ کر کرکے مطمئن کر دیتاہوں ۔ الیکشن کے ان ایام میں عباس خان صاحب کی رفاقت نے مجھے بہت حوصلہ دیا۔ اور شاید ملازمت کے آغاز میں انہوں نے اس حوالے سے میری کافی سائیکوتھراپی کردی۔۔ جو مجھے اپنے آ ئیندہ دنوں میں بہت کام آئی۔۔ الیکشن کا جو سب سے زیادہ افسوسناک عمل تھا وہ خواتین لیکچرر ز کی بطور پریذائڈنگ افسر تقرری تھی۔ کیونکہ پولنگ اسٹیشن پر پولنگ کا تمام سامان لے جانا ان کی ذ مہ داری تھا۔ انتظامیہ پولنگ ڈے سے ایک دن قبل پولنگ بیگ اور ڈبے ان کے سپرد کرکے دور دراز کے اسٹیشن پر انہیں پہنچنے کا حکم جاری کر دیتی تھی ۔ پولنگ کا دیگر عملہ ان سے تعاون نہیں کرتا تھا۔ ایک خاتون کے لئے اس سے بڑی مصیبت کیا ہوسکتی تھی۔ اور پھر ہمارے معاشرے میں خاتون کی جتنی عزت کی جاتی ہے وہ ہم سب جانتے ہیں ۔الیکشن کے تمام دن وہ سیاست دانوں اور ان کے سپورٹروں کی طرح طرح کی باتیں سنتی ۔ پولنگ ختم ہونے کے بعد دیگرعملہ اپنے اپنے گھروں کو بھاگ جاتا اور یہ خواتین تمام سامان سمیٹ کر ریٹرننگ افسر کے دفتر پہنچتی جہاں انہیں بعض اوقات ریٹرننگ افسران کی جھاڑ بھی سننا پڑتی۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker