سرائیکی وسیبقسور سعید مرزاکالملکھاری

ن، جنون اور لودھراں : ایک نظر ادھر بھی / قسور سعید مرزا

امر واقع یہ ہے کہ حکمران و ممبران اسمبلی عوام ہی سے اٹھتے ہیں اور ان پر مسلط ہوتے ہیں۔ آج جو سیاسی لیڈر ہیں اور کل جو حکمران بنتے ہیں، وہ عوام کی پسند کے نتیجے میں آتے ہیں۔ کوئی شخص عوام کی خواہش کے بغیر تو لیڈر نہیں بن جاتا۔ عوام کندھا پیش کرتے ہیں تبھی تو کوئی ان پر سوار ہوتا ہے۔ عوام اپنی پیٹھ جھکاتے ہیں، تبھی تو کوئی ان پر کاٹھی ڈالتا ہے۔ عوام کان دیتے ہیں تبھی تو کوئی ان میں کچی پکی باتیں ڈالتا ہے۔ عوام آنکھیں بچھاتے ہیں، تبھی تو کوئی منظور نظر بنتا ہے۔ عوام سٹیج بناتے ہیں تبھی تو کوئی ڈرامہ کرتا ہے۔ عوام نعرے لگاتے ہیں، تبھی تو کوئی غبارے کی طرح پھولتا ہے۔ عوام گلا پھاڑتے ہیں، تبھی تو کوئی زندہ باد ہوتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری سیاسی منڈی میں جو مال دستیاب ہے وہ کوئی نیا نہیں ہے۔ نہ پارٹی اور نہ لیڈر‘ دیکھے بھالے چہرے ہیں۔ آزمائے ہوئے کردار ہیں۔ کھنگالے ہوئے لوگ ہیں جانچے پرکھے گروپ ہیں۔ اس کے باوجود ہر بار نیا لطیفہ اور شعبدہ ظہور پذیر ہوجائے تو اس کی ذمہ داری لیڈروں اور حکمرانوں پر کم اور عوام پر زیادہ عائد ہوتی ہے۔ ہر حلقے کے عوام کا یہ مشترکہ دکھ اور گلہ ہے کہ ہمارے نمائندے پلٹ کر ہماری بات نہیں پوچھتے۔ ان سے اس لئے ناراض نہیں ہوتے کہ وہ نااہل ہے‘ بددیانت ہے‘ جاہل ہے‘ یا بے بس ہے بلکہ اس لئے کہ ممبر نے ہمارا کوئی عزیز کسی محکمہ میں بھرتی نہیں کرایا‘ یا کوئی ٹھیکہ لے کر نہیں دیا‘ یا پرمٹ منظور کرا کر نہیں دیا یا کسی عزیز یا عزیزہ کا تبادلہ نہیں ہوسکا۔ راقم چونکہ اپنے زمانہ طالب علمی سال 1969ءسے نہ صرف جمہوری نظام کا مشاہدہ کرتا آرہا ہے بلکہ جمہوریت بحالی کی جدوجہد ہو یا آزادی صحافت کی تحریک۔ ایک کارکن کی حیثیت سے عملی طور پر بھرپور حصہ لے چکا ہے۔ لودھراں سے قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 154 ہمارا ہمسایہ حلقہ ہے۔ یہاں میری دوستیاں اور ذاتی تعلقات ہیں۔ پچھلے چار برسوں میں تین مرتبہ جہانگیر خان ترین کو یہاں الیکشن لڑنا پڑا۔ صدیق بلوچ کی سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد 2015ءمیں جہانگیر ترین نے دوسری باری الیکشن لڑا۔ صدیق خان بلوچ کی انتخابی مہم میں حصہ ڈالنے کے لئے وزیراعظم نوازشریف لودھراں پہنچے اور کروڑوں روپوں کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ یہ الیکشن جہانگیر ترین نے ایک لاکھ اٹھائیس ہزار ووٹ حاصل کرکے جیتا تھا جبکہ صدیق خان نے 73 ہزار ووٹ لئے تھے۔


ہر پولنگ سٹیشن پر ترین خان نے کامیابی حاصل کی تھی اس کے بعد جناب ترین کا زیادہ تر وقت الیکشن کمیشن آف پاکستان اور سپریم کورٹ میں اپنے مقدمات کی پیروی کرنے میں گزرا۔ جہانگیر ترین کو جب سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تو ان کو دوبارہ اپنا حلقہ یاد آیا۔ ان کی غیرحاضری میں انتخابی حلقہ ان کے تنخواہ داروں منیجروں‘ کارداروں اور منشیوں کے حوالے کردیا گیا۔ ظاہر ہے ملازمین کا کیا داﺅ پر لگا ہوتا ہے‘ دیہاتی لوگوں کو ان سے ویسے ہی چڑہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ ڈیرہ بند ہوگیا۔ شروع شروع میں تو ایسا لگ رہا تھا کہ علی ترین کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ صدیق خان بلوچ نے بھی انتخاب لڑنے سے ہاتھ کھڑے کردیئے تھے۔ جہانگیر ترین کے جیت جانے کے باوجود تھانہ کچہری میں صدیق خان بلوچ کی ہی بات زیادہ مانی اور سنی جاتی تھی کیونکہ ان کو مسلم لیگ کی پوری حمایت اور میاں نوازشریف کی کھلی آشیرباد حاصل تھی لیکن صدیق خان بلوچ سے احمد خان بلوچ اور پیر رفیع الدین شاہ ایسے بااثر حضرات ناراض تھے کہ ان کے کام نہیں ہورہے۔ ظاہری طور پر حالات علی ترین کے حق میں نظر آرہے تھے لیکن سابق وزیر خارجہ محمد صدیق خان کانجو مرحوم کے ہونہار صاحبزادے وفاقی وزیر عبدالرحمن کانجو آگے بڑھے اور بڑی محنت کے ساتھ مقامی مختلف سیاسی دھڑوں کو رام کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ روٹھے ہوئے دوستوں اور بزرگوں کو منا لیا۔ 2013ءکا الیکشن کانجو گروپ نے آزاد حیثیت میں لڑا تھا اور ضلع لودھراں میں سویپ کیا تھا۔ انتخابات کے بعد یہ گروپ ادھرادھر ہوگیا تھا مگر 2 فروری کے بعد عبدالرحمن کانجو نے دن رات ایک کردیا۔ بھرپور طریقے سے منصوبہ بندی کی۔ احمد خان بلوچ کو منایا۔ پیر رفیع الدین شاہ کو واپس کانجو گروپ میں شامل کیا گیا۔ ہر بڑے گھرانے کے در پر حاضری دی۔ 72 سالہ بزرگ پیر سید اقبال شاہ ضلع کونسل کے ممبر تو منتخب ہوتے رہتے تھے۔ ان کے ایک بھائی بھی ضلع کونسل کے ممبر ہیں۔ ان کا بیٹا عامر اقبال شاہ ایم پی اے ہے۔ ان کے خاندان نے 30 سال پہلے 40 ایکڑ رقبہ زمین ترقیاتی کاموں کے لئے وقف کی تھی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے چلائی جانے والی مہم میں روایتی رنگ موجود تھا۔ کروڑوں روپے میڈیا کو اشتہارات کی مد میں دیئے گئے جبکہ دوسری جانب عبدالرحمن کانجو نے بڑے منظم طریقے سے سید اقبال شاہ کی مہم چلائی۔ فوٹو سیشن پر کوئی توجہ نہیں دی اور نہ ہی میاں محمد نوازشریف‘ میاں شہبازشریف یا حمزہ شریف کو اس انتخابی مہم میں لانے کی کوشش کی بلکہ ان کو انتخابی مہم سے دور رکھ کر عبدالرحمن کانجو نے اپنی جٹا کی سیاسی بصیرت کا ثبوت دیا۔ بڑی خاموشی کے ساتھ اپنی کنونسنگ میں لگے رہے اور شاندار رزلٹ دیا۔ دیہاتی علاقوں میں ترقیاتی کاموں اور سڑکوں کی تعمیر سے زیادہ اس رویہ کو اہمیت دی جاتی ہے کہ لوگوں کی خوشی میں کون میں شریک ہوا اور غم میں آکر کس نے پرُسا دیا۔ ڈیرے پر کون ملا اور سائل کے ساتھ فوراً کون چل پڑا۔ میرے دوست صدیق خان کانجو مرحوم نے لودھراں کو ضلع بنوایا تھا لیکن اگلا انتخاب ہار گئے تھے۔ دیہاتی زندگی کی ہمدردی‘ وفا اور روایت پسندی شہری زندگی کی مفادپرستی سے دور ہوتی ہے۔ یہ کہنا کہ ایک پڑھے لکھے نوجوان کی نسبت لوگوں نے ایک ایسے بزرگ کو منتخب کیا ہے کہ جن کو صحیح طور پر اردو بولنا بھی نہیں آتی۔ لوگوں کے شعور کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ ایسا کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ 1970ءمیں سکھر سے علی حسن منگھی نے عبدالحفیظ پیرزادہ کے والد عبدالستار پیرزادہ کو شکست دی تھی۔ بھٹو صاحب نے اس حلقہ کو اوپن چھوڑا تھا اور پارٹی ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ اسی طرح الحاج رانا تاج احمد نون نے بار ایٹ لا مخدوم حامد رضا گیلانی کو شکست دی تھی۔ 1988ءمیں حاجی محمد اقبال ہراج نے سید فخرامام کو شکست دی تھی۔ حلقہ 154 میں اپ سیٹ ضرور ہوا ہے لیکن نو عمر علی ترین نے 91 ہزار ووٹ حاصل کئے۔ یہ بھی بہت ووٹ ہیں۔ اگر جہانگیر خان ترین نے ایک لاکھ 28 ہزار ووٹ حاصل کئے تھے تو 91 ہزار ووٹ بھی جہانگیر خان ترین کو ملے ہیں۔ جہانگیر خان ترین اگر دور کا سوچتے اور تین چار ماہ کے لئے پیر رفیع الدین شاہ کو آگے کر دیتے تو کونسی قیامت آجاتی۔ اگلے عام انتخابات میں شاہ صاحب کو اپنے نیچے ایم پی اے لے لیتے تو جہانگیر خان کو بہت فائدہ رہتا۔ علی ترین لودھراں کی سیاست میں تازہ اضافہ ہے۔ نوعمر ہونے کے باوجود کوئی چھچھورا پن اس میں نہیں ہے۔ اس نے اپنے لئے لوگوں میں اچھا تاثر چھوڑا ہے۔ جمشید دستی نے 177 اور 178 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ایک سیٹ خالی کی تو اس پر اپنے بھائی کو کھڑا کیا لیکن وہ ہار گیا۔ حلقہ 154 میں شکست سے سرائیکی وسیب میں پی ٹی آئی کی سبکی ہوئی ہے۔ عمران خان کو اپنے طرز سیاست پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ اپنے گرد جو Red ٹیپ لگایا ہوا ہے اس کو دور کریں۔ ایک ہفتہ میں ایک جلسہ کر لینے اور ویکلی ٹی وی پر ایک انٹرویو دینے سے اب کام نہیں چلے گا۔ خان کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنا ہوگی جو وقت کے تقاضوں کے مطابق ہی نہیں ہیں نہ انہیں جوڑ توڑ کی سیاست آتی ہے اور نہ ہی یہ ان کا مزاج ہے۔ عمران خان کی محنت اور دیانت میں کوئی شک نہیں لیکن موصوف لائی لگ ہونے کے ساتھ کان کے کچے بھی ہیں۔ اوپر سے ان کے پاس ایسے لوگوں کا گروپ موجود نہیں ہے جو انتخابات کی مدوجذر کو سمجھیں۔ ہر حلقے میں برادریوں کی اہمیت اور مقامی دھڑوں کے مقام کو سمجھتے ہوں جو کامیاب امیدواروں کا پینل بنائیں۔ عمران خان کو صرف ایک حقیقت ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ آئندہ ہونے والے عام انتخابات ان کےلئے آخری چانس ہیں‘ اس میں ان کی جماعت کامیاب ہوگئی تو ٹھیک ورنہ سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارہ ہاوورڈ‘ آکسفورڈ اور کیمبرج سے تعلیم حاصل کرنا اور بہت ہے۔ انتخابات میں جٹا کا وز ڈم‘ حلقوں کا ادراک اور تجربہ کار ہونے کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ یہ وہ ہوتے ہیں کہ جو خود انتخاب لڑنے کی بجائے حکمت عملی ترتیب دینے میں ماہر ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ ن تو انتظامیہ سپیشل برانچ اور آئی بی کی رپورٹوں سے مدد حاصل کر لے گی۔ آپ کے ہاں کون یہ کام کرے گا۔ عمران خان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ Popular Politics اور Power Politics میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ دیہاتی حلقوں میں کارکن الیکشن جتوا سکتے ہیں جیت نہیں سکتے۔ 1986ءکے بعد محترمہ بینظیر بھٹو صاحب کو جو مقبولیت حاصل تھی وہ آج تک عمران خان صاحب کو نہیں مل سکی ہے۔ پیپلزپارٹی سے بھی 1988ءمیں یہ غلطی ہوگئی تھی کہ صوبائی اسمبلی کے لئے پنجاب میں ضرورت سے زیادہ کارکنوں کو ٹکٹ دے دیئے گئے تھے‘ وہ دن اور آج کا دن پنجاب کا اقتدار پی پی پی کے لئے ایک حسرت بن کر رہ گیا ہے اور تو اور جہانگیر بدر ایسا کارکن 1988ءکے بعد کبھی کامیاب نہ ہوسکا۔ یہ اکلوتی کامیابی بھی اس صورت میں ہوئی کہ مقابلہ تین امیدواروں کے درمیان تھا۔
یہ زمینی حقائق ہیں۔ پنجاب میں کے پی کے کی پولیس کی تعریف کرنے اور درخت گنوانے سے بات نہیں بنے گی۔ عمران خان سوچیں کہ جو نااہل ہوا ہے وہ دندناتے پھر رہا ہے۔ آپ کے سینے پر مونگ دل رہا ہے اور جس نے نااہل کرایا وہ انتخاب ہار رہا ہے۔ اپنی سیاسی اونچ نیچ کو سنبھالو۔ پارٹی کے اندر گروپ بندی ختم کرو۔ آپ کی پارٹی گری تو پاکستان کی جمہوریت کو نقصان ہوگا۔ سمجھ نہیں آتی کہ میرے عزیز مرزا ناصر بیگ کو کیا سوجھی تھی کہ مسلم لیگ ن چھوڑ کر واپس پیپلزپارٹی میں چلے گئے اور اپنے بیٹے علی ناصر بیگ کو 154 کے انتخابی دنگل میں اتار دیا۔ آئندہ آمدہ انتخابات میں مخدوم احمد محمود‘ مخدوم سید یوسف رضا گیلانی‘ ملک ربانی کھر‘ مخدوم فیصل صالح حیات اور میاں منظور وٹو کے علاوہ جو بھی پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑے گا وہ بہت ہی جی دار اور حوصلے والا ہوگا۔ خیر یہ ایک علیحدہ موضوع ہے جس پر پھر کبھی بات ہوگی۔ یہ درست ہے کہ لودھراں میں علی ترین کی شکست میں مقامی حالات کا زیادہ عمل دخل تھا۔ یہ ن اور جنون کا میچ کم تھا‘ ترین‘ کانجو کے درمیان زور آزمائی زیادہ تھی۔ سیاست ایک بہتے دریا کی طرح ہے۔ سید اقبال شاہ صاحب کے جیتنے سے بڑے میاں صاحب بے گناہ ثابت نہیں ہوگئے ہیں۔ عام انتخابات کی سائنس اور ہوتی ہے‘ اس کی اپنی ہوا اور لہر ہوتی ہے۔ لوگ تو چاہتے ہیں کہ ایک ایسا انقلاب آئے کہ کسی کی عزت اچھالنے والوں کے سرعام سر اچھال دیئے جائیں۔ لوگوں کے پیٹ کاٹنے والوں کے پیٹ پھاڑ دیئے جائیں‘ سیاسی‘ سماجی اور معاشی تمام ”مہاشے“ سرعام تماشے بنا دیئے جائیں تاکہ استعداد اور انصاف واحد معیار رہ جائے۔
( بشکریہ : روزنامہ خبریں )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker