حنا عنبرینکالملکھاری

محبت زندگانی ہے ۔۔ حنا عنبرین

محبت وہ جذبہ ہے جو ساری کائنات کے لیے ایک ایسے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے جس کے گرد تمام تر سیارے گردش کر رہے ہیں۔ یہ وہ لمس ہے جسے حاصل کر کے تنِ ناتواں کائنات کو تسخیر کرنے چل پڑے ، ٹمٹماتے چراغوں کو ضیائے تازہ بخشے، پہاڑوں کا سینہ شق کر دے، بھٹکے ہوؤں کو وہ راہ دکھا دے جس کی منزل کا نام فلاح ہے۔ محبت کائنات کی سانس ہے ، دھڑکن ہے اور کائنات کی نبض ہے۔ محبت کے بغیر دنیائے رنگ و نور کا تصور محض ایک اجڑے کھنڈر سے زیادہ نہ ہوگا۔ محبت آنکھوں میں روشن زندگی کی تمنا، دل میں جاگزیں دھڑکنوں کا تال میل اور سانسوں میں کھلتی مہک کا دوسرا نام ہے۔ یہ جذبہ ہر گز ایک کم تر جذبہ نہیں بلکہ کائناتی جذبہ ہے۔۔۔۔ کبھی پروردگار کی انسان پہ رحمت کے روپ میں ، کبھی برگزیدہ ہستیوں کی فلاح سے معمور اذانوں کے روپ میں کبھی ماں کی اپنی اولاد کے لیے توجہ انہماک کے روپ میں ، کبھی بھائیوں بہنوں کبھی اولاد اور کبھی والدین کے لیے بے لوث خدمت کے روپ میں یہ جذبہ ہمیں متموج دکھائی دیتا ہے۔محبت وہ جذبہ ہے جو کبھی اکلاپے کا شکار ہو کر بارگاہ ایزدی میں خاموش التجائیں کرتا ہے تو کبھی دیوانگی اوڑھ کر دشت کو نکل جاتا ہے کبھی زم زم کے نعرے لگاتا ہے تو کبھی لق و دق صحرا میں ایک جہان رنگ و بو کو آباد کر دیتا ہے۔۔ غرضیکہ یہ ایک ایسی نعمت ہے جس نے معاشرے اور معاشرے کے نظام کو اس قدر ربط اور حسنِ ترتیب سے جوڑ کر رکھا ہے کہ ہم دنیا کے دوسرے معاشروں کے تقابل میں اپنے معاشرے کو اسی جذبے کی فراوانی کے باعث قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہی سوچتے ہوئے ہم نے اس موضوع پہ مندرجہ ذیل سطور میں کچھ کہنے کی کوشش کی ہے ۔ ذیل میں ہم اربابِ عقل و دانش کی اس موضوع پر آراء جانتے ہیں :
محبت کا لفظ حب سے نکلا ہے جس کا معنی ہے کنواں ۔اسی طرح اسے چاہت بھی کہتے ہیں اور چاہ کا مطلب ہی کنواں ہے عشق خدا کا نور ہے عشق کا آغاز عین سے ہوتا ہے عین کا ایک مطلب چشمہ بھی ہوتا ہے جسے عینک کہتے ییں اور ایک چشمہ دل میں بھی پھوٹتا ہے ۔محبت کا مادہ ہے حبۃ جس کا معنی ہے دانہ۔ایک دانہ جس وقت زمین میں دبا دیا جاتا ہے پھر اسے پانی دیا جاتا ہے اس پر معاملات ہوتے ہیں وہی دانہ اناج کی شکل اختیار کرتا ہے جب محبت کو دل میں موجزن کر لیا جاتا ہے تو یہ ثمر بار ہوتا ہے پھر اس سے کیفیات نکلتی ہیں انسان اپنی اچھی کیفیات سے پہچانا جاتا ہے کہ واقعی یہ محبت کرتا ہے اور حضرت جنید بغدادی ؒفرماتے ہیں کہ محبت یہ ہے کہ انسان اپنے دل کی جتنی بھی خواہشات ہیں ان کو نکال دے جو کچھ اس کے محبوب کی مرضی اور تمنا ہے اسے اپنے اوپر لاگو کر دے۔ جب دل کے کنوئیں میں اچانک یا درجہ بدرجہ کوئی پھول کھلنے لگے کوئی انگڑائی مچلنے لگے جب کوئی کلی سر اٹھانے لگے تو روح کی روشنی پورے وجود کے گرد ہالہ بنانے لگتی ہے محبت کی کیمسٹری اگر آپ پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ محبت میں گرفتار جوڑے کے وجود سے کون سے اینزائم خارج ہوتے ہیں اینڈ رائن گلینڈز کس طرح محبوب کو ٹرانس میں مبتلا رکھتا ہے ۔ ایک چشمہ ہے جو دل سے پھوٹتا ہے جو روح کے گیتوں کو وجود میں جاری کر دیتاہے جو رقص درویش کراتا ہے محبوب کے حسن کی ایک جھلک عین سے ہوتی ہوئی قلب کو شق کرتی ہےاور قلب کے اندر موجود عشق کے سواد کو بے دار کرتی ہے یہ وہی نقطہ کمال ہے جس کے لیے رب نے اپنے بندے کو پیدا کیا کہ وہ اپنے رب کا عرفان حاصل کرے اس کو تلاش کرے ا ور کربلا کے میدان میں کھڑا ہو جاۓ ،آرے سے چیرا جاۓ،آگ میں داخل ہو جاۓ ،پہا ڑ سے گرا دیا جاۓ یا پھر سنگ باری میں بھی سنگ برسانے والے کو دعا دے ۔ محبت دل کا راگ ہے عقل اس سے مبرا ، محبت کا کوئ دوسرا مطلب نہیں ھے ۔محبت آدم کے بچوں کی فطرت ہے محبت انسان کی ضرورت ہے۔ انسان کی زندگی میں صبر و شکر کا بڑا درجہ ہے صبر مصیبت کو ٹالتا ہے شکر نعمت کو بڑھاتا ہے اور محبت خوشیوں کا خزانہ ہے بندے اور اللہ سے محبت کا فرق یہ ہے کہ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی کمزوری بن جاتی ہے اور اللہ کی محبت انسان کی سب سے بڑ ی طاقت بن جاتی ہے کوئی انسان کسی سے محبت کرے تو اس پر احسان کرتا ہے اور سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ آپ کسی کی اصلاح کریں اور اسے جہنم سے بچا کر جنت کا راستہ دکھا دیں ۔ : (مگر کیا محبت ایک نشہ ہوتی ہے سائینس کیا کہتی ہے؟) سائینس کے مطابق ایسا بلکل ممکن ہے محبت کی آگ سر سے پیر تک محسوس ہوتی ہے اور آہ کو بناتی ہے زیادہ گرم جوش اور آپ کو اردگرد دھندلا سا نظر آنے لگتا ہے اس سے بڑھ کر یہ آپکے سوچنے کے انداز تک کو بدل دیتی ہے یہ آپ کو ہوا میں اڑاسکتی ہے جب کوئی نیا نیا محبت میں گرفتار ہوتا ہے تو انتہائی فرحت اور خوشی محسوس کرنے لگتا ہے اور اس کا تعلق محبوب سے ہونے والی ملاقاتوں سے بلکل نہیں ہوتا ہے نہ عجیب بات ! مگر جب نیو یارک کے البرٹ سٹائن میڈیکل کالج کے سائینس دانوں نے محبت میں گرفتار طالب علموں کے دماغوں کا اسکین کیا تو معلوم ہوا کہ اس سے دماغ کا وہی نظام سر گرم ہوتا ہے جو کوکین لینے پر ہوتا ہے اس سے محبت میں گرفتار شخص راحت محسوس کرنے لگتا ہے تو یہ کوئی دیوانہ پن نہیں ہے یہ تو ہمارے دماغ کی کارستانی ہے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker