استعماری طاقتوں کی تغیر پذیری نظریه ضرورت کے تحت اپنی مکروهات کی پوری آب و تاب کے ساتھ ایک بار پھر پاکستان اور افغانستان کی عوام کے ساتھ بھیانک مذاق کرنے جارهی هے کہ بازی جب پلٹے گی تو سابقه دودهایوں کے شهید دهشت گرد اور دهشت گرد شهید کا روپ دھار لیں گے۔روس کے خلاف بر سر پیکار طالبان امریکه و پاکستانی استعماریت کے مشترکه محاذ کے فرنٹ لائن کے مجاهدین قرار دیے گیےاور طالبان سے قتل هونے والے تمام لوگ جهنمی قرار دے دیے جاتے تھے اور الله و اکبر کے نعروں کو دنیا میں فتح کے استعاره کے طور جانا جانے لگا۔استعماری عالمی طاقت کے هاتھوں نام نهاد مسلم حکومتیں بھی اس جنگ کا حصه رهیں اور روس کا شیرازه بکھرنے پر فتح کے دف بجے تو صورتحال نے پلٹا کھانا شروع کیا که اسلامی نظام کے نفاذ کے نام پر اکسائے جانے والے شهادت سے بچ جانے والے مجاهد گروپس کی حوصله شکنی کا عمل شروع هوا چونکه استعماری طاقتوں کے مطلوبه نتائج شاید حاصل هو چکے تھے مگر طالبانایزیشن خصوصا پاکستان اور افغانستان کے عوام کی نظر میں اپنا نقطه نظر چارو نا چار اهمیت اختیار کر هی چکا تھا که پاکستان میں معصوم لوگوں کی قتل و غارت بم دھماکوں ایسا سلسله شروع کیا گیا اور ناین الیون کے سانحه کو طالبان سے جوڑ دیا گیا اور ان کو آفیشل دهشت گرد ڈیکلیر کر کے طاقتور جواز بنا کر اپنی پیدا کرده عفریت کو کچلنے کے لیے سیو دا ورلڈ کے نام سے باقاعده قتل و غارت گری کا بازار گرم کر دیا گیا اور یوں بس ایک دهائی قبل هی سکه بند شهادت کا رتبه پانے والے جهنمی قرار پاے اور حمله آور شهید قرار پانے لگے۔
استعماریت کی عظیم مثال کیا هو گی که روسی حمله آور کے خلاف شهادت اور اورمتحده ورلڈ کے محاذ کے حمله آور شهادت کا رتبه حاصل کرنے لگے۔عوام کی ذهنی حالت خراب هو گی که اب کیا سمجھا جائے۔جبکه امریکه ورلڈ محاذ کے خلاف بر سر پیکار دهشت گرد طالبان نے عام لوگوں کا قتل عام بھی شروع کر دیا۔ دنیا کے حاکم امریکه اور اپنے مقروضوں کے موقف نے دنیا بھر کے عوام کو لندن فرانس میں بھی قتل و غارت دیکھنے کو ملی دنیا کے تمام مظلوم عوام نے اپنے مسلط حاکموں کے موقف کی چارو ناچار تائید تو کی مگر افغانستان پاکستان میں استعماری کلنگ ورلڈ آرڈر کے تحت معصوم بچوں عورتوں کی بے گورو کفن لاشوں په بھی مذمت دیکھنے میں رهی که آخر خون نا حق استعمار زدگان کا کم از کم ایک جیسا هوتاهے۔کابل دھماکوں سانحه اے پی ایس په تو جیسے استعمار زدگان تڑپ هی اٹھے که دنیا بھر کی مائیں مذهب نسل سے بالا راتوں کو اٹھ کر چیختی اور روتی رهیں که یه بھی سچ هے که استعمار ذدگان کی مائیں بھی سانجھی هوتی هیں۔اور ایک چیخ بلند هوئی که ختم کر دو اب ان دهشت گردوں کو۔مگر یه کیا که پوری دنیا کی فوج کی طاقت ماند پڑتی نظر آ رهی هے یا پھر جو مقاصد تھے وه حاصل هو گیے هیں که ایک دم ورلڈ پاورز نے طالبان کو مذاکرات کی دعوت دے دی اور جلد ان کے وفود پاکستان کے وزیر اعظم سے بھی ملاقات کرنے والے هیں۔بڑی طاقتوں سے افغانستان سے نکلنے کے لیے اپنے مقروضوں سے رابطے پیدا هوے اور دنوں میں هی پیش رفت هو گی۔کون لوگ تھے دو دهایوں سے که جنهیں شکست دی جاتی رهی؟۔کیسے تخمینه لگایاجا سکتا هے گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کا؟
کیا ایسا نهیں که استعماری قوتیں ایک بار پھر عوام کو دهشت گردوں کے بیچ نهیں چھوڑ رهے اور عوام ایک یه سوال بھی هے که اب هم طالبان کو مجاهد سمجھیں یا دهشت گرد؟
کیا ورلڈ محاذ پسپا هو گیا هے تو کیا دنیااب مجاهدین یا دهشت گردوں کے رحم و کرم په هو گی۔یه سوالات آنے والی ایک دهائی کے اندر اپنے اثرات واضح کر دیں گے مگر ان سوالات کے جواب دنیا بھر کے استعمار زدگان کو کون بتاے گا؟
فیس بک کمینٹ

