اختصارئےسرائیکی وسیبلکھاری

جب منو بھائی ملتان آئے ۔۔ رشید ارشد سلیمی

خوشحال پاکستان اور مثالی ریاست کے متلاشی ترقی پسند صحافیوں ظہیر بابر،حمید اختر،منہاج برنا،سید عباس اطہر،شفقت تنویرمرزا ،عبداللہ ملک کے بعد نظریاتی اور ترقی پسند صحافی ، ادیب،دانشور،قلمکار ،ڈرامہ نویس اور پنجابی زبان کے انقلابی شاعر منو بھائی بھی لاکھوں مداحوں کو سوگوارچھوڑ کر خالق حقیقی سے جاملے۔ان کی جدائی کاصدمہ گزرتے وقت کے ساتھ کم ہوہی جائے گا لیکن ان کی خوشگوار یادیں اور ان کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات ہمیشہ ہمارے لیے طمانیت کاباعث بنے رہیں گے۔
1966ءمیں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کرنے کے بعد مَیں 1967ءمیں روزنامہ امروز لاہور سے سب ایڈیٹر کے طورپر منسلک ہوا ۔منو بھائی کامیں نے صرف نام سن رکھا تھا ۔ان کے قریبی عزیز نامور پنجابی ادیب و دانشور شفقت تنویر مرزا دفتر میں میرے سینئر ساتھی تھے ۔ مرزا صاحب ،میرے استاد محترم عباس اطہر اور سید اکمل علیمی ان کا ذکرخیر کرتے رہتے تھے۔چندماہ کے بعد ہی منو بھائی لاہور آفس آئے تو شفقت تنویر مرزا نے میرا ان سے تعارف کرایا۔ان کا پیار بھراانداز اس قدر متاثر کن تھا ۔ایسا محسوس ہوا کہ ہم ایک دوسرے کوبرسوں سے جانتے ہیں ۔1969ءمیں میں ٹرانسفر ہو کرملتان آگیا۔منو بھائی سے تعلق انتہائی مضبوط اورمستحکم ہوگیا ۔جب 1970ءمیں ملتان سے روزنامہ جسارت اشاعت پذیر ہوا اور امروز ملتان کے چیف رپورٹر ریاض چوہدری مستعفی ہو کر جسارت کے ایڈیٹر بند گئے ، تو پی پی ایل کی انتظامیہ نے منو بھائی کو راولپنڈی سے ٹرانسفر کرکے امروز ملتان کا چیف رپورٹر مقرر کردیا۔منوبھائی کو ملتان آنے کے بعد رہائش کا مسئلہ پیدا ہوا تو میں نے اپنے ایک قریبی دوست نواز کھچی سے جو میلسی کے بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے،ان کا مکان واقع طارق روڈ ڈھائی صدکرایہ پردلوادیا اور منوبھائی کے ساتھ دفتر کے فولڈر محمود ایاز جو خاکسار تحریر کاسرگرم کارکن بھی تھا،اٹیچ کردیا جو منوبھائی کاکھانا پکاتاتھا اور گھر کا سارا کام کرتاتھا۔پھرجب منوبھائی لاہور چلے گئے اورمساوات جوائن کرلیا تومنوبھائی اس کو اپنے ساتھ لے گئے ۔محمود ایاز نے منو بھائی کی اتنی خدمت کی اورمنوبھائی نے اس کا اپنے بھائیوں کی طرح خیال رکھا۔محمود ایاز منو بھائی کوچھوڑنے کاتصور نہیں کرسکتا تھا اور منوبھائی اسے اپنے آ پ سے الگ کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتے تھے۔ محمود ایاز اپنی وفات تک ریواز گارڈن میں ان کے گھرپرہی رہا۔منوبھائی نے کئی بار مجھے باور کرایا کہ سلیمی تو نے جو مجھے ہیرا دیا ہے اس پر میں تمہارا سار ی زندگی ممنون و مشکوررہوں گا ۔منوبھائی نے ملتان میں سروس کے دوران مسلسل ادبی تقاریب میں شرکت کی۔وکلاء،دانشوروں ،صحافیوں کے ساتھ گہرا تعلق رکھا وہ انتہاءدرجے کے غریب نواز، انسان دوست تھے۔ایک رپورٹر کے طورپر ان کی ترجیح محنت کشوں ،مزدورں،طلباءاوردکھی ا نسانوں کے مسائل کو اجاگر کرنے ،ان کی نمایاں طورپر خبروں کی اشاعت اور ان کے مسائل حل کرنے پر رہی۔وہ بعض گھریلو مسائل اورالجھنوں سے دوچار رہا لیکن اس کااظہار کبھی اپنے دوستوں اور رفقاءکار کے ساتھ نہیں کیا۔وہ ساری زندگی خوشحال پاکستان مثالی اور رفاہی ریاست کے قیام اور استحصال سے پاک معاشرہ کی تشکیل کی جدوجہد میں مصروف رہا۔وہ ایک ترقی پسند اور نظریاتی فکر کے صحافی تھے ۔ساری زندگی نظریاتی سوچ قائم رکھی ۔زمانے کی سختیوں اور جابر حکمرانوں کے دباﺅ کے باوجود ذہنی و فکری نظریات ترک کرنے پر آمادہ نہ ہوئے اور اپنے قلم کا سودا نہ کیا اور نہ ہی ساری زندگی حکمرانوں سے کسی قسم کی مراعات حاصل کیں۔جب دانشور،صحافی اورترقی پسند سیاستدان حنیف رامے پنجاب کے وزیراعلی بنے توانہوں نے ریواز گارڈن میں صحافیوں اوردانشوروں کو آسان شرائط پر پانچ اورسات مرلے کے فلیٹ الاٹ کیے ۔منوبھائی آخری وقت تک اپنے اہل خانہ کے ساتھ اسی سات مرلے کے مکان میں رہائش پذیر رہے ۔وہ پیشہ صحافت میں آنے کے بعد اپنے دکھ درد اورمعاشی الجھنوں کو بڑی پامردی کے ساتھ اپنے دامن میں سمیٹے رہے ۔بقول قتیل شفائی
پھیلا ہے ترا کرب قتیل آدھی صدی پر
حیرت ہے کہ تو اتنے برس کیسے جیا ہے
جن حالات کا وہ سامنا کررہے تھے اور دکھی انسانیت قیام پاکستان کے وقت جس کرب سے گزررہی ہے اس کااظہار انہوں نے اپنی شاعری میں برملا کیا
جیہڑا اپنے ویلے کوہلوں ڈر جاندا اے
اوسے ویلے مرجاندا اے
جیہڑا جتھے رک جاندا اے
اوسے تھاں تے مک جاندا اے
ملک کے نامور شاعر باقی صدیقی نے بھی اس کیفیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا
ملتا ہے جہاں کوئی چمکتا ہوا ذرہ
رکتے ہیں وہیں لوگ بھٹکتے ہیں وہیں لوگ
منوبھائی اپنی خوبصورت تحریر ندرت خیال سے اپنے افکار کو اجاگر کرتے رہے اور وہ اکثر کہا کرتے تھے ۔”موت انسان کے مرنے سے نہیں آتی بلکہ احساس کے مرنے سے آتی ہے“ ۔منوبھائی نے گزشتہ کئی سالوں سے بچوں کی پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے سندس فاﺅنڈیشن قائم کررکھی تھا اور اپنا زیادہ تروقت اس مشن کے لیے وقف کررکھاتھا۔اب انہوں نے اسے منو ہسپتال کی شکل دے دی تھی ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ادیب ،شاعر اورصحافی نہ صرف ان کے نظریات وافکار کو مشعل راہ بنائیں بلکہ دکھی انسانیت کی خدمت ،غریبوں کے بچوں کے علاج کے مشن کو زندہ وتابندہ رکھیں۔
ہردور کا سقراط یہاں زہربہ لب ہے
شاید یہی انسان کی عظمت کا سبب ہے
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker