رضی الدین رضیسرائیکی وسیبکالملکھاری

پنجابی کانفرنس ، ساقی فاروقی اور لیہ کا مشاعرہ ہوتل بابا کا کالم ( 4 ) ۔۔ رضی الدین رضی

اس مرتبہ ہم اپنے کالم کی ابتداءاس تقریب کے احوال سے کررہے ہیں جس کااہتمام لیہ میں اردو اورپنجابی کے شاعر میاں مقبول احمد نے کیا۔یہ تقریب مشاعرے کی تھی اور شرکت کے لیے پنجاب بھر سے شعراءکومدعوکیاگیاتھا۔ملتان سے چونکہ میاں صاحب کا خصوصی تعلق ہے اس لیے اس شہر کے بہت سے شاعروں نے مشاعرے میں شرکت کی۔عاصی کرنالی ،پرواز جالندھری ،حسین سحر ،اقبال ارشد،نوشابہ نرگس،حسن رضا گردیزی،ناہید نانوقریشی،رضی الدین رضی،قمررضا شہزاد،حسنین اصغر تبسم کوتوباقاعدہ مدعوکیاگیا لیکن طائرلاہوتی قسم کے کچھ لوگ بن بلائے پہنچ گئے اورضد کرنے لگے کہ انہیں بھی مشاعرہ پڑھوایا جائے۔میاں صاحب کی وضع داری ملاحظہ فرمائیں کہ انہوں نے بن بلائے شاعروں کوبھی نہ صرف یہ کہ پڑھایا بلکہ معاوضہ بھی دیا۔مشاعرے کی نظامت کے فرائض حسین سحر کے سپردتھے اوروہ ”مشاعراتی مسائل“ سے نمٹنے کافن بھی خوب جانتے ہیں۔طاہرتونسوی کی ایک نظم کے قافیے مزید ،شدید اور دید وغیرہ تھے ۔وہ نظم سنارہے تھے کہ پنڈال سے آوازآئی ،سب سے اہم قافیہ تو انورسدید ہیں ۔اسے کیوں چھوڑدیا۔یہ جملہ سننا تھا کہ طاہرتونسوی کی سانس پھول گئی۔تونسوی صاحب کو غزل کے اس مصرعے پر خوب داد ملی کہ وہ حسب حال بھی تھا۔
ہمارے بارے میں کچھ نہ لکھنا
بس عبرتوں کی کتاب لکھنا
ادھر لوگوں کی ستم ظریفی دیکھیں کہ انہوں نے بھی یہ مصرعہ باربار سنا ۔مشاعرہ ختم ہونے کے بعد طاہر تونسوی کو احساس ہوگیا کہ قمررضاشہزاد اوررضی الدین رضی انہیں ہوٹ کررہے تھے۔اس پر وہ ایک دفعہ پھر سٹپٹا گئے ۔ان کاخیال تھا کہ ان دونوں نوجوانوں کو انور سدید نے خاص طورپر لاہور سے لیہ مرسل کیاتھا یا پھر حسین سحر انہیں اسی مقصد کے لیے ملتان سے اپنے ساتھ لائے تھے۔یہ بتانا تو ممکن نہیں کہ کیا سچ ہے اورکیا جھوٹ۔کیونکہ ہم تو اس مشاعرے میں موجودہی نہیں تھے۔ہم تک تویہ خبریں باباہوٹل میں بیٹھنے والے شاعروں کی زبانی پہنچیں اورہم انہیں ”دید شنید“ کی امانت سمجھ کر آپ تک پہنچا رہے ہیں۔
کامرس کالج والے مشاعرے میں ہم موجودضرور تھے لیکن وہاں بھی ہم نے اپنا کلامِ بلاغت نظام نہیں سنایا۔اس سے آپ یہ نہ سمجھیں کہ ہم بھی طائرلاہوتی کی طرح بن بلائے مشاعرے میں پہنچ گئے تھے۔جناب ہمیں باقاعدہ دعوت نامہ ملاتھا اورپروفیسر کالے خان تین مرتبہ ہمیں بلانے بھی آئے تھے لیکن کیا کریں مشاعرہ پڑھناہمارا پیشہ نہیں۔اس مشاعرے میں بھی ہمیں احمد ندیم قاسمی کو دیکھنے کااشتیاق تھا۔اوروجہ یہ تھی کہ ان کی آمد کے بارے میں اخبارات میں خصوصی اشتہارات اس طرح شائع کروائے گئے تھے جیسے عطاءاللہ خان عیسیٰ خیلوی،بندیا،منصور ملنگی یا بنجمن سسٹرز کی آمد پر اخبارات میں اشتہارات دیئے جاتے ہیں۔لوگوں کی بڑی تعداداس شک میں مبتلاتھی کہ قاسمی صاحب اس مرتبہ بھی ملتان والوں کی دعوت کو پذیرائی نہ دیں گے ۔ایم ایم ادیب تو برملا کہہ رہے تھے کہ ہم نے قاسمی صاحب کے نام سے خصوصی ایوارڈ کا اجرا کیا ۔انہوں نے شرکت کاپکاوعدہ بھی کیا لیکن تشریف نہ لائے۔کامرس کالج والے پروفیسر کالے خان کی دلیل یہ تھی کہ مشاعرہ کامرس کالج کے زیراہتمام ہورہاہے اس لیے صرف کمرشل شاعروں کو مدعو کیاگیاہے اورمعاوضہ چونکہ معقول ہے اس لیے کسی کے انکار کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پروفیسرکالے خان کادعویٰ درست تھا ۔ہم نے دیکھا کہ قاسمی صاحب کشاں کشاں ملتان آئے ۔تاہم انہوں نے انتقام یہ لیا کہ اہل ملتان کو اپنی پرانی غزلوں پرہی ٹرخا دیا۔
مشاعرے کے بعد قاسمی صاحب شعرا کرام اور لڑکوں کو چھوڑ کر اس جانب چلے گئے جہاں خواتین ان سے آٹوگراف لینے کی منتظرتھیں۔حال ہی میں ڈاکٹرجمیل جالبی نے ن م راشد پر جوکتاب شائع کی ہے اس میں خواتین کے ساتھ قاسمی صاحب کے التفات کا تذکرہ ہے۔انہی کی کتاب سے ایک پیرا گراف نقل کیے دیتے ہیں۔
”ساقی فاروقی نے شہ پاکر کہا ،راشد صاحب آج میں وہ سب معلوم کرنا چاہتا ہوں جس کی بناءپر آپ اورندیم رنجیدہ خاطرہوئے۔راشد صاحب نے پائپ کا ایک لمبا کش کھینچ کر ہمیں قریب بلالیا ،کہنے لگے ”جس زمانے میں ندیم اورمیں ریڈیو اسٹیشن پشاور میں یکجا ہوئے یہ انہی دنوں کی بات ہے ۔ایک دن وہ میرے دفتر میں آئے اورکہنے لگے ،ریڈیو پر نسوانی آوازوں کی کمی ہے چند خواتین کو سامنے لائیں“۔ میں نے کہا ”خواتین کہاں سے پیدا کروں،دوذہین لڑکیاں آئی تھیں ،انہیں آپ اغوا کیے بیٹھے ہیں۔میں کیاکروں؟“۔یہ فقرہ کہہ کر میں ہنس دیامگر قاسمی صاحب کے چہرے کارنگ اڑ گیا۔وہ غصے میں کھڑے ہوگئے اور باہر چلے گئے۔پانچ سات منٹ بعدواپس آ ئے اور کہنے لگے ”راشد صاحب اگر آپ ن ۔م ۔راشد نہ ہوتے تو میں اتنے ضرور سے طمانچہ مارتا کہ آپ کا چہرہ بگڑ جاتا“۔یہ کہہ کر وہ شدت جذبات سے کانپتے ہوئے کمرے سے باہرنکل گئے“۔۔۔۔راشد صاحب لکھتے ہیں کہ کسی مزے دار فقرے کو سراہنے کا ایسا فقدان میں نے کسی اور میں نہیں دیکھا۔
ملتان کے ادبی حلقوں میں بھی پنجابی کانفرنس کاخاصا تذکرہ رہا۔البتہ سرائیکی والے اس پر پریشان نظرآئے۔کانفرنس میں حنیف چوہدری،غلام حسین ساجد،صلاح الدین حیدر،قمررضاشہزاد اورحسنین اصغر تبسم نے ملتان کی نمائندگی کی۔اور اگر رضی الدین رضی کوبھی ملتان ہی کا نمائندہ شمارکیا جائے تو بھی کچھ مضائقہ نہیں۔کیونکہ یہ عزیز نہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں۔ہروقت اپنی عینک کے میلے شیشے صاف کرتا رہتاہے اورمنہ سے بولتا تک نہیں۔بالکل سلیم اختر کی طرح مردم بیزار ہے۔سنا ہے پنجابی کانفرنس کے ردعمل میں ملتان کے گردونواح میں سرائیکی کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کرلیاگیا ہے۔اور اب سرائیکی کے ایسے جاگیرداروں اورسرپرستوں کو تلاش کیاجارہاہے جو کانفرنس کے انعقاد کے لیے روپیہ فراہم کرسکیں۔سناہے پنجابی کانفرنس میں کھانے پینے کے انتظامات میں جو کوتاہیاں ہوئیں سرائیکی کانفرنس میں ان کاازالہ کیاجائے گااوریہی اس کانفرنس کابنیادی مقصد ہوگا۔آخر میں اہم خبر یہ ہے کہ ممتاز اطہر اوررضی الدین رضی کے درمیان ایک طویل عرصہ سے جو رنجش چلی آرہی تھی وہ بالآخر ختم ہوگئی اوراب رضی جب بھی ملتان آتے ہیں ممتازاطہر انہیں ملنے سے گریز نہیں کرتے۔بظاہر ہونے والی اس صلح صفائی پر لوگ بہت خوش ہیں لیکن اخترشمار اورطائرلاہوتی کی طرح ہمیں بھی اس رنجش کے خاتمے کارنج ہے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ ان کی رنجش کی وجہ سے ہی ہمارے کالموں کی رونق قائم تھی اورہمیں ادیبوں کے ہرکیمپ کی خبریں آسانی سے مل جاتی تھیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ اس صلح کے نتیجے میں ہمارے کالم کارنگ ہی پھیکاپڑجائے۔

پندرہ روزہ دید شنید لاہور۔یکم جون 1986ء

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker