رضا علی عابدیکالملکھاری

جہاں عورتیں بڑی مہارت سے ٹرک چلا رہی ہیں۔۔رضا علی عابدی

میں نے بہت دنیا دیکھی ہے۔ کوئلے کی کا ن تک دیکھ چکا ہوں، سنہ تریسٹھ کے آس پاس کی بات ہے، صدر ایوب خان کوئٹہ کے قریب کوئلے کی ایک کان کا افتتاح کررہے تھے جسے دیکھنے کے لئے اخبار نویس کراچی سے لے جائے گئے تھے۔ میں بھی ان میں شامل تھا۔ کان کیا تھی، پہاڑ میں کھدی ہوئی سرنگ تھی،اندر مشقت کرنے والے مزدور کوئلہ کھود کر باہر لا رہے تھے۔مگر کوئلے کی جیسی کان تھرپارکر میں اسلام کوٹ کے مقام پر د یکھی، میں بھی حیران ہوں اور میری آنکھیں بھی دنگ۔کھودنے والوں کو جب یقین ہوگیا کہ اس ریگستان کی تہہ میں دنیا کا ایک بڑا ذخیرہ دفن ہے،کوئلہ نکالنے والوں نے طے کیا کہ یہ چھوٹی سرنگ کھودنے کا مقام نہیں یہاں تو بہت ہی بڑا گڑھا کھود کر کوئلے کی پرت کو دن کی روشنی دکھانا ہوگی۔
میں ویرانے کا طویل سفر طے کرکے اسلام کوٹ پہنچا تو رونق ہی رونق تھی۔ ایک بڑی اور عمدہ عمارت دیکھی، پتہ چلا اسکول ہے، پھر آباد علاقہ شروع ہوا۔ جگہ جگہ حفاظتی چوکیوں پر اپنی شناخت کراتے ہوئے(میں برطانوی تھا اور ہر جگہ مجھے foreignerکہا جارہا تھا)میں وہاں پہنچا جہاں خدا قدرت کے اس نظارے کے قدردانوں کو ضرور پہنچائے،خون پسینہ ایک کرنے والوں نے رات دن ایک کرکے اس جگہ زمین کا سینہ کچھ اس طرح چاک کیا تھا کہ گویا ایک پہاڑ کے برابر مٹی کھود کے اور باہر نکال کر قرینے سے چن دی تھی کیونکہ جب کوئلہ نکل آئے گا تو یہ پہاڑ جیسا گڑھا ا س طرح دوبارہ بند کیا جائے گا جیسے یہاں کچھ ہوا ہی نہیں۔ لق و دق گڑھا دیکھنے کے لئے ہم اس اونچے چبوترے پر پہنچے جو خاص طور پر نظارہ کرنے والوں کے لئے بنایا گیا تھا۔اتنی بڑی خندق نظر آئی کہ اتنی جگہ میں پورا ہوائی اڈہ بن سکتا ہے۔چوکو ر گڑھا، اس میں تہہ تک اتر نے اور اوپر چڑھنے کے لئے ایسے راستے تراشے گئے تھے جن پر ٹنوں وزنی ٹرک آ اور جارہے تھے۔دن ڈھل چکا تھا مگر روشنی اتنی کی گئی تھی کہ دن کا گما ں ہوتا تھا۔ بتایا گیا کہ یہ کارروائی چوبیس گھنٹے جاری رہتی ہے۔ مجھے تو خندق کی تہہ میں کوئلے کی پرت دیکھنے کا اشتیاق تھا۔ وہ صاف نظر آکر ان انسانی ہاتھوں کو داد دے رہی تھی جو بے پناہ مشقت کرکے وہاں تک پہنچے ہوں گے۔ مجھے اس دن کی تصویریں دکھائی گئیں جس روز انسان نے پہلی بار کوئلے کے سیاہ چمکیلے فرش پر قدم رکھے تھے۔بالکل یوں لگا جیسے کسی زمانے میں شکاری اپنے شکار پر پاﺅں رکھ کر اور اپنی کامیابی پر ناز کرتے ہوئے اپنی تصویر اتروایا کرتے تھے۔بلا شبہ یہ فخر کا مقام تھا۔جس وقت میں یہ کارنامہ دیکھ رہا تھا، وزن ڈھونے والے کتنے ہی بھاری بھرکم ٹرک اوپر نیچے آجارہے تھے۔میں نے کہا کہ اتنا خطر ناک کام کرنے والے ٹرک ڈرائیور کہاں سے بھرتی کئے گئے ہوں گے۔جواب ملا: اسی تھرپارکے لوگ کمال ہوشیاری سے ٹرک چلاتے ہیں۔میں نے کہا کہ ان کی بیویاں ان کی سلامتی کی دعا مانگتی رہتی ہوں گی۔جواب ملا: جی وہ خود بھی ٹرک چلا رہی ہوتی ہیں۔
سنا تھا اور یقین کر نے سے انکار بھی کیا تھا مگر کیا کریں کہ ہمارے میزبان ہمیں تھرپارکر کے ایک بڑے میدان کے بیچ قائم ایک دفتر نما عمارت میں لے گئے اور بولے: یہ ہے بھرتی کا دفتر جس کے اندر علاقے کی خواتین بیٹھی ہیں اور یہ ہے وہ میدان جس میں یہ خواتین بھاری بھرکم ٹرک چلانے کی تربیت حاصل کرتی ہیں۔میرا خیال تھا کالج یونی ورسٹیوں کی لڑکیاں ہوں گی مگر دفتر کے اندر گیا تو خالص تھرپارکر کی وہ خواتین بیٹھی تھیں جنہیں ہم عام زبان میں دیہاتن کہتے ہیں۔ لباس میں لپٹی لپٹائی، چہرے پر حیا کے ساتھ ساتھ اعتماد، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دو ایک کی گود میں دودھ پیتا بچہ۔ میں نے حیرت سے کہا :آپ ٹرک چلاتی ہیں،مٹی، کوئلہ اور پتھر ڈھوتی ہیں؟ بڑے اعتماد سے ہاں نہیں کہا بلکہ بڑی تمیز سے جی ہاں کہا۔ایک خاتون بولیں کہ چلئے آپ کو ٹرک کی سواری کرائیں۔ میں نے کہا کہ میری انشورنس نہیں ہے۔جھٹ بولیں: کچھ نہیں ہوگا۔ڈریں نہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ خواتین کو اس کام پر لگانے کا خیال ہو نہ ہو یہاں کام کرنے والے چینی انجینئروں کو آیا ہوگا۔ ان کے ملک میں تو مشقت کے معاملے میں مرد عورت الگ الگ نہیں۔ انہوں نے کہا ہوگا کہ یہ خواتین خالی خالی کیوں گھوم رہی ہیں۔ انہیں کام سے لگایا جائے۔اب کسی کو کیا خبر تھی کہ یہ خواتین بڑے یقین سے ڈرائیور والا دروازہ کھولیں گی، اتنے ہی اعتماد سے اوپر چڑھ کر اسٹیرنگ وہیل سنبھالیں گی، ٹرک اسٹارٹ کریں گی، پہلے گیئر میں ڈالیں گی اور یہ جا وہ جا۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ اس کھلے میدان میں ان خواتین کی خوب تربیت ہوتی ہے۔ کچھ عرصے بعد سوچئے ان کا امتحان کون لیتا ہے، وہی چینی انجینئر۔ وہ خود آزماتے ہیں تاکہ کسی رو رعایت کا خدشہ نہ رہے۔ مجھے بتایا گیا کہ اکثر خواتین کامیا ب قرار پاتی ہیں۔ انہیں اچھی ملازمت اور اس سے بھی اچھی تنخواہ ملتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پاس پڑوس کی خواتین ان کے ساتھ ملازمت کی درخواست لے کر آجاتی ہیں اور یہ سلسلہ بڑھتا جارہا ہے۔اس روز جو خواتین ملیں نہایت سمجھ دار اور باشعور نکلیں۔ وہ تھرپارکر کے معاملات سے خوب واقف تھیں۔ انہیں پتہ تھا کہ اس علاقے میں دودھ پیتے بچے بڑی تعداد میں مر جاتے ہیں۔ میں نے گود والی خاتون سے پوچھا کہ آپ کو کسی لیڈی ڈاکٹر نے کبھی کچھ سمجھایا؟ انہوں نے بتایاکہ ہمیں بہت سی باتیں سمجھائی جاتی ہیں۔مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ چھ ماہ تک بچے کو صرف ماں کا دودھ پلانا چاہئے۔ میرے سارے بچے صحت مند ہیں۔ میں نے پوچھاکہ آپ کے سب سے بڑے بچے کی عمر کتنی ہے۔ کہنے لگیں: وہ کالج جاتا ہے۔میں نے پوچھا: آپ کے گھر میں ٹیلی وژن ہے؟ معلوم ہوا کہ نئے زمانے کی اکثر سہولتیں موجود ہیں۔ ان کے شوہر تو پہلے سے کام کرتے چلے آرہے ہیں۔ گھرمیں دوافراد کمانے والے ہیںتو زندگی بہت آسان ہو گئی ہے۔ تو پھر بچّوں کو کون دیکھتا ہے؟
جواب آسان ہے۔ ان کے لئے ریگستان میں جدید طرز کے اسکول کھل گئے ہیں۔ گاﺅں کے بچے غیر ملکی مہمانوں سے انگریزی میں بات کرتے ہیں۔یہ باتیں ابھی جاری ہیں۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker