اختصارئےرضی الدین رضیلکھاری

شکریہ 2017 ء شریف ۔۔رضی الدین رضی

یک ایسے معاشرے میں جہاں ہم صدیوں کی روایات کے امین ہوں اور جہاں بنیاد پرستی پر فخرکیا جاتا ہو اور جہاں ہمارے ماہ و سال ایک ہی ڈھب سے گزر رہے ہوں ۔ جہاں نئے اور پرانے کی تمیز مٹ چکی ہو اپنے اور بیگانے کا فرق ختم ہوچکا ہو دیوانے اور فرزانے کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا جاتا ہو اور جہاں یہ بحث ہر سال شدو مد سے جاری رہے کہ سال عیسوی کے آغاز پر مبارکباد دینا جائز ہے یا ہجری سال کے ماتمی مہینے میں سال نو کا جشن منانا عین ثواب ہے ؟ اس ماحول میں ہم دوہزار اٹھارہ کے آغاز پر آپ کو مبارکباد دینے کی جرات تو نہیں کرسکتے ہاں البتہ دوہزار سترہ کا ماتم بہت خشوع وخضوع کیساتھ کیا جاسکتا ہے سو اس ماتمی دھن میں ہماری آواز میں آواز ملائیے اور شکریہ دوہزار سترہ شریف کا نعرہ مستانہ بلند کیجیے ۔ قارئین محترم ہم نے اپنی زندگی کی جتنی بھی بہاریں یا خزائیں گزاریں ان میں ہم نے ہر مرتبہ سال نو سے ایک جیسی توقعات وابستہ کیں اور ہر مرتبہ گزرے سال کا نوحہ پڑھا ۔ گزشتہ پانچ عشروں کے دوران جتنے بھی ماہ سال بیتے ہمارے لیے تو وہ سب ایک ہی جیسے تھے لیکن اس کے باوجود ہم نے ہر مرتبہ نئے سال کو نیا سمجھا بالکل اسی طرح جیسے ہم جمہوریت کو جمہوریت اور انصاف کو انصاف سمجھتے ہیں جمہوریت اگر جمہوریت نہ بھی ہو تو اسے جمہوریت سمجھ لینے میں بھلا کیا حرج ہے اور اگر انصاف انصاف نہ بھی ہو تو اسے انصاف کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ اب یہاں ایک مشکل یہ آن پڑی کہ بعض لوگ انصاف کی اس تکرار کو تحریک انصاف پر طنز سمجھ لیں گے ۔۔نہیں نہیں ہمارا اشارہ تحریک انصاف کی جانب ہرگز نہیں باالکل اسی طرح جیسے ہم نے شکریہ دوہزار سترہ شریف کہہ کر راحیل شریف کو یاد نہیں کیا دوہزار سترہ کو تو ہم اس لیے شریف کہہ رہے ہیں کہ یہ شریفوں کا سال تھا اوراس برس کے دوران ہم نے راحیل شریف سے نواز شریف تک کا سفر ایک ہی جست میں طے کرلیا ( اگر انیس سو ستر کا عشرہ ہوتا تویہاں کہیں بابرہ شریف کا نام بھی آجاتا ) ہم دوہزار سترہ کا شکریہ اس لیے بھی ادا کررہے ہیں کہ اس برس نے ہماری اور بہت سی غلط فہمیان بھی دور کردیں وہ این ار او جو اس برس سے پہلے گالی سمجھا جاتا تھا اب اسے اب زم زم سے دھویا جارہا ہے سو یہ این ار او اب عین شرعی بھی ہوگا اور ممکن ہے کچھ مسلکی تقاضوں پر بھی پورا اترتا ہو چین و عرب ہمارا والے مصرعے سے اگر ہندوستاں ہمارا والا حصہ نکال دیا جائے تو اقبال کا یہ ترانہ معمولی ردو بدل کیساتھ سی پیک کا ترانہ بھی بنایا جاسکتا ہے مختصر یہ کہ سال کیسے ہی کیوں نہ ہوں ہمیں اس سے توقعات برحال وابستہ کرنا ہوتی ہیں غالب کے زمانے میں ہوتے تو ہم بھی کسی برہمن سے پوچھتے کہ یہ سال کیسا ہے اور اگر وہ نہ بھی کہتا کہ سال اچھا ہے تو ہم پھر بھی کسی خوش گمانی میں ضرور رہتے ۔ ائیے ہم یقین کرتے ہیں کہ دوہزار اٹھارہ جمہوریت کا سال ہوگا اس برس کے دوران بھی ہم دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ویسی ہی کامیابیاں حاصل کریں گے جیسی کہ ہم ماضی میں کرچکے ہیں اس برس کے دوران بھی اچھے طالبان کی اچھی اچھی باتیں ہمیں سننے کو ملیں گی اور وہ جو دنیا والے ہماری بعض معتبر ہستیوں کو دہشت گرد کہتے ہیں ہم ان پر ہرگز یقین نہیں کریں گے اگر انتخابات ہوئے توہم دہشت گردوں کو سیاسی دھارے میں لے اائیں گے بالکل اسی طرح جیسے کہ ہم ایم کیو ایم کو سیاسی دھارے میں لاچکے ہیں اور یہ بھی یقین رکھیے کہ مسلم لیگ کی طرح پیپلزپارٹی بھی میثاق جمہوریت کا ا حترام کرے گی عمران خان موروثی سیاست کا خاتمہ کردیں گے اور بلاول بھٹو یقینی طور پر اگلے برس بے نظیر کے قاتلوں سے خون کا حساب لینے میں کامیاب ہوجائیں گے اور دوہزار اٹھارہ بھی جیسا ہونا چاہیے ویسا نہیں ہوگا اور جیسا نہیں ہونا چاہیے ویسا ہوگا کہ ٹرمپ کے نیو ورلڈ ارڈر میں یروشلم کو اسرائیل کا درالحکومت ہم بہرحال نہیں بننے دیں گے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker