ادبرضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

 اقبال حسن بھپلا : چناب کا بیٹا ( وفات 30 مارچ 2009 ء ) ۔۔ رضی الدین رضی

حکمت و دانائی کی بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جوہمیشہ کے لئے ہمارا دامن تھام لیتی ہیں ۔ہم دن بھر بہت کچھ سنتے ہیں ۔ریڈیو ،ٹی وی ،جلسے ،جلوس،مذاکرے اور سیمینار ۔ہر جگہ لوگ لفظوں کی جگالی کرتے نظر آتے ہیں ۔ہر طرف وہ شور ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔لیکن اس شور میں کوئی ایک جملہ بھی ایسا نہیں ہوتا جو ہمارا دامن تھام سکے ،کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں ہوتی جسے ہم بات کہہ سکیں ،جو ہمارا دامن تھام لے۔ہم میں سے ہر شخص بول تو رہا ہے مگر بات کوئی بھی نہیں کر رہا۔جی ہاں بولنے اور بات کرنے میں فرق ہوتا۔وہی فرق جو سانس لینے اور زندہ رہنے میں ہے۔جیسے ہرسانس لینے والا زندہ نہیں ہوتا اسی طرح ہر بولنے والا بات بھی نہیں کررہا ہوتا۔بات کرنے والے ریڈیو،ٹی وی کے پروگراموں ،جلسوں یا سیمیناروں میں نہیں ملتے۔ یہ کسی دریا کے کنارے ہوتے ہیں ،کسی ویرانے میں ہوتے ہیں،کسی کٹیا میں ہوتے ہیں ۔اور جب یہ بولتے ہیں تو لگتا ہے زمانے کی رفتار تھم گئی ہے ۔
سامنے کی بات توخیر سب کو معلوم ہوتی ہے۔بات ہمیشہ وہی ہوتی ہے جو سامنے کی نہ ہو۔ہر شے کا ایک زاویہ تو وہ ہوتا ہے جو ہمارے اور آپ کے سامنے ہوتا ہے لیکن ایک زاویہ ایسا بھی ہوتا ہے جو سامنے والے رُخ سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔یہ مخفی رُخ ہمیشہ باطن کی آنکھ سے دکھائی دیتا ہے اور اسے وہی دیکھ سکتا ہے جس کا باطن اجلا اور شفاف ہوتا ہے۔من کی اجلی ایک شخصیت ہمارے ملتان میں بھی رہتی تھی۔ملک اقبال حسن بھپلا اس کا نام تھا۔سرائیکی کے شاعر ،ادیب،افسانہ نگار،اور ناول نگار ۔بھپلا صاحب ایک درویش منش انسان تھے ۔درویش منش تو اب فی زمانہ انہیں بھی کہا جاتا ہے جن کی درویشی کو اقبال نے عیاری کہا تھا،لیکن بھپلا صاحب واقعی درویش تھے۔دریائے چناب کے کنارے اُن کی جھوک آباد تھی جہاں شہر کے شاعر،ادیب،صحافی،دانشور،مصوراور گلوکارجمع ہوتے تھے ۔سب ان کے مہمان ہوتے تھے اور گھنٹوں بیٹھ کر ان کی گفتگو سنتے تھے ۔وہی گفتگو کہ جسے سن کر وقت کی رفتار تھم جاتی ہے۔ان کے پاس علم ودانش کا ایک ذخیرہ تھا۔لوک دانش تھی ان کے پاس۔بے پناہ مشاہدہ اور تجربہ۔فطرت کو انہوں نے بہت قریب سے دیکھا تھا۔
وہ مجمع باز ماڈرن صوفی بھی نہیں تھے جن کے پاس کہنے کو توکچھ نہیں ہوتا لیکن وہ شور مچا کر آسمان سر پر اٹھائے رکھتے ہیں ۔جنہوں نے لچھے دار گفتگو کو علم و دانش کا نام دے کر اپنے ماتھے پر برائے فروخت کا بورڈ آویزاں کر رکھا ہے۔بھپلا صاحب ایک مختلف انسان تھے ۔وہ خود کو چناب کا بیٹا کہتے تھے اور جو روانی چناب میں ہے وہی ان کی گفتگو میں ہوتی تھی۔چناب کی طرح رواں دواں اور میٹھی گفتگو۔30مارچ 2009ءکی صبح چناب کا یہ بیٹا ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا ہو گیا ۔اقبال بھپلا صاحب 16 کتابوں کے مصنف تھے۔آج کا کالم ہم نے بھپلا صاحب کی باتوں سے سجایا ہے۔حکمت و دانش کے یہ موتی ان کی کتابوں میں جا بجا موجود ہیں۔بھپلا صاحب کی کتابوں سے لئے گئے یہ جملے کئی کتابوں اور تقریروں پر بھاری ہیں ۔یہ ایک ایسے درویش کے نثر پارے ہیں جو دنیاکو خوبصورت دیکھنا چاہتا تھا ۔جو ہر قسم کی بد صورتی اور آلودگی سے نفرت کرتاتھا۔ لیجئے بھپلا صاحب کے نثر پاروں کا مطالعہ کیجئے۔
٭سردار اسے کہتے ہیں جو سر اور دار کے فرق کو سمجھتا ہے٭جب سے مل کر مانگنے والے ہاتھ جدا ہوئے دعا بے اثر ہو گئی٭بڑے میاں دو سانس ادھار دے دو تا کہ میں دو باتیں کر سکوں ٭کسی نے عقل سے سوال کیا کہ چار کیسے بنتے ہیں ؟عقل نے جواب دیا دو سے دو ملا کر ۔ساتھ کھڑے پاگل نے کہا نہیں چھیانوے میں سے چار نکال کر ٭روح پرواز کیوں کرتی ہے اور بت دفن کیوں ہوتا ہے؟اس لئے کہ ہر چیز اپنے اصل کی جانب لوٹتی ہے٭نیچے کھڑے ہو کر دیکھیں تو بلندی پر بسنے والے چھوٹے نظر آتے ہیں ٭آپ کہتے ہیں کہ خدا ہمارا ہے تو پھر بابا ان لوگوں کا کون ہے ؟٭بارود نے پہاڑوں سے سڑک نکالی اور بارود نے ہی سڑ کوں پر لوگوں کو مار دیا۔قصور بارود کا نہیں اسے استعمال کرنے والوں کا ہے٭اے انسان کارخانہءقدرت سے تجاوزات ہٹا لے ورنہ آلودہ پانی دیکھ کر وہ دریا خشک کر دے گا٭تُو بے نیاز بن تاکہ اُس کا غرور ٹوٹ جائے٭فقیر ایک در سے مانگتا ہے اور بھکاری در در سے ٭اے واعظ جو قبر تُو نے دیکھی نہیں مجھے اس کا حال مت بتا۔مجھے اس چاند کا راستہ دکھا جو نظر آ رہا ہے٭اے حاسد تُو میرے ہاتھ کی لکیریں نہیں مٹا سکتا٭حوروں کے حصول کا علم پڑھنے والے جب تعداد میں حوروں سے بڑھ جائیں گے تو دنیا میں حوروں کے نام پر خونریزی ہو گی٭وہ کہہ رہا تھا مجھے زندگی میں پھول دوورنہ میری موت کے بعد تمہارے یہ پھول میرے کس کام کے ؟٭پرندے ہاتھی اور شیر سے تو نہیں ڈرتے انسان سے کیوں ڈرتے ہیں ٭ شاعر، ادیب، مفکر، سائنسدان اور مولوی ایک میز پر کھانا تو کھا سکتے ہیں مگر حلوہ نہیں کھا سکتے٭میں زمین کو اس لئے چوم رہا تھا کہ اس پر اُس کے نقشِ پا تھے٭کاش میں ایک تتلی ہوتا اور شریر بچے لمحہ لمحہ میرا تعاقب کرتے یہ دیکھ کر پھول مجھ پر رشک کرتا اور کہتا کہ کاش میں ایک شریر بچہ ہوتا٭دولت نے گھوڑا خریدا ور عقل نے کتاب٭مجھے سچ بتا واعظ مجھے سچ بتا کیا خدا مسجد کے باہر نہیں ہوتا ؟٭بھکارن نے کہا بی بی جی کردار کو سنگھار کی ضرورت نہیں ہوتی ٭ہم وہ بھیڑیں ہیں جنہیں بھیڑیے ہانکتے ہیں ٭جنت میں زاہد نے گامے سے حیران ہو کر پوچھا تم یہاں کہاں ؟گامے نے کہا سائیں اللہ کی مرضی ٭انسان چیخ چیخ کر مذاہب سے کہہ رہا تھا کہ مجھے مت مٹاﺅمیں تم سے پہلے آیا تھا٭اُس نے سرخ گلاب کا پھول اُس اندھے بچے کو دیا جس کا باپ مالی تھا ٭پاک پرندے مایوس ہیں کہ چناب کا پانی آلودہ ہو گیا ہے٭گناہ فرد کا ذاتی اور جرم معاشرتی فعل ہے ۔۔گناہ تو معاف کیا جا سکتا ہے لیکن جرم کی معافی نہیں ٭سخی سو رہا تھا یا سوالی عجلت میں تھا ؟٭اندھوں کے گھر میں دیا بھی جلتا رہے تو وہ ٹھوکریں ہی کھاتے ہیں بھپلا صاحب کی مثال بھی تو اس دیے کی مانند تھی جو اندھوں کے گھر میں جلتا رہا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker