عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

ضرورت ہے ’دائیں‘ اور ’بائیں‘ بازو کی!: روزن دیوار سے / عطا ء الحق قاسمی

انسانی اعضاء کے کچھ سپیئر پارٹس میڈیکل سائنس والوں نے تلاش کرلئے ہیں، مگران میں سے کچھ کی دستیابی مثلاً آنکھ اور گردے کی کم یابی اور پھر انہیں پلانٹ کرنا خاصی مہارت کا کام ہے۔ سائنس جس طرح ترقی کررہی ہے، کوئی پتہ نہیں آگے چل کر تمام انسانی اعضاء کھلے عام بازاروں میں فروخت ہورہے ہوں اور ان کی پلانٹیشن کے لئے کسی سرجن کی بھی ضرورت نہ پڑے اور بس دو تین نٹ کسنے کی ضرورت ہو اور اس کے بعد انسان سیٹیاں بجاتا ہوا اپنےگھر کی راہ لے۔ جس طرح کار اور موٹر سائیکل کے سپیئر پارٹس بازار میں بآسانی مل جاتے ہیں، کیا پتہ کسی دن انسانی سپیئر پارٹس کی مارکیٹ سے گزر ہو تو ٹانگیں اور بازو وغیرہ کسی کنڈے کے ساتھ لٹکے نظر آئیں جبکہ آنکھ، کان اور دل وغیرہ چھوٹے پیکٹوں میں بند شو کیسوں میں سجے نظر آئیں۔ گاہک دوکاندار سے کوئی عضو طلب کرے اور دکاندار وہ عضو کپڑے سے چمکا کر اس کی خدمت میں پیش کرے۔ گاہک اگر دل کا خریدار ہے تو قارئین جی کڑاکر کے ذرا یہ منظر آنکھوں کے سامنے لائیں کہ دل دینے اور دل لینے والا مول تول میں مصروف دکھائی دیں۔ دل دینے والا زیادہ سے زیادہ
دام کھرے کرنے کے چکر میں ہو اور دل لینے والا سو پچاس کم کرانے کی کوشش کررہا ہو۔ ممکن ہے عشاق یہ منظر دیکھنا پسند نہ کریں ایک تو اس لئے کہ اہل دل کے لئے یہ دل کی توہین ہے، دوسرے یوں کہ دلوں کی کھلے عام خریدو فروخت سے ان کے لئے یہ ممکن نہیں رہے گا کہ وہ کسی سے کہہ سکیں۔
ابھی کم سن ہو رہنے دو کہیں کھو دو گے دل میرا
تمہارے ہی لئے رکھا ہے لے لینا جواں ہو کر
کیونکہ اس کے جواب میں وہ بہت کم سن ناک بھوں چڑھا کر کہہ سکتا ہے کہ اگر کھو بھی دو گے تو بازار سے دوسرا لے لینا، کیوں تھوڑے سے پیسوں کے لئے مرے جارہے ہو؟
باقی سپیئر پارٹس کا ذکر بعد میں۔ پہلے ذرا دل سے نمٹ لیں کہ اس عضو نے معاشرے میں فساد پیدا کیا ہوا ہے۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ بہت عرصے سے عشاق کی طرف سے کی جانے والی ایک پیشکش کسی کام کی نہیں ہے گی۔ ان کے لئے اب یہ ممکن نہیں ہوگا کہ محبوب کے خدشات دور کرنے کے لئے کہیں کہ اگر تمہیں میری محبت پر یقین نہیں تو میرا دل چیر کر دیکھ لو۔ آنے والے دنوں میں محبوب نے اسی طرح کے مواقع کے لئے چاقو جیب میں رکھا ہوا ہوگا، وہ فوراً عاشق کے سینے میں چاقو گھونپیں گے مگر وہاں سے جذبہ صادق کہاں سے برآمد ہونا ہے، خون کی ایک دھار ہی نکلے گی۔ یوں بچارا عاشق نہ صرف یہ کہ شرمندہ ہو کر رہ جائے گا بلکہ اسے بازار سے نیا دل خریدنے کے لئے خواہ مخواہ ایک اچھی خاصی رقم کی ’’ڈز‘‘ پڑ جائے گی۔ تاہم اس میں دل والوں کا ایک فائدہ بھی ہے اور وہ یہ کہ دل ٹوٹنے کی صورت میں انہیں گریبان چاک کر کے صحرائوں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا بلکہ وہ سیدھے دل کے لنڈا بازار کا رخ کریں گے اور وہاں سے کوئی دوسرا دل خرید لائیں گے بقول غالب
اور لے آئیں گے بازار سے گر ٹوٹ گیا
اور یوں عشاق کے رونے دھونے سے تو ہماری جان چھوٹے گی۔
اسی طرح اگر کوئی عاشق مفلس و نادار ہے اور وہ زیرو میٹر دل خریدنے کی پوزیشن میں نہیں تو وہ سیکنڈ ہینڈ دل پر گزارا کر لے گا گو اس میں ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ سیکنڈ ہینڈ دل کہیں پہلے سے بھی زیادہ کشتہ تیغ ستم نکلے، اس خدشے کا حل یہی ہے کہ سیکنڈ ہینڈ دل خریدتے وقت کسی عادی دل شکستہ کو ساتھ لے جایا جائے تاکہ وہ دل کے لنڈا بازار میں پوری چھان پھٹک کے بعد کوئی ستھرا دانہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائے۔
ظاہر ہے انسانی سپیئر پارٹس کی مارکیٹ میں دل ہی نہیں، کان آنکھیں، ہونٹ بازو اور ٹانگیں بھی تو دستیاب ہوں گی۔ کئی لوگ کانوں کے بہت کچے ہوتے ہیں، وہ اگر چاہیں گے تو بازار سے ایک جوڑی کانوں کی خرید کر اپنی اور دوسروں کی زندگی آسان بنا دیں گے۔ کچھ لوگ ساری عمر ہر معاملے میں اپنی آنکھیں بند رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی بصارت اور بصیرت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔ اگر وہ بازا رسے آنکھوں کی جوڑی خرید لیں گے تو انہیں اندازہ ہو جائے گا کہ ملک و قوم کے ساتھ کون کھلواڑ کررہا ہے؟ تاہم تمام اعضاء میں سے بازوئوں کی مانگ زیادہ ہوگی اور دکاندار ان کے منہ مانگے دام وصول کریں گے۔ بات یہ ہے کہ ان دنوں ہمارا ’’دایاں بازو‘‘ اور ’’بایاں بازو‘‘ دونوں سوئے ہوئے ہیں۔ جب یہ صحیح سلامت ہوتے تھے تو دائیں بازو والے دائیں بازو سے اور بائیں بازو والے بائیں بازو کے حوالے سے تحریکیں چلاتے تھے اور یوں ان دونوں کی روزی ایک دوسرے کی وجہ سے لگی ہوئی تھی، اب جو دکاندار یہ بازو کسی کونے کھدرے سے نکال کر اپنی دکان پر برائے فروخت رکھے گا، فاقوں کے مارے دائیں اور بائیں بازو اس کے منہ مانگے دام ادا کریں گے۔
صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker