رضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

ملتان مرا رومان : یادیں ( 10 ) ۔۔ رضی الدین رضی

عید میلاد النبی ﷺ کو بارہ وفات کہتے تھے

حسین آگاہی اور عید میلاد النبی ﷺ کا ذکر ہوا تو آئیں اس خوبصورت تہوار پر مزید بات کرتے ہیں ۔ہمیں نہیں یاد کہ ہم نے پہلی بار عید میلاد النبی ﷺ کا نام کب سنا اور پہلی بار یہ جشن کب دیکھا ؟ یہ صرف ہمارا ہی نہیں ہر اس شخص کا تجربہ ہے جو اس خطے میں یا دنیا کے کسی بھی مسلمان ملک میں بستا ہے۔ایک الجھن بہرحال ایک طویل عرصہ تک موجودرہی ۔ الجھن یہ تھی کہ جب ہماری نانی اماں اور دادی اماں بارہ وفات کا ذکر کرتی تھیں اور بارہ وفات کے مہینے کا حوالہ دیتی تھیں تو ہمیں سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ کس مہینے کا تذکرہ ہے اور اس نام کا مہینہ کس کیلنڈر میں موجودہے۔ربیع الاول کا یہ نام آج بھی بہت سے علاقوں میں بارہ وفات کے نام سے رائج ہے ۔نام کوئی بھی ہو ،اس مہینے کو کسی بھی نام سے پکارا جائے اس کا تقدس سب کے ذہنوں میں موجودہوتا ہے۔ وہ جو اسے ربیع الاول کامہینہ کہتے ہیں ان کے دل میں بھی عقیدت اور احترام موجزن ہوتا ہے اور جو 12وفات کے نام سے یاد کرتے ہیں وہ بھی اس کی عظمت سے بخوبی آگاہ ہیں ۔

ہمارے بچپن میں چراغوں والا چراغاں ہوتا تھا

یہاں ہمیں اپنی یادوں سے عید میلادالنبیﷺ کے ان خوبصورت مناظر کو تلاش کرنا ہے جو اب ویسے نہیں رہے۔ یقیناً بہت سی نئی خوبصورتیاں پیدا ہوئی ہیں لیکن بہت سی ایسی باتیں اور بہت سے ایسے منظر ہماری یادداشت میں موجود ہیں جو آج کے مناظر سے کہیں زیادہ خوبصورت ہیں۔ آج کی نسل کو ان مناظر میں شریک کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ مقدس مہینوں اور مقدس تہواروں کو اس شان سے منایا جانا چاہیے کہ کہیں بھی ان کا تقدس مجروح نہ ہو۔ اگرچہ ہمارا بچپن صدربازار کے علاقے میں گزرا لیکن ہم نے عیدمیلادالنبی ﷺ کاجشن تو پورے ملتان میں دیکھا ہے ۔اب تو برقی قمقموں کی بہتات ہے لیکن ہم نے اپنے بچپن میں گھروں کی دیواروں پر باقاعدہ چراغاں ہوتے دیکھا۔برقی قمقموں کے ذریعے بازاروں اور مکانات کو آراستہ کیاجانا بھی اگرچہ چراغاں ہی کہلاتا ہے لیکن لفظ ”چراغاں“میں جو چراغ موجود ہے وہ اب ماضی کاحصہ بن چکا ہے۔ ہم وہ خوش نصیب ہیں کہ ہم نے چراغوں والا چراغاں بھی دیکھا تھا ۔

چراغ روشن رکھنے کی لگن اور موم بتی کا ذکر

آج کی نسل کو یہ سمجھانا بھی بہت مشکل ہے کہ چراغ کیا ہوتا تھا اور اس میں کس طرح تیل ڈال کر کپاس کی بتی جلائی جاتی تھی اور پھر اس کا ایک سرا جلتا تھا تو روشنی ہوتی تھی۔ خوبصورتی ہوتی تھی اور تیز ہوا کے سامنے چراغ جلائے رکھنے کی لگن دل میں پیدا ہوتی تھی۔شاید یہی وہ تجربہ ہے کہ جس نے آج کے دھند بھرے موسموں میں بھی ہمیں چراغ روشن رکھنے کا ہنر عطا کیا ۔ پھر بعد کے دنوں میں موم بتیاں بھی چراغوں کی صف میں‌شامل ہو گئیں‌ ۔چراغ میں تو صرف اسے بجھنے سے بچانے کی سعی کی جاتی تھی ۔ موم بتی کے ساتھ ایک اورکُشتی بھی لڑنا پڑتی تھی۔موم بتی کو دیوار پر گرم گرم موم ٹپکا کر رکھا جاتا تھا اور اس کوشش میں موم کا جلتا ہوا قطرہ ہماری انگلیوں پر بھی گرتا اور ہمیں بتاتا تھا کہ رات کو روشن رکھنا کوئی آسان کام نہیں کہ اس میں انگلیاں ہی نہیں بسا اوقات پورے وجود کو جلانا پڑتا ہے اور پھر اس کی راکھ کو بھی منیر نیازی کی زبان میں ہوا میں اُڑانا پڑتا ہے ۔ ہوا اگر تیز ہوتی تو موم بتی صرف بجھتی ہی نہیں بعض اوقات دیوار سے اکھڑ کر دوسری چھت پر بھی جا گرتی تھی۔

چراغوں‌پر پہرہ اور موم بتیوں پر ماچسیں قربان

گیارہ اور بارہ ربیع الاول کی راتیں اسی ”مشق سخن“میں گزرتی تھیں۔موم بتیاں اورچراغ ہم سے سخن کرتے تھے۔جس کی دیوار پر جتنے زیادہ چراغ روشن ہوتے وہ پھولے نہیں‌ سماتا تھا۔سو ایک مقابلہ ہوتا تھا۔زیادہ سے زیادہ چراغ روشن کرنے کا۔ زیادہ سے زیادہ موم بتیاں جلا نے کا۔اور اس کے ساتھ ساتھ مقابلہ یہ بھی ہوتا تھا کہ ہوا کے دوش پر کس کے چراغ کتنی دیر روشن رہتے ہیں؟ کون ان چراغوں کا کتنی دیر پہرہ دے سکتا ہے؟کون اپنے چراغوں پر کتنی ماچسیں قربان کرتا ہے؟ ”جس دیئے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا“۔۔یہ مصرع تو ہم نے بہت بعد میں سنا لیکن اس کا ادراک ہمیں عیدمیلادالنبیﷺ کے چراغاں کے دوران بہت پہلے ہوگیا تھا۔

( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker