ادبرضی الدین رضیشاعریلکھاری

سردیوں کی بارش تو آگ جیسی ہوتی ہے(نظم) ۔۔ رضی الدین رضی

سردیوں کی بارش تو آگ جیسی ہوتی ہے
آگ جو محبت ہے
ہجر ہے،رفاقت ہے
آگ جو دہکتی ہے
آگ جو بہکتی ہے
آگ جوبھڑکتی ہے
آگ جو دھڑکتی ہے دل کے ایک گھاﺅ میں
یاد رقص کرتی ہے سرخ سے الاﺅ میں
سردیوں کی بارش کچھ زردیاں سی لاتی ہے
اک سفر کے لمحوں کی یاد ہم کوآتی ہے
اک سفر جو کاٹا تھا آنسوﺅں کی بارش میں
ہجر کی رفاقت میں،وصل ہی کی خواہش میں
وصل جو گماں بھی تھا
وصل جو یقیں بھی تھا
وصل جو جواں بھی تھا
وصل جو نہیں بھی تھا
سردیوں کی بارش میں وصل کی رفاقت میں
ہجر کے زمانے ہیں
ہجر کے زمانوں میں
ہم ہیں داستانوں میں
داستان جاری ہے
بارشوں کی صورت میں امتحان جاری ہے
سردیوں کی بارش تو آگ جیسی ہوتی ہے
بین کرتی بیوہ کی سسکیوں سے وابستہ
سوگوار لمحوں کے راگ جیسی ہوتی ہے
آگ جیسی ہوتی ہے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker