رضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

ملتان مرا رومان : یادیں (24 ) ۔۔ رضی الدین رضی

گرم پانی کی برسات اور بوٹی بھوننے کی روایت

گرد اڑاتے تاتاریوں پر گرما کی پہچان رکھنے والے ملتان میں گرم پانی کی برسات ہونے لگی۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ وہ جس شہر میں آئے ہیں اس کی بہت عجیب روایات ہیں ۔ مؤرخین کہتے ہیں کسی زمانے میں بوٹی بھوننے کے لئےایک درویش نے ملتانیوں سے آگ مانگی تو اہلِ ملتان نے اسے آگ دینے سے انکار کردیا۔ درویش کوجلال آ گیا ۔ نام ان کا شمس تھا ، انہوں نے آسمان کی جانب دیکھا اور شکوہ کیا کہ ملتان والے تو بوٹی بھوننے کے لئے مجھے آگ بھی نہیں دے رہے۔ایسے میں سورج شمس کی مدد کوآیا ، بلکہ روایات کے مطابق سورج سوا نیزے پرآ گیا اورحضرت شاہ شمس نے سورج کی گرمی میں بوٹی بھون کر کھا لی ۔



دھپ سڑی سے شیعہ میانی تک

جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا اسے ہمارے بچپن میں’’ دھپ سڑی ‘‘ کہا جاتا تھا پھر یہ سورج میانی کہلایا اور جب امن محبت کا درس دینے والے ملتانی بھی فرقوں میں تقسیم ہو گئے توکچھ لوگ اسے شیعہ میانی بھی کہنے لگے ۔ بوٹی بھوننے والی اس روایت میں کوئی حقیقت بھی ہے یا نہیں ، لیکن یہ کچھ سوالات ضرور جنم دیتی ہے۔مثلاً یہی سوال کہ آخر ملتانیوں نے حضرت شاہ شمس کو آگ دینے سے انکار کیوں کردیا تھا؟اگر وہ ایسا نہ کرتے تو شاید یہ شہر اُس زمانے سے اب تک اس طرح سورج کے عتاب کا شکاربھی نہ ہوتا۔

ملتانیوں نے شمس کو آگ کیوں نہ دی ؟

ایک خیال یہ بھی ابھرتا ہے کہ کیا ملتان والے اس زمانے میں کسی کو آگ دینے کے بھی روادار نہیں تھے؟خیر روایات اور قصے کہانیوں پر ہم تو آنکھیں بند کرکے یقین نہیں کرتے۔ ہاں جو یقین کرتے ہیں انہیں پھر یہ بات بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ روادار سمجھے جانے والے ملتانی کسی زمانے میں کسی کو آگ دینے کے بھی روادارنہیں تھے۔

دھپ سڑی ، عدالت اور مقدروں کے جلے



آئیں واپس دھپ سڑی چلتے ہیں ، یہ کم وبیش وہی جگہ ہے جہاں اب ہائی کورٹ کی پرشکوہ عمارت ہے۔جہاں مقدروں کے جلے اپنی تقدیر کے فیصلے سننے آتے ہیں۔اوریہی وہ جگہ ہے جہاں ایک بار ایک سائل نے عدالت سے مایوس ہو کر خودسوزی کی تھی ۔وہ آگ میں جلتاتھا اور لوگوں کومعلوم نہیں تھا کہ وہ اسی مقام پرجل رہاہے جہاں ایک درویش نے سورج کوبلایاتھا اور پھراپنا نام شمس رکھا تھا۔اوراسی مقام سے کچھ فاصلے پر وزیراعظم ہاﺅس تھا ۔یوسف رضاگیلانی کا گھر اوراس گھرکی بلندوبالا دیواریں جواس وقت اتنی بلند نہیں تھیں جب وہ وزارت عظمی کے منصب پر فائز نہیں تھے۔اورجب عوام نے انہیں اس منصب پرپہنچا دیا تو دیواریں بلند کردی گئیں کہ ملتانی اپنے حاکم سے ملاقات نہ کرسکیں۔ اورصرف دیواریں ہی بلند نہیں کی گئیں راستوں پر رکاوٹ بھی کھڑی کردی گئیں۔ اور ان بلند دیواروں کے سامنے دھپ سڑی کے آس پاس ایک فریادی نے بھی خودسوزی کی تھی۔

( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker