رضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

ملتان مرا رومان : یادیں (37 ) ۔۔ رضی الدین رضی

شاہ حسن پروانہ کے مرید اور کمزور دل نوجوان کا سائیکل

کبھی کبھی تو ہم دل ہی دل میں شاہ حسن پروانہ کے مریدوں کوبھی خوب کوستے کہ جنہوں نے مرشد کے پہلومیں اپنی قبریں بنوا بنوا کر اتنا وسیع و عریض قبرستان بنادیا اور یہ بھی نہ سوچا کہ کبھی کسی سرد رات میں قبرستان کے عین وسط میں جب ایک کمزور دل نوجوان کے سائیکل کی چین اتر جائے گی تو اس کی کیا حالت ہوگی۔

سرد رات اور چاند سے جھانکتا چہرہ

پھرایک روز اسی خوف سے نجات حاصل کرنے کے لیے وہ نوجوان گیارہ بجے شب قبرستان میں داخل ہوگیا ۔وہ بہت سرد رات تھی ۔خون خوف ہی نہیں سرد کے باعث بھی رگوں میں منجمد ہوتاتھا۔آسمان پر چودھویں کاچاندتھااور چاند سے ایک چہرہ جھانکتاتھا۔وہ چہرہ چرخہ کاتنے والی بڑھیا کا چہرہ ہرگزنہیں تھاکہ وہ نوجوان تو بچپن میں بھی چاند سے اس بڑھیا اور اس کے چرخے کو تلاش نہیں کرسکا تھا ۔ممکن ہے جس زمانے میں یہ چرخے کی روایت مستحکم ہوئی ہو اس زمانے میں چاند کی سطح واقعی ایسی ہو کہ زمین سے چرخہ کاتنے والی بڑھیا کامنظر نظرآتا ہو۔لیکن اب تو ایسا نہیں ہے۔ زمین پر اتنی ردوبدل ہوئی ہے توکیا چاند پر نہ ہوئی ہوگی۔

قبروں پر لہروں کی صورت بھٹکتی چاندنی

چاند سے جھانکتے چہرے کے جلو میں جب وہ قبرستان حسن پروانہ میں داخل ہوا تو سارا قبرستان دودھیاچاندنی میں نہایا ہواتھا۔دور تک اونچی نیچی قبریں اوران قبروں پر لہروں کی صورت بھٹکتی چاندنی اور اس چاندنی کے نتیجے میں ابھرنے والے قبروں کے چھوٹے چھوٹے سائے ۔جی ہاں قبر کا سایہ بھی ہوتا ہے اور یہ سایہ آپ کو اپنی امان میں بھی رکھتا ہے۔بعض قبروں کے سائے دل کو بھی ٹھنڈک دیتے ہیں۔

تاریکی میں قبروں کے سائے سے محروم قبرستان کا گورکن

اس روز دسمبر کی اس سرد رات جب وہ مردوں اور قبروں کا خوف ختم کرنے کے لیے دھڑکتے دل کے ساتھ قبرستان حسن پروانہ میں داخل ہوا تو اس روز اس کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ جس چاند کے جلو میں آج وہ اس قبرستان میں داخل ہورہا ہے کئی برس بعد ایک ایسی ہی سرد رات میں وہ اسے سیکڑوں میل دور کسی قبرستان میں بلائے گا۔وہ ایک اجنبی کی صورت وہاں جائے گا ۔وہ رات سرد توہوگی مگر اس رات میں بہت تاریکی ہوگی۔اوراس تاریکی میں کسی قبر کا کوئی سایہ بھی نہیں ہوگا۔اورپھرایک بوڑھا گورکن اسے ملے گا جو پوچھے گا کہ تم رات کے اس پہر قبرستان میں کیا کرنے آئے ہواور جب اسے بتایا جائے گا کہ وہ ملتان سے سیدھا یہاں پہنچا ہے تو وہ قبرستان کے کونے میں اسے اپنی کٹیا میں لے جائے گا۔وہ چائے کی پیالی ہاتھ میں دے گا ۔تیز میٹھے والی گرم چائے جس میں لکڑی کے دھوئیں کی مہک ہوگی اور پھر وہ کہے گا بابو ہمارا تو کام آج کل بہت مندا ہے۔گرمیوں میں سیزن ہوتا ہے مُردوں کا۔آج کل تو بس دن میں چار پانچ میتیں ہی آتی ہیں۔سردی ذرا زیادہ ہوگی تو پھر رونق بھی زیادہ لگے گی۔بابو دعا کر رونق لگ جائے۔

کسی سے وعدہ بھلا کیوں لیا جاتا ہے ؟

اور پھر وہ اسے حیرت سے دیکھے گا اور سوچے گا وہ اس گورکن کے لیے کیسے دعا کرے جس نے ۔۔۔۔
وہ سوچے گا کہ ۔۔۔
وہ بہت کچھ سوچے گالیکن سب کچھ اپنے دل میں ہی رکھے گا زبان پر نہیں لائے گا کہ جانے والے جاتے ہوئے بہت سے وعدے بھی لے کر جاتے ہیں۔اور جب کوئی وعدہ لے رہا ہوتا ہے اس وقت ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیوں یہ وعدہ لے رہاہے۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker