کسی نے ہم سے سوال کیا کہ کیا تم دعا پر یقین رکھتے ہو؟ ہم نے کہا کہ ” ہاں ہم دعا پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ دعا ہماری چھوٹی بیٹی کا نام ہے“
تعلق کی ایسی ہی صورت اسلام تبسم کے ساتھ ہے۔ اسلام تبسم کے ساتھ اپنی دوستی کی بناء پر ہم ڈنکے کی چوٹ پر کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا اسلام کے ساتھ بہت مضبوط تعلق ہے اور اسلام جیسے دوست کی موجودگی میں ہم ” اسلام دشمن“ ہو ہی نہیں سکتے ۔ ہم تو سڑکوں پر اسلام زندہ باد کے فلک شگاف نعرے بھی لگا سکتے ہیں ۔ ہم یہ اس لئے بھی کہہ رہے ہیں کہ خود اسلام تبسم بھی تو چودہ سو سال پرانی روح ہے ۔۔۔ قرون اولی کی روح ۔۔ شرافت کا اعلیٰ نمونہ ہے یہ شخص ۔۔ بس اپنی ذات کے خول میں سمٹا ہوا انسان ۔۔۔ شہر کے دو چار لوگوں سے ہی اس کا تعلق ہے اور ان خوش قسمت لوگوں میں ہمارا بھی شمار ہوتا ہے ۔ ہمارے ساتھ بھی تعلق اس لئے ہے کہ ہم خود بہت ڈھیٹ ہیں تعلق آسانی سے ختم نہیں ہونے دیتے ۔ کوئی دس برس سے تو یہ معمول ہے کہ اسلام تبسم سے جب بھی ملاقات کی ہم نے خود ہی کی ، ہمارا جب جی چاہتا ہے اسے مل آتے ہیں ۔ یہ تو اپنی کٹیا میں بند رہتا ہے ۔ جیسے کوئی سادھو ہو ۔ اس کے بس میں ہوتو یہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جنگلوں میں چلا جائے۔۔ کہیں دھونی رمائے۔۔۔ کہیں چلہ کاٹ لے۔۔۔
یہ جو سب سےالگ تھلگ اور کٹ کے رہتا ہے اور اپنی دنیا میں مگن رہتا ہے یہ جو سب سے اس کی یہ وجہ نہیں کہ یہ مردم بیزار ہے یا کسی زعم میں مبتلا ہے ۔ نہیں ہرگز نہیں ۔ یہ اس کے بچپن کے خوف ہیں جواس کی ذات میں آسیب کی طرح جگہ بنا چکے ہیں ۔ اسلام تبسم بہاری ہے۔ یہ بہت چھوٹا سا تھا جب مشرقی پاکستان میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی گئی ۔ اسلام تیسم دیناج پور کے ایک سکول میں پڑھتا تھا جب اس نے ڈھا کا کواپنی آنکھوں کے سامنے ڈوبتے دیکھا۔ ایک چھ سات سال کالڑ کا صبح شام لاشیں دیکھتا تھا اور بوتل بموں سے ہونے والے حملے دیکھا تھا۔ حالات اتنے سنگین ہو گئے کہ اسلام تبسم اور اس کے اہل خانہ اپنے ہی دیس میں اجنبی قرار پائے ۔ انہیں راتوں رات ایک پناہ گزین کیمپ میں منتقل ہونا پڑا۔ چار سال پناہ گزین کیمپوں میں رہے اور پھر 1974 ء میں پاکستان آ گئے ۔ آپ خود جانتے ہیں کہ اس دور میں ” بہاری‘ ہونا کتنا بڑا جرم ہوتا تھا ۔ پاکستان آنے کے بعد ایک بالکل نیا ماحول اور نئے لوگ تھے ۔ اسلام تبسم اپنا بچپن اور اس کی یادیں ہی نہیں اپنی شوخی ، شرارتیں اور بے تکلفی بھی دیناج پور چھوڑ آیا ۔ بس ایک خوف تھا جو اس کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آیا اور آج بھی اس کے ساتھ موجود ہے۔
اسلام تبسم نے 77-1976ء میں کہانیاں لکھنا شروع کیں ،وہ بچوں کے لئے مزاحیہ کہانیاں لکھتا تھا، پھر انشایئے لکھنے لگا۔ اس نے بے شمار انشائیے اور مزاحیہ مضمون لکھے ۔ لوگوں کے ساتھ مکالمے اور اپنے اندر کے خوف کو دور کر نے کیلئے اس نے یہی ایک راہ تلاش کی ۔اس کے والد ڈاک خانے میں ملازم تھے سو انہوں نے اسے بھی اس کے ”روشن مستقبل “کی خاطر ڈاک خانے میں ہی بھرتی کرا دیا۔ یہ آج بھی محکمہ ڈاک کا ملازم ہے ۔ پہلے دوستوں کو خط لکھا کرتا تھا ۔ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے بھی اپنی خیریت سے بذریعہ ڈاک آگاہ کرتا تھا ۔ رفتہ رفتہ اس نے ڈاکیے کو بھی زحمت دینا چھوڑ دی ۔اس کے ساتھ پہلی ملاقات 1980 ء میں ہوئی ۔آج پچیس سال بعد بھی جب اس سے ملتا ہوں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم پہلی بار مل رہے ہیں ۔
اسلام تبسم انشائیے کا پہلا جائز و نگار ہے ۔ اس نے ملتان میں رہ کر انشائیے کے نقاد کے طور پر اپنی شناخت کرائی ۔ اس کے سالانہ جائزے ملکی سطح پر پڑھے جاتے اور زیر بحث رہتے تھے ۔ مگر پھر یوں ہوا کہ زندگی کٹھن سے کٹھن تر ہوتی چلی گئی ۔ ڈاکخانے کے کلرک کیلئے اپنی تنخواہ میں گھر چلاناممکن نہیں تھا ۔ اس نے کریانہ کی دکان کھولی ،موٹر سائیکل بیچ کر دکان میں مال ڈالا اور انشائیے کے ساتھ ساتھ آٹے دال کے بھاؤ سے بھی لوگوں کو آگاہ کرنے لگا۔ اسے خوش فہمی تھی کہ اس کی دکان چل نکلی تو پھر وہ موٹر سائیکل بھی دوبارہ خرید لے گا۔ مگر ہوا یہ کہ دکان بھی زیادہ دیر تک انشائیہ نگار کا ساتھ نہ دے سکی ۔موٹر سائیکل موجود تھا تو یہ کبھی کبھار دوستوں کو ملاقات کا شرف بخش ہی دیتا تھا ۔اب اس سے بھی گیا۔ اس کے پاس کئی کتابوں کے مسودے موجود ہیں مگر جہاں بچوں کا پیٹ بھرنا بھی ایک مسئلہ ہو وہاں کتا میں کیسے چھپوائی جاسکتی ہیں ۔
اسلام تبسم ایک انا پرست انسان ہے ۔مشکل سے مشکل حالات کا تن تنہا مقابلہ کرتا ہے ۔ کبھی دوستوں کو آزمائش میں ڈالنا پسند نہیں کرتا۔ تقریبات اور محفلوں سے دور رہتا ہے ۔ مذہب سے اسے بہت لگاؤ ہے ۔اس کی دکان بھی اس لئے برباد ہوئی کہ یہ دکان سے زیادہ وقت سامنے والی مسجد میں گزارتا تھا ۔ کوئی بھولا بھٹکا کا ہک آ بھی جا تا تو اسے کہتا تھا ” بھائی صاحب آئیں پہلے نماز پڑھ لیں اس کے بعد سودا سلف لے جانا“
ایک زمانے میں اس کی تحریر یں بہت زیادہ شائع ہوتی تھیں ۔ کوئی اخبار یا رسالہ ایسا نہ ہوتا تھا کہ جس میں اس کا انشائیہ یا مضمون نہ چھپا ہو ۔ مگر پھر رفتہ رفتہ اس کے لکھنے کی رفتار بھی کم ہوگئی ۔ لکھتا اب بھی ہے مگرکبھی کبھار اور جو کچھ لکھتا ہے اسے گھر پر ہی رکھ لیتاہے ۔اسے اب اپنی تحریریں شائع کروانے کا بھی شوق نہیں رہا۔ لوگوں کے ساتھ مکالمے کا جو واحد ذریعہ تھا وہ بھی اس نے ختم کر دیا ہے ۔ میں نے ایک بار اس سے پوچھا تھا” اسلام تم شاعر تو نہیں ہومگر تم نے اپنے نام کے ساتھ تبسم کی ردیف کیوں لگا رکھی ہے؟ “
کہنے لگا ”یار مسکراہٹ اگر میرے چہرے پر نہیں ہے تو کیا ہوا نام میں تو موجود ہے ۔“
کتاب آدھا سچ ۔۔ 2005 ء

