نامور صحافی، روزنامہ ایکسپریس ملتان کے سابق ریذیڈنٹ ایڈیٹراور ہم سب کے ”شاہ جی “ ۔۔عاشق علی فرخ کو ہم سے بچھڑے نو برس بیت گئے۔ وہ 28 جولائی 2013 ءکی شام ملتان میں انتقال کر گئے تھے۔ بلا شبہ یہ صحافت کے ایک عہد کا خاتمہ تھا۔ 1962 ئ سے جولائی 2013 ء تک شاہ جی کا اوڑھنا بچھونا صحافت ہی رہا۔ ایک ایسی صحافت جو شرافت ، متانت اور شائستگی سے عبارت تھی۔ ایک ایسی صحافت جو کاروبار نہیں مشن سمجھی جاتی تھی۔ شاہ جی ایسی ہی صحافت کی آخری نشانیوں میں سے تھے۔ یہ نشانیاں اب ختم ہوتی جا رہی ہیں۔۔ وہ ایک کارکن تھے اور ریذیڈنٹ ایڈیٹر کے عہدے تک پہنچ کر بھی کارکن ہی رہے۔
شاہ جی کی صحافتی خدمات کا عرصہ نصف صدی پر محیط تھا۔ ان پچاس برسوں کے دوران انہوں نے کئی نسلوں کی تربیت کی۔ 50 سالہ صحافتی کیریئر کے چالیس سال انہوں نے نوائے وقت کے لئے وقف کیے۔ لاہور میں کچھ عرصہ رپورٹنگ بھی کی لیکن پھر ان کے مزاج نے انہیں ڈیسک تک محدود کر دیا۔ نوائے وقت میں حمید نظامی کے انتقال کے بعد جب بیگم حمید نظامی کے ساتھ مجید نظامی کے اختلافات ہوئے تو عاشق علی فرخ اس ٹیم میں شامل تھے جس نے مجید نظامی کے ساتھ نوائے وقت سے الگ ہو کر ”ندائے ملت“ کا اجرا کیاتھا۔ اس دوران بہت سی مالی مشکلات بھی آئیں۔ ظہور عالم شہید نے لاہور سے جب ”جاوداں“ کا اجرا کیا تو شاہ جی اس کی تاسیسی ٹیم میں بھی شامل تھے۔ نوائے وقت کے ساتھ مجید نظامی کے معاملات درست ہوئے تو شاہ جی اور ندائے ملت والی ٹیم کے اراکین واپس نوائے وقت میں آ گئے۔ جون 1978 ءمیں نوائے وقت ملتان کا اجراءہوا تو شاہ جی اور قدرت اللہ چوہدری کا تبادلہ ملتان کر دیا گیا۔ یہ دونوں دوست اسی خیال سے ملتان آئے کہ کچھ عرصہ بعد واپس لاہور چلے جائیں گے۔ قدرت اللہ چوہدری صاحب نے تو ایسا ہی کیا اور کچھ عرصہ کی جلاوطنی کاٹنے کے بعد لاہور چلے گئے لیکن شاہ جی نے مستقل طور پر ملتان کو ہی اپنا مسکن بنا لیا۔نوائے وقت سے طویل وابستگی کے بعد انہوں اپنی زندگی کا آخری دور روزنامہ ایکسپریس میں گزارا۔ شاہ جی جب 1978 میں ملتان آئے تو یہاں روزنامہ امروز کئی برس سے واحد مقبول اخبار کے طور لوگوں کے دلوں کی دھڑکن تھا۔ امروزاس سے قبل ملتان سے کوہستان ، جسارت اور خود نوائے وقت کا بستر بھی گول کر چکا تھا۔ اب ملتان سے نوائے وقت کی اشاعت کا دوسرا دور تھا اور اس مرتبہ نوائے وقت ملتان سے پسپائی اختیار نہیں کرنا چاہتا تھا۔ نوائے وقت ملتان میں شیخ ریاض پرویز ریذیڈنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے۔ جبار مفتی اور عبدالقادر یوسفی نے ابھی اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا تھا ، بشیر اصغر چوہدری ، قاسم جعفری اور نصیر رعنا مختلف اخبارات کا سفر کرتے ہوئے نوائے وقت تک پہنچے تھے۔ ان میں سب سے سینئر شمس ملک صاحب تھے جو نیوز ایڈیٹر کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ شاہ جی نے اس ماحول میں تیزی سے اپنی جگہ بنائی اور کچھ ہی عرصہ میں عملاًوہی نیوز ایڈیٹر کے فرائض انجام دینے لگے۔
شمس ملک صاحب ایک درویش منش انسان تھے۔ تمام تر صلاحیتوں کے باوجود وہ بہت سے معاملات سے صرفِ نظر بھی کر جاتے تھے۔ اس زمانے میں نوائے وقت میں کام کرنے والے دوست بتاتے ہیں کہ ملک صاحب رات کو کاپی روانہ کرنے کے بعد اور بسا اوقات کاپی کی تیاری کے دوران بھی آل انڈیا ریڈیو سے نشر ہونے والی قوالیوں کا پروگرام بہت شوق سے سنتے تھے۔قوالی ان پر ایسی کیفیت طاری کرتی کہ وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جاتے۔ اس دوران بڑی سے بڑی خبر بھی ان کی توجہ اپنی جانب مبذول نہیں کرا سکتی تھی۔ٰمارچ 1981 میںجب امریکی صدر رونالڈ ریگن پر قاتلانہ حملہ ہوا تو شمس ملک صاحب اس وقت بھی کسی قوالی پر سر دھن رہے تھے۔حملہ پاکستانی وقت کے مطابق رات گئے ہوا اور اس وقت تک تمام اخبارات اپنی کاپیاں پریس میں بھیج چکے تھے۔ لیکن حملے کی خبر سنتے ہی سب نے کاپیاں واپس منگوائیں اورکچھ اخبارات نے شہ سرخیوں اور کچھ نے سٹاپ پریس کے طورپر خبر شائع کر دی۔ملک صاحب البتہ حملے سے بے خبر قوالی میں مگن رہے۔ اگلے روز نوائے وقت ملتان کے سوا تمام اخبارات میں ریگن پر حملے کی خبرموجود تھی۔۔ ریگن تو اس حملے میں بچ گئے مگر شمس ملک صاحب نہ بچ سکے۔پھر 39 سالہ عاشق علی فرخ کو نوائے وقت ملتان کے نیوز ایڈیٹر کا چارج دے دیا گیا۔ ملک صاحب سے ان کا عہدہ تو واپس نہ لیا گیا وہ مرتے دم تک اسی عہدے پر فائز رہے لیکن ان کی حیثیت اب محض اعزازی نیوز ایڈیٹر کی ہو گئی تھی۔ نوائے وقت انتظامیہ اور خود عاشق صاحب نے بھی ان کی عزت اور تکریم میں کوئی فرق نہ آنے دیا۔ ان کی وفات کے بعد عاشق علی فرخ باضابطہ اس عہدے پر فائز کر دیئے گئے۔
عاشق صاحب کے ساتھ میری رفاقت 23 سال پر محیط تھی ان 23 برسوں میں سے کم و بیش 12 سال تو ایسے ہیں جب مجھے روزانہ دس سے بارہ گھنٹے ان کے دائیں جانب بیٹھ کر کام کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس دوران مجھے ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ ان کے ساتھ مسلسل نظریاتی تصادم بھی رہا۔ وہ دائیں بازو کی سیاست کو پسند کرتے تھے اور قدرت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ میں ان کے بائیں جانب بیٹھتا تھا اور خود کو شاہ جی کا بایاں بازو کہتا تھا۔پھربھی شاہ جی کو نظریاتی اختلاف کے باوجود بائیں بازو پر ہی اعتماد کرنا پڑتا تھا اور میں نے بھی کوشش کی کہ ا ±ن کے اعتبار کو کبھی ٹھیس نہ پہنچے۔
1990 کے عشرے میں قدرت اللہ چوہدری کی ادارت میں اسلام آباد سے روزنامہ پاکستان کا اجرا ہوا تو عاشق صاحب نے نیوز ایڈیٹر کے لئے میرا نام دے دیا نوائے وقت سے کئی گنا زیادہ تنخواہ کی پیشکش تھی، لیکن میرے لئے ملتان چھوڑنا ممکن نہ تھا پھر شاہ جی نے ملتان سے علی شیر کو قدرت اللہ چوہدری کے سپرد کر دیا اور اسی اخبار سے ان کے صاحبزادے آصف علی فرخ بھی منسلک ہو گئے ۔
شاہ جی کی زندگی کے آخری چند سال انتہائی اذیت میں گزرے لیکن انہوں نے اس اذیت کوبھی بہت خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیا۔ انہیں ذیابیطس کا عارضہ تو ایک عرصے سے تھا ۔سگریٹ نوشی بھی بلا کی کرتے تھے اوررات گئے تک جاگنابھی ان کا معمول تھا۔اچانک ایک روز معلوم ہوا کہ ان کے گردے فیل ہوگئے ہیں اوروہ ڈائیلسز پر چلے گئے ہیں۔ میں شاکر حسین شاکرکے ہمراہ ان کی عیادت کے لیے گیا تو وہ ہشاش بشاش تھے ۔ہنستے مسکراتے رہے ۔اسی حالت میں انہوں نے طویل عرصہ گزارا۔لیکن معمولات زندگی میں فرق نہ آنے دیا۔وہ تقریبات میں بھی شریک ہوتے تھے ۔پریس کلب بھی کبھی کبھارآتے تھے ۔دفتر کے معمولات بھی جاری رکھنے کی کوشش کی ۔ان کا یہ دور میرے لیے حیران کن تھا۔انہوںنے بیماری کوخود پرمسلط نہیں ہونے دیا۔جولائی 2013ءکی شب نمازتراویح کے بعد ہم نے انہیں ملتان سے ہمیشہ کے لیے خداحافظ کہا ۔ایک ایمبولینس ان کے جسد خاکی کو ملتان سے لے کر قصور کے قصبے للیانی کی جانب روانہ ہوگئی ۔اوریہ وہی جگہ تھی جہاں سے انہوں نے زندگی کاسفر شروع کیاتھا۔
فیس بک کمینٹ

