سال 2022ءکے دکھوں میں ہمارے دوست سینئر صحافی غضنفرعلی شاہی کی جدائی کادکھ سب سے نمایاں ہیں ،وہ اسی برس ہم سے جداہوئے ،شاہی صاحب کانام یاد آیاتوان کے ساتھ جڑے ہوئے اوربہت سے دوست یادآگئے جن میں ایک نمایاں نام نذرعباس بلوچ کاتھا۔ملتان پریس کلب کی سیاست میں ہم غضنفرشاہی کے ساتھ ہوتے تھے اورایک مرتبہ مجھے بھی صدارت کی نشست کے لئے امیدواربنایاگیاتھالیکن میں اس الیکشن میں کامیاب نہ ہوسکا۔
الیکشن کا نتیجہ آیا تونذر بلوچ نے مجھے گلے لگایا اور ہچکیاں لے کر رونے لگا۔ پھراس نے اپنے آنسو صاف کیے اور گالیاں دینا شروع کردیں۔لیکن وہ گالیاں مجھے نہیں دے رہا تھا۔وہ ان لوگوں کو برابھلا کہہ رہا تھا جو ہمارے ساتھ دوستی کا دعوی کرتے تھے لیکن وقت آنے پر دشمنوں سے جاملتے تھے۔
” رضی انہوں نے پھرہمارے ساتھ ہاتھ کردیا۔یہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ ہم نے انہیں صدربنانے کا ٹھیکہ تو نہیں لے رکھا۔پریس کلب کے ہرالیکشن میں کیا ہمارا صرف نعرے لگانا ر ہ گیاوہ میری شکست پر بہت جذباتی ہو گیا تھا۔“
میں نے نذربلوچ کو تسلی دی ،اس کا غصہ کم کرنے کی کوشش کی اور کہا دیکھو تم خود ہی کہتے تھے کہ سیاست اسی کا نام ہے۔اورآج تم اپنی ہی بات سے مکر رہے ہو۔یاد کرو جب ہم نے ایم یوجے کاپہلا الیکشن لڑا تھا تو تم نے اسی طرح میرے ساتھ کھڑے ہوکر قمرالحق قمر کو ہروادیاتھاجیسے باقی دوستوں نے میرا ساتھ دینے کے باوجود مجھے ہروا دیا ہے۔ چھوڑ یارنذربلو چ سیاست اسی کوکہتے ہیں۔اس کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور وہ قہقہے لگاتا ہوا مجھے اپنے موٹرسائیکل پر بٹھا کر ایک چائے خانے پر لے گیا۔
اس کے ساتھ پہلی ملاقات غالباً 80 ءکے عشرے میں ہوئی۔ وہ ایک نوجوان رپورٹر کی حیثیت سے ہمارے ساتھ کام کرتاتھا۔ہم الگ الگ اداروں کے ساتھ وابستہ تھے اور مالکان کی چیرہ دستیوں کاشکاررہتے تھے۔تنخواہ بہت معمولی ہوتی تھی اور کئی کئی ماہ ملتی بھی نہیں تھی۔سگریٹ بھی بعض اوقات ہم مانگ کرپیتے تھے۔ہماری ملاقات اکثرتقریبات میں یا ان محفلوں میں ہوتی تھی جہاں رات گئے تک ادبی و سیاسی موضوعات زیربحث رہتے تھے۔ان میں میرے گھر کے قریب ہی ایک ڈیرہ منصور کریم کاتھا۔منصور کریم سیال سرائیکی پارٹی کے جنرل سیکرٹری کے طورپر اپنا ڈیرہ ہمیشہ آباد رکھتے تھے۔وسیب کے طول وعرض سے سیاسی کارکن جب ملتان آتے تو رات اسی ڈیرے پربسر کرتے تھے۔تاج لنگاہ سرائیکی پارٹی کے سربراہ تھے۔سرائیکی صوبہ جو آج تک نہیں بن سکا اس کے ابتدائی خدوخال اس زمانے میں اسی پارٹی میں سوچے جارہے تھے۔یہیں سے مطالبہ ہوتا تھا کہ ہمیں ہمارے حقوق دیئے جائیں۔ہمیں ملازمتیں دی جائیں۔ خطے میں روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں اوربالائی پنجاب کی بالادستی ختم کی جائے۔ اسی زمانے میں عاشق بزدار کی نظم ”اساں قیدی تخت لاہوردے“ زبان زد عام ہوئی تھی۔نذربلوچ کے ساتھ جب ہم منصور کریم کے ڈیرے پر بیٹھتے تو وہاں فدا حسین گاڈھی، محمودنظامی، رفعت عباس،ارشادتونسوی بھی موجودہوتے تھے۔ ہم خاموش سامع کے طورپر محمودنظامی اور منصور کریم کی دھواں دار گفتگو سن کر بہت کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ان کی یہ جارحانہ بحث گھنٹوں جاری رہتی۔نذربلوچ بھی اس بحث میں شریک ہوتا تھا۔نذربلوچ کالہجہ دھیما ہوتاتھا۔ منصور کریم اور محمودنظامی کی موجودگی میں وہ گفتگو بھی مختصر کرتا تھا۔پھرکچھ عرصے بعد ہم دونوں روزنامہ اعلان حق میں اکٹھے ہوگئے۔نذربلوچ خبریں بناتا تھا اور ہم اس کی خبروںپر سرخیاں جماتے تھے۔اسی دوران صحافتی تنظیموں کے الیکشن کی سیاست میں بھی ہم ایک دوسرے کے ہم رکاب ہوگئے۔نذربلوچ کے ساتھ الیکشن کاپہلا تجربہ شاید 1988ئ میں ہوا۔یہ ملتان یونین آف جرنلسٹس کے انتخابات تھے۔اوران انتخابات میں ہم دونوں نے اپنے دوست قمر الحق قمر کو امیدواربنایاتھا۔رانااکرم خالد اس کے مدمقابل تھے۔نذربلوچ ہمارے ساتھ قمرالحق کے لیے مہم چلاتا رہا لیکن آخری وقت میں اس نے ولی محمد واجد کے حکم پر رانا اکرم خالد کی حمایت کردی۔ایم یو جے کے اراکین کی تعداد بھی اس زمانے میں کوئی زیادہ نہیں ہوتی تھی۔قمرالحق قمر چند ووٹوں سے یہ الیکشن ہار گئے۔اور پھر ہم رات گئے تک یہ سوچتے رہے کہ نذربلوچ نے ہمارے ساتھ کیا کیا۔نذربلوچ سے چند روز بعد ملاقات ہوئی تو اس نے مسکرا کر گلے لگایا ،کہنے لگا میں واجد صاحب کاحکم نہیں ٹال سکتاتھا۔وہ میرے استاد ہیں۔ویسے بھی سیاست اسی کا نام ہے کہ آپ الیکشن جیتنے کے لیے آخری لمحات میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔پھر نذربلوچ خودبھی کئی لوگوں کا استاد بن گیا۔الیکشن کے جو گر اس نے واجد صاحب سے سیکھے تھے خود بھی آزمانے لگا۔نذربلوچ ایک انتھک کارکن تھا۔ این ایس ایف کی طلبا سیاست سے اس نے عملی زندگی کا آغاز کیا۔پھرمظہر عارف کے ساتھ سرائیکی”لوک سانجھ “میں شامل ہوا۔ اس کا شمار ان ابتدائی لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اس وقت سرائیکی خطے کی محرومیوں کو اجاگر کیا جب کوئی ان کی خبر بھی شائع نہیں کرتاتھا۔نوائے وقت سمیت بہت سے اخبارات میں لفظ سرائیکی پر پابندی تھی اور اس کی جگہ جنوبی پنجاب کا نام استعمال کیاجاتاتھا۔
نذربلوچ ایک بہت اچھا رپورٹر تھا۔ نڈر ،بے باک اور کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے والارپورٹر۔ اس کی تحریر بہت خوبصورت تھی۔خبر ایسے لکھتا تھا کہ جیسے کسی نے کاغذ پر موتی بکھیر دیئے ہوں۔بہت کم صحافی ایسے ہیں کہ جو خوش خط ہوتے ہیں۔نذربلوچ ان میں سے ایک تھا۔اس کا واضح سیاسی نقطہ نظر تھااوراس نے کبھی اس سے انحراف نہیں کیاتھا۔وہ ایک غریب آدمی کابیٹا تھا۔اس کے والد دلاور عباس کو ہم کالج کے زمانے سے جانتے تھے۔ وہ سول لائنز کالج کے سامنے لائسنس برانچ میں کام کرتے تھے۔شاکر حسین شاکراور ہمارا دوست ریاض شاہدانہیں چاچا دلاور کہتے تھے۔چاچادلاور کالج کے بعد نکلنے والے طالب علموں سے بہت محبت کے ساتھ پیش آتے تھے اور اکثر طالب علم انہیں کالج کے بعد گھیرے رکھتے تھے۔
بہت عرصے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ نذر بلوچ چاچادلاور عباس کے بیٹے ہیں۔ ایک غریب باپ کے بیٹے نے ساری زندگی جدوجہد میں گزار دی۔ایک بہت خوبصورت نوجوان نے زندگی کا سفر اتنی تیزی کے ساتھ مختصر کیا کہ ہم حیران رہ گئے۔نذربلوچ نے بہت سے اخبارات کےلئے خود کووقف کیے رکھا۔1989ءمیں معروف دانش ور ارشاد امین ملتان میں ” الشمس “ اخبار کے ساتھ منسلک ہوئے تو نذربلوچ بھی ان کے ساتھ تھا۔اسی دوران اس نے ملتان سے سیاسی جریدے ہفت روزہ ” اذان“ کا اجرا کیا۔پھر وہ مختلف اخبارات سے ہوتے ہوئے خبریں تک جاپہنچا۔ملتان سے روزنامہ خبریں کا آغاز ہوا تو نذر بلوچ اس کا چیف رپورٹر تھا۔اسی دوران ارشاد امین نے سرائیکی اخبار” سجاگ“ نکالا تو نذربلوچ خبریں کی نوکری چھوڑ کر ارشاد امین کے پاس مفت کام کرنے چلاگیا لیکن وہاں بھی وہ زیادہ عرصہ نہ گزارسکا۔اس کے اندر ایک بے چین روح تھی جو کسی نہ کسی مہم میں مصروف رہتی تھی۔2000ئ میں جب جنگ ملتان کا اجرا ہوا تو نذربلوچ چیف رپورٹر کے طورپراس سے وابستہ ہوگیا۔لیکن ایک آدھ برس بعد ہی روزنامہ جنگ سے بھی اس کا دانہ پانی اٹھ گیا۔مسئلہ صرف یہ تھا کہ ایک صاف شفاف انسان اس معاشرے میں جہاں آزادی صحافت کا بہت ڈھول پیٹا جاتا ہے آزادانہ کام نہیں کرسکتاتھا۔سو جب بھی نذربلوچ کسی دبا? کا شکارہوتا ،کہیں سمجھوتہ نہ کرتایا بطور رپورٹر ” اپنی اوقات“ سے باہر ہونے کی کوشش کرتا تو اسے وہ ادارہ چھوڑناپڑتاتھا۔یاتووہ خود چلاجاتایااسے کسی بہانے نکال دیاجاتا۔قصور اس کا نہیں تھا جو عملی زندگی کے آغاز میں ہی غوث بخش بزنجو ،قسور گردیزی، ولایت حسین گردیزی اور نوابزادہ نصراللہ خان کی محفلوں میں بیٹھا ہو وہ بھلا کسی اصول پر سمجھوتہ کیسے کرسکتا تھا۔ملتان میں اس کے لیے اخبارات کے دروازے یکے بعد دیگرے بند ہوتے چلے گئے تووہ اسلام آبادچلاگیا۔ہفت روزہ ہم شہری اسلام آباد کا بیوروآفس اس کامسکن بنا۔اسی دوران وہ روہی ٹی وی سے بھی منسلک ہوگیا لیکن اب اس کے لیے زندگی کا سفر آسان نہیں رہا تھا۔وہ عارضہ قلب کاشکارہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے صحت کے مسائل نے اسے آن گھیرا۔22دسمبر2013ءکو وہ ہمیشہ کے لئے وہ ہم سے جداہوگیا۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)
فیس بک کمینٹ

