بے بسی ایسی نہ تھی ، یہ شہر تو ایسا نہ تھا
لوگ سب زندہ تھے لیکن کوئی بھی زندہ نہ تھا
کون تھا میرے سوا اُ س آیئنے کے سامنے
لیکن اُ س کی آنکھ میں جو عکس تھا میرا نہ تھا
سوچتا تھا میں سفر کو تو بہت تھیں منزلیں
جب میںگھر سے چل پڑا تو سامنے رستہ نہ تھا
اُ س کی یہ خواہش میں اپنی کرچیاں چنتا پھروں
میں رضی لیکن کبھی ٹوٹا نہ تھا بکھرا نہ تھا
( دن بدلیں گے جاناں : مطبوعہ مئی 1995)
فیس بک کمینٹ

