اک ادھورے خواب کی تکمیل کر سکتا ہوں میں
راستہ تیرے لیے تبدیل کر سکتا ہوں میں
فیصلے میں اس قدر تاخیر بھی اچھی نہیں
ورنہ اپنے جرم کی تاویل کر سکتا ہوں میں
مانتا ہوں نام تیرا نقش ہے دل پر مگر
ایک نقشِ آب ہے تحلیل کرسکتا ہوں میں
آج اوروں کی طرح میں بھی بہت مجبور ہوں
آج تیرے حکم کی تعمیل کر سکتا ہوں میں
جوڑ سکتا ہوں رضی ٹوٹی ہوئی تصویر کو
منتشر لمحات کی تشکیل کر سکتا ہوں میں
( دن بدلیںگے جاناں : مطبوعہ مئی 1995 ء )
فیس بک کمینٹ

