ملتان۔۔ معروف شاعر، صحافی، دانشو ر اور انچارج اردو سروس ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان رضی الدین رضی اے پی پی ملتان میں تیس سالہ صحافتی خدمات سرانجام دینے کے بعد ملازمت سے ریٹائر ہو گئے۔اپنے صحافتی کیرئیر میں انہوں نے اپنے فیچرز اور خبروں کے ذریعے ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے محروم طبقات کے مسائل اور ثقافت کو اجاگر کیا۔
رضی الدین رضی کی ریٹائر منٹ پر اے پی پی ملتان سٹیشن پر ان کے اعزاز میں ایک پروقار الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔
تقریب میں اسٹیشن منیجر قاضی افتخار احمد، انچارج اردو سروس فیصل آباد راؤ علی عامر سلطان،سینئر صحافی محمد عاطف اسماعیل،چیف رپورٹر تصور حسین، انچارج اردو سروس عمر حیات بورانہ،انچارج فوٹو سیکشن تنویر حسین بخاری، انچارج ایڈمن /اکاونٹس جاوید اقبال کے علاوہ سلمان رضا، حسنین ریاض، عنایت اللہ کھچی، ماجد کلاسرہ،ظہور حسین شمسی،عطاء الہادی،سہیل خالد،اے ڈی سیال، محمدطارق،خواجہ عارف، شاہدمحمود و دیگر سٹاف نے شرکت کی۔
سٹیشن منیجر قاضی افتخاراحمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رضی الدین رضی نے اے پی پی میں جو وقت گزارا اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔وہ ملتان میں اے پی پی کا چہرہ تھے۔ ان کی وجہ سے ہمیں ملک بھر کی نامور علمی و ادبی شخصیات سے رابطوں میں آسانی ہوتی تھی۔ سینئر ہونے کے ناتے انہوں نے ہمیشہ صحافت کے اسرارو رموز سے آگاہی دی۔
انچارج اردو سروس فیصل آباد راؤ عامر سلطان نے کہا کہ رضی الدین رضی اور میں نے 1996ء میں اے پی پی کو جوائن کیا۔ایک محبت کرنے والے اور پیشہ ور صحافی ہیں۔جنہوں نے مجھے خبر بنانا سکھایا۔چیف رپورٹر تصور حسین کا کہنا تھا کہ اردو سیکشن ایک قابل اور ایماندار صحافی سے محروم ہوگیا۔سینئر جرنلسٹ عاطف اسماعیل،مہر حسنین اور ایڈمن انچارج جاوید اقبال سمیت تمام سٹاف نے رضی الدین رضی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
اپنی ریٹائرمنٹ کے موقع پر رضی الدین رضی نے کہا کہ میری زندگی کا بیشتر وقت اے پی پی میں گزرا۔تیس برس کے دوران میں نے اس دفتر کو ہی اپنا گھر سمجھا۔ ہم گھر سے زیادہ یہیں وقت گزارتے تھے۔رضی الدین رضی نے مزید کہا کہ اپنے دفتر کے تمام لوگوں کو ہمیشہ یاد رکھوں گا۔تقریب کے آخر میں انہیں پھول اور تحائف دے کر رخصت کیا گیا۔
فیس بک کمینٹ

