ملتان ۔۔ ( گردوپیش رپورٹ ) ۔۔ نام ور غزل گو شاعر تیمور حسن تیمور اکیس جولائی کو دل کا دورہ پڑنے سے لاہور میں انتقال کر گئے ۔ ان کی عمر 51 برس تھی ۔ تیمور حسن تیمور بصارت سے محروم تھے لیکن انہوں نے اس محرومی کو کبھی زندگی کے معمولات میں رکاوٹ نہ بننے دیا ۔
تیمور حسن تیمور 21 مارچ Mar1974 میں لاہور میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج آف سائنس وحدت کالونی لاہور سے تعلیم حاصل کی اور پھر اسی کالج میں اردو کے استاد کی حیثیت سے فرائض انجام دیے ان کی نماز جنازہ کل بائیس جولائی کو ان کے کالج میں ہی ادا کی جائے گی ۔
تیمور حسن تیمور کے دوست اور کلاس فیلو معروف شاعر سید سہیل عابدی نے گردوپیش کو بتایا کہ تیمور کے ساتھ دو روز قبل بھی بات ہوئی تھی ۔ وہ آج بھی معمول کے مطابق دوستوں کے ساتھ تھے۔ شام چھے بجے ان کی طبیعت ناساز ہوئی انہیں فوری طور پر شیخ زید ہسپتال لایا گیا مگر وہ جاں بر نہ ہو سکے ۔
تیمور حسن تیمور کی ایک غزل
موتی نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو میں بھی ہوں
دریا ترے وجود کا حصہ تو میں بھی ہوں
اے قہقہے بکھیرنے والے تو خوش بھی ہے
ہنسنے کی بات چھوڑ کہ ہنستا تو میں بھی ہوں
مجھ میں اور اس میں صرف مقدر کا فرق ہے
ورنہ وہ شخص جتنا ہے اتنا تو میں بھی ہوں
موتی نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو میں بھی ہوں
دریا ترے وجود کا حصہ تو میں بھی ہوں
اس کی تو سوچ دنیا میں جس کا کوئی نہیں
تو کس لیے اداس ہے تیرا تو میں بھی ہوں
اک ایک کر کے ڈوبتے تارے بجھا گئے
مجھ کو بھی ڈوبنا ہے ستارہ تو میں بھی ہوں
اک آئنے میں دیکھ کے آیا ہے یہ خیال
میں کیوں نہ اس سے کہہ دوں کہ تجھ سا تو میں بھی ہوں

