پچھلے دنوں ہندوستان کی ریاست گجرات میں ریاستی اسمبلی کے انتخاب کی مہم کے آغاز پر جب کانگریس کے صدر راہول گاندھی سومنات کے مندر گئے تو مندر کے رجسٹر میں انہیں غیر ہندو لکھا گیا تھا جس پر زبردست ہنگامہ برپا ہوگیا تھا۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے شور مچایا تھا کہ یہ کانگریس کے خلاف سازش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ راہول ہندو ہیں اور مقدس دھاگہ جنیو پہنتے ہیں۔
اس تنازعہ پر مجھے راہول کے دادا فیروز گاندھی یاد آگئے جن کا میں سن ساٹھ میں دلی میں پڑوسی تھا۔ میں پارلیمنٹ کے قریب رائے سینا ہاسٹل میں رہتا تھا اور دو قدم کے فاصلے پر راجند پرشاد روڈ پر اراکین پارلیمنٹ کے بنگلہ میں فیروز گاندھی رہتے تھے۔ میرے دوست ممتاز صحافی اندر ملہوترا نے بہت تعریف و توصیف کے ساتھ میرا تعارف فیروز گاندھی سے کرایا تھا۔ پہلی ہی ملاقات میں فیروز گاندھی مجھ سے گھل مل گئے تھے، ایک تو پڑوسی کے ناتے سے دوسرے انہیں پاکستان کی سیاست، اقتصادی صورت حال اور سماجی حالات جاننے میں گہری دلچسپی تھی۔ مجھے تعجب ہوا کہ وہ نہایت شستہ اردو بولتے تھے اور اردو شاعری سے گہرا شغف تھا۔ میں نے جب حیرت کا اظہار کیا تو کہنے لگے حضرت میرا بچپن اور جوانی اللہ آباد میں گذری ہے اتنا بھی میں کوڑھ مغز نہیں تھا کہ اردو سے میں بے بہرہ رہتا۔ فیروز گاندھی روزانہ شام کو اصرار کر کے مجھے اپنے بنگلہ پر بلاتے تھے۔
ان دنوں ان کی اہلیہ اندرا گاندھی، وزیر اعظم کی کوٹھی تین مورتی میں اپنے والد نہرو کے ساتھ رہتی تھیں اور فیروز گاندھی اکیلے اپنے بنگلہ میں رہتے تھے۔ اس زمانہ میں ان کے اندرا گاندھی سے تعلقات کشیدہ تھے۔ جس کا دوش وہ نہرو کو دیتے تھے۔ وہ بڑے دکھ کے ساتھ کہتے تھے کہ میں نے نہرو کی پتنی کملانہرو کی ان کے بیٹے کی طرح خدمت کی۔ وہ جب تپ دق کے مرض میں مبتلا تھیں تو میں ان کے ساتھ بھوالی کے سینٹوریم میں رہا اور جب ان کی حالت بگڑی اور علاج کے لیے لوزین، سویزرلینڈ گئیں تو میں ان کے ساتھ رہا۔ اس کا نہرو نے یہ صلہ دیا کہ میری پتنی کو مجھ سے چھین لیا۔
نہرو بھی ان دنوں فیروز گاندھی سے ناخوش تھے کیونکہ انہوں نے حکومت کی لائف انشورنس کمپنی میں سنگین کرپشن کے اسکنڈل کا انکشاف کیا تھا جو مندھرا اسکینڈل کے نام سے مشہور ہوا تھا۔ اس اسکینڈل میں ملک کے مالدار ترین صنعت کار رام کرشن ڈالمیا کو قید کی سزا ہوئی تھی اور نہرو کے وزیر خزانہ ٹی-ٹی کرشنما چاری کو استعفی دینا پڑا تھا۔ اس کے بعد فیروز گاندھی نے حکومت میں کرپشن کے خلاف بڑے پیمانہ پر مہم شروع کی تھی جو نہرو کے لیے سخت پریشانی کی باعث تھی۔ فیروز گاندھی کی قیادت میں کانگریس میں باغی گروپ منظم ہورہا تھا جس کی وجہ سے نہرو اور اندرا گاندھی دونوں سخت نار ارض تھے۔

فیروز گاندھی کو سب سے زیادہ شکایت اندرا گاندھی سے تھی۔ انہیں اس بات پر سخت رنج تھا کہ اندرا گاندھی نے سیاست کی خاطر ان کے دونوں بیٹوں راجیو اور سنجے کو ہندو بنادیا ہے۔ فیروز گاندھی کا کہنا تھا کہ میں بہروچ، گجرات کا خالص پارسی اور فریدون جہانگیر کا بیٹا، میرے جیتے جی میرے بچوں کے ماتھے پر تلک لگا کر اور انہیں اپنے ساتھ مندروں میں لے جا کر اندرا انہیں ہندو ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
میں نے ایک شام فیروز گاندھی سے کہا کہ میں نے آنند بھون الہ آباد میں آپ کی شادی کی تصویر دیکھی ہے جو ہندوانی طریقہ سے ہوئی تھی اور ایک پنڈت شادی کی رسم ادکر رہے ہیں۔ اس میں اندرا گاندھی کے پیچھے نہرو کی ہمشیرہ مسز وجے لکشمی پنڈت بیٹھی ہوئی ہیں۔ فیروز گاندھی بولے لیکن تصویر میں نہرو کہیں نظر نہیں آتے۔ میں نے پوچھا کیوں؟
فیروز گاندھی نے کہا کہ اس لیے کہ وہ اس شادی کے خلاف تھے اور صرف اس شرط پر شادی کے لیے راضی ہوئے کہ شادی آنند بھون میں ہوگی اور ہندو رسم کے مطابق ہوگی۔ فیروز گاندھی نے بےبسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں 1933ء سے اندرا سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن نہرو طرح طرح کے حیلے بہانے بنا کر ٹالتے رہے۔ آخر کار اندرا کے بھی شدید اصرار پر وہ بارہ سال بعد 1945ء میں شادی کی اجازت دینے پر مجبور ہوئے ۔
میں نے پوچھا کہ آپ کے نام میں گاندھی پر ایک سوال میرے ذہن میں اور بے شمار دوسرے لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے کہ آپ کا گاندھی جی سے کیا تعلق ہے؟ کہنے لگے کہ 1930ء میں جب میں الہ آباد میں تھا میں کانگریس کی ونار سینا میں شامل تھا۔ میں ملک کی آزادی کا متوالا تھا اور اس زمانے میں گاندھی جی سے بے حد متاثر تھا۔ میرا اصل نام گھندی-Ghandy تھا، گھندی عطر بیچنے والوں کو کہتے ہیں اور یہی ہمارے خاندان کا نام تھا۔ گاندھی جی کی عقیدت میں میں نے اپنے نام کی اسپیلنگ بدل کر Gandhi کر دی یوں میرا نام گاندھی ہوگیا۔
فیروز گاندھی کو سیاسی مقاصد کے لیے اپنے بیٹوں کا مذہب تبدیل کیے جانے پر اس قدر افسوس تھا کہ جیسے ان کے جیتے جی ان کے بیٹوں کو چھین لیا گیا ہو اور خود ان کی شناخت مسخ کر دی گئی ہو۔
فیروز گاندھی کی ان باتوں کو جب میں یاد کرتا ہوں تو 8 ستمبر 1960ء وہ دن یاد کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جب فیروز گاندھی نے مجھے اور اندر ملہوترا کو دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا تھا۔ بارہ بجے سوالات کے وقفہ کے دوران میں اور اندر ملہوترا لوک سبھا کی پریس گیلری میں بیٹھے تھے کہ اچانک نیچے ایوان سے فیروز گاندھی نے ہم دونوں کو صدر دروازہ کی طرف آنے کے لیے اشارہ کیا۔ ہم دونوں تیزی سے صدر دروازہ کی طرف لپکے۔ وہاں فیروز گاندھی ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ کہنے لگے کہ مجھے سینے میں درد ہو رہا ہے میں نزدیک ولنگڈن اسپتال جا رہا ہوں، واپسی میں پریس کلب میں ملاقات ہوگی۔ فیروز گاندھی خود اپنی کار چلا کر اسپتال روانہ ہوئے اور ہم پریس کلب کی طرف روانہ ہوئے۔ ابھی ہم پریس کلب میں ان کا انتظار کر رہے تھے کہ ریڈیو پر ایک بجے کی خبروں میں اعلان ہوا کہ فیروز گاندھی کا ہسپتال میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال ہو گیا۔ ہمارا دل دھک سے رہ گیا ابھی ایک گھنٹہ پہلے ہم نے فیروز گاندھی کو کار میں اسپتال جاتے دیکھا تھا اور اب ان کے انتقال کی خبر سن رہے ہیں۔ کچھ دنوں بعد فیروز گاندھی کی میت نذر آتش کر کے ان کی راکھ الہ آباد میں پارسیوں کے قبرستان میں دفن کر دی گئی۔
فیس بک کمینٹ

