امجد اسلام امجدکالملکھاری

امجد اسلام امجد کا کالم : لالہ جلال، فرتاش سیّد، ایس سلیمان اور…

جناب حضرت علیؓ کا ایک مشہور قول ہے کہ ’’میں نے اپنے رب کو ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا ‘‘ غور سے دیکھا جائے تو ہم سب کے شب و روز میں اس گہری اور رمزیہ بات کی گونج مسلسل سنائی دیتی رہتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہم اس پر اُس طرح سے غور نہیں کرتے جو اس کا حق بنتا ہے۔
اب دیکھیے گزشتہ کالم میں ، میں نے عزیزی ریاض ندیم نیازی کے مجموعہ حمد و نعت پر لکھتے وقت اعلان کیا تھا کہ رمضان کے مبارک مہینے میں زیادہ تر کالم ادب میں موجود دینی رجحانات اور اس سے متعلق کتابوں پر ہی لکھوں گا لیکن گزشتہ تین چار دنوں میں شعر و ادب، فنونِ لطیفہ اور تعلیم کے میدان سے یکے بعد دیگرے اتنے باکمال لوگ ہمارے درمیان میں سے اُٹھ گئے ہیں کہ جن میں سے بیشتر کم از کم ایک مکمل کالم کے حق دار تھے۔
میرے ذاتی دوست اور بڑے بھائیوں جیسے شفیق لالہ جلال الدین کا غم اس اعتبار سے سب پر بھاری اور منفرد ہے کہ وہ اُن لوگوں میں سے تھے جن کے اُٹھ جانے سے واقعی شہر بے چراغ ہوجاتے ہیں۔ ہر تاریخی شہر ، تہذیبی حوالے سے اپنے کچھ نمایندہ لوگوں کی معرفت زندہ رہتا ہے اور پہچانا جاتا ہے اور بلاشبہ لالہ جلال الدین لاہور شہر کی اُس تہذیب کے بہترین نمایندوں میں سے تھے۔ اُن کا خاندان قیام پاکستان سے قبل اپنی تجارتی صلاحیتوں اور انسان دوستی کے لیے معروف تھا۔ پاکستان بننے کے بعد بیکریز اور ریستورانٹس کے ذریعے انھوں نے جو اعلیٰ معیارات قائم کیے، وہ ایک طرح سے لاہور اور لاہوریوں کی تہذیبی پہچان بن گئے اور اُن کی سروس، اندازاور معیار کا یہ عالم تھا کہ دوست احباب برسوں بعد وطن لوٹنے پر جن جگہوں پر جانے کی خصوصی فرمائش کرتے تھے۔ اُن اداروں کے پیچھے لالہ جلال الدین کا شفیق اور محبت بھرا چہرا صاف دکھائی دیتا تھا۔ وہ ایک مجلسی آدمی تھے اور روزانہ شام کو اُن کے گھر جو محفل جمتی تھی اُس میں معاشرے میں موجود ہر مسئلے پر تعمیری گفتگو ہوتی تھی۔ اپنے ادارے سے متعلقہ لوگوں اور بالخصوص کم آمدنی والے لوگوں سے اُن کی محبت اور اُن کی خوشی غمی میں اُن کی شمولیت دیدنی تھی۔ گزشتہ چند برسوں سے اُن کے مخصوص احباب کی محفل کے بکھرنے اور اُن کی مسلسل علالت کی وجہ سے وہ تقریباًتنہائی اورخاموشی کی زندگی گزار رہے تھے۔
اُن کی بینائی، سماعت اور یادداشت بھی خاصی متاثر ہوچکی تھی مگر جب بھی اُن سے فون پر بات یا ملاقات ہوتی اُن کی محبت کا نقش دل پر اور گہرا ہوجاتا۔ میری طرف سے ایک کتاب کے اپنے نام انتساب کا ذکر وہ اس پیار سے کرتے تھے اور ہر دوست کا اس طرح سے خیال رکھتے تھے کہ یقین نہیں آتا تھا اس دورمیں ایسے بے غرض اور بے پناہ محبت کرنے والے لوگ بھی ہوسکتے ہیں کہ جب ہر کوئی صرف اپنے فائدے کی بات کرتا ہے، لالہ جلال الدین اس لاہور کی تہذیب کے نمایندہ تھے جو دوسرے کی بات سننے اور اُس کے غم اور خوشی میں شامل ہونے اور ضرورت پڑنے پر ہر ایک کی مدد کرنے کو اپنا فریضہ ٗ اولین سمجھتے تھے۔ وہ صحیح معنوں میں اُن لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ ’’خدا رحمت کنند ایں عاشقانِ پاک طینت را‘‘۔
جہاں لالہ جلال میرے بڑے بھائیوں کی طرح تھے وہاں فرتاش سیّد کا شمار برادرانِ خورد میں ہوتا تھا کہ اس نوجوان نے جس طرح ایک پسماندہ علاقے سے اُٹھ کر نہ صرف اعلیٰ تعلیمی مدارج طے کیے ، محنت سے اپنے اور اپنے بچوں کے لیے روزی کمائی اور ادب کے میدان میں ایک عمدہ شاعر اور انتھک منتظم کے طور پر دوحہ قطرمیںقائم مجلس اُردو ادب کی تقاریب کا اہتمام کیا اور بالخصوص اپنے محسن اور مجلس کے بانی ملک مصیب الرحمن کی وفات کے بعد برادرم محمد عتیق کا ہاتھ بٹایا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔
اس دوران میں اُسے بعض دوستوں کی ناراضگی کا سامنا بھی کرنا پڑا جس کی تفصیل میں جانے کا یہ وقت نہیں لیکن اس بات کی داد اُس کو ضرور ملنی چاہیے کہ اُس نے بے حد نا مساعد حالات میں غیر معمولی ترقی کرکے جومقام حاصل کیا وہ ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا، اب کہیں جاکر اُس کی زندگی میں معاشی اعتبار سے ایک ٹھہراؤ اور استحکام پیدا ہو رہا تھا کہ اُس کی مدتِ قیام ہی ختم ہوگئی۔ شاعری میں بھی اُس کا طرزِ کلام اور پڑھنے کا انداز قدرے بلند آہنگ اور جارحانہ ہونے کے باوجود پسندیدگی اور مقبولیت کی نئی سے نئی منزلیں طے کر رہا تھا، اس وقت مجھے اس کی ’’میں تو مارا گیا‘‘ والا ردیف کا ایک شعر بہت یاد آرہا ہے، کسے معلوم تھا کہ ایک دن یہ شعر واقعی اُس کی عدم موجودگی میں پڑھا جائے گا۔
مدعی بارگاہِ محبت میں فرتاش تھے اور بھی
نام میرا ہی لیکن پکارا گیا ’’میں تو مارا گیا‘‘
اوراس کے ساتھ ہی یہ شعر بھی دیکھتے چلئے جو اس کے ابتدائی دنوں کا ہے مگر اُس نے ساری زندگی اسی کے تسلسل میں گزاری۔
دورِ باطل میں حق پرستوں کی
بات رہتی ہے سرنہیں رہتے
لالہ جی اور فرتاش سیّد کی رحلت کا غم شائد تقدیر کو ہلکا محسوس ہوا کہ اسی دوران میں دو اور پیارے ایس سلیمان اور جنید اکرم بھی خاموشی سے چل دیئے۔ ایس سلیمان اب گزشتہ بیس پچیس برس سے فلمی دنیا سے تقریباً قطع تعلق کرچکے تھے، اُن کا تعلق ہماری فلمی دنیا کے سب سے معتبر اور گنجان آباد خاندان سے تھا کہ اُن کے بھائی سید موسیٰ رضا (سنتوش کمار) درپن ، منصور اور خواتین صبیحہ خانم،نیئرسلطانہ اور زرّیں پنا جیسے لوگ جزوی طور پر ظریف فیملی سے قطع نظر شائد ہی اس طرح سے ایک جگہ پرہوں۔
ایس سلیمان نے بھائیوں اور بھابیوں کے بر خلاف ڈائریکشن کے میدان کا انتخاب کیا اور اس شعبے میں جتنا بھی کام کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ میری اُن کی ذاتی ملاقاتیں زیادہ تر اُن کی علالت کے دنوں میں ہوئیں، وہ ہر اعتبار سے بہت نفیس اور سلجھے ہوئے انسان تھے جہاں تک جنید اکرم کا تعلق ہے شائد بہت کم دوستوں کو معلوم ہو کہ وہ گزشتہ سولہ برس سے ڈائیلسس پر تھا، اس کے گردے جواب دے چکے تھے اور موٹاپے کے علاوہ بھی وہ کئی قسم کی بیماریوں سے نبردآزما تھا لیکن اس سارے عرصے میں نہ اس کی مسکراہٹ میں کمی آئی نہ طبیعت کی شوخی دھندلائی اور نہ ہی تخلیقی کام رُکا۔ ایک طرف وہ اپنے عظیم نانا ڈاکٹر فقیر محمد کی تصانیف کو جمع اور شائع کر رہا تھا اور دوسری طرف رسالہ نکالنے کے ساتھ ساتھ اُردو اور پنجابی شاعری اور تنقید دونوں میں ایسا سرگرم تھا کہ ہر سال اُس کی کوئی نہ کوئی تصنیف سامنے آرہی تھی۔ وہ ہم سب کے عزیز، عزیزی سہیل احمد کا چھوٹابھائی تھا اور میرے لیے بھی برادر خورد جیسا ہی محبوب تھا۔ رب کریم اُس کی روح پر اپنا کرم فرمائے۔
بھارت اور پاکستان کسی اور میدان میں ایک دوسرے کی برابری تسلیم کریں یا نہ کریں مگر جہاں تک اموات کی گنتی کا تعلق ہے عین انھی دنوں میں وہاں بھی چار ایسے دوست جان کی بازی ہار گئے ہیں جو شعر و ادب، تنقید اور فکشن کے میدان میں ایک نام اور مقام رکھتے تھے۔ ان میں سب سے اہم نام تو مشرف عالم ذوقی کا ہے کہ جدید افسانے اور ناول کے حوالے سے وہ عالمگیر شہرت کے مالک تھے اور پاکستان میں بھی اُن کی تحریریں بہت شوق اور باقاعدگی سے پڑھی جاتی تھیں ۔ مذہب ، روایت اور جنس تینوں کے بارے میں اُن کے نظریات بہت جارحانہ اور مختلف تھے جن کا اظہار وہ بہت جراّت مندانہ طریقے سے کرتے تھے۔
ان کے بعد جس دوسرے دوست انجم عثمانی کے انتقال کی خبر ملی ہے وہ ہمارے سعد عثمانی کے رشتے دار بھی تھے اور ان سے بالمشافہ ملاقات کا موقع چند برس قبل ’’دور درشن‘‘کے ایک ادبی پروگرام کے حوالے سے ملا تھا جس میں انھوں نے میرا انٹرویو کیا تھا۔ وہ ادب کے بہت سنجیدہ طالب علم تھے اور شاعری کے ساتھ ساتھ تنقید اور تحقیقی کے شعبوں میں بھی بہت گہری اور عالمانہ دلچسپی رکھتے تھے۔
مناظر عاشق ہرگانوی پر گانوں سے بھی بھارت میں ہونے والی کچھ کانفرنسوں میں ملاقات رہی، وہ بہت زود نویس تھے اور ایک سال میں عام طور پر اُن کی پانچ چھ کتابیں شائع ہوجاتی تھیں، اسی طرح علی گڑھ یونیورسٹی کے پروفیسر جمشید صدیقی بھی اُردو زبان و ادب کے پر خلوص خدمت گزاروں میں سے تھے، ا ن سب کے ایک ساتھ اُٹھ جانے سے یقینا بھار ت کی اُردو دنیا ایک بہت بڑے نقصان سے گزری ہے ۔ جن آٹھوں دوستوں کا اس کالم میں ذکر ہوا ہے، اُن میں سے بیشتر کورونا کا شکار ہوئے ہیں۔ سو آخر میں ایک بار پھر ربِ کریم سے مل کر یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ اس عذاب کو ہم سب کے سروں سے ٹال دے اور اس دنیا پر اپنا کرم فرمائے۔

( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker