کالملکھاری

کنول نعمان کا استعفا اور کرپش کہانی: تماشا / ریاض صحافی

ماضی کی اداکارہ کنول نعمان کاپنجاب اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ بھی ڈرامہ نکلا کیونکہ اس خاتون کی اصل پہچان ڈرامہ بازی ہی تو ہے جو اس نے ٹی وی‘تھیٹر کے ڈراموں سے بنائی۔ ایک روز استعفیٰ دیا دوسرے دن واپس لے لیا۔
اب جبکہ موجودہ حکومت کے چل چلاؤ میں صرف ایک ہفتہ باقی ہے اس نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اسمبلی رکنیت سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھاکہ وہ اس سیاست سے باز آئی جس میں پارٹی قیادت کی طرف سے اس کے کارکنوں کو کوئی لفٹ نہیں کرائی جاتی۔ کنول خواتین کی مخصوص نشستوں پر ایم پی اے بنی تھی، اس سے قبل جو آرٹسٹ ایوانوں تک پہنچے ان میں طارق عزیز اور خوش بخت شجاعت شامل ہیں۔ طارق عزیز ن لیگ کی ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے تھے جبکہ کراچی ٹی وی کی آرٹسٹ خوش بخت شجاعت ایم کیو ایم کی مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی کی رکن بنی۔ اسی طرح سیاست کے میدان میں جن دیگر فنکاروں نے قسمت آزمائی کی ان میں عنایت حسین بھٹی، قوی خان، کمال ، مسرت شاہین اور ابرار الحق کے نام انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ مگر وہ انتہائی زوردار انتخابی مہم چلانے کے باوجود اسمبلیوں تک نہ پہنچ سکے۔
ن لیگ سے ناطہ توڑنے اورجوڑنے والی ایم پی اے کنول کا تعلق کوئٹہ سے ہے جو تقریباً 35 برس قبل اپنے من کی مرادیں پانے کیلئے اپنی والدہ کے ہمراہ زندہ دلوں کے شہر لاہور چلی آئی۔ چھوٹی موٹی نوکریوں کے بعد شوبز کی دنیا میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔ اس وقت تھیٹر اور ٹی وی پر تمنا، نجمہ محبوب، ثروت عتیق، افشاں قریشی(فیصل قریشی کی والدہ)، فوزیہ درانی، صبا حمید، شبانہ شیخ ، عارفہ صدیقی، شیبا حسن اور بندیا خوب چمک رہی تھیں۔ اس نے ان کے جلوے میں جلوہ آرائی کی ٹھانی، یہ وہ دن تھے جب روبی انعم جیسی مخولن بھی ڈراموں میں آنے کیلئے پاپڑ بیل رہی تھی۔
ابتدا میں کنول کو ٹی وی ڈراموں میں کچھ ثانوی کردار ملے‘ سٹیج پر اس کا پہلا ڈرامہ منیر راج کا کھیل ”نوپارکنگ“ تھا۔ الحمرا والے زبیر خان اس کے سفارشی تھے۔ اس نے تھیٹر کے درجن بھر ڈراموں میں کام کیا۔ اس دوران نعمان نامی ایک سرمایہ دار سے شناسائی ہوئی تو اس کے گھر والی بن گئی۔ کچھ عرصہ بعد بیٹے کی ماں بنی۔ بیٹے کی ولادت 23 برس قبل شیخ زید ہسپتال میں ہوئی۔ اس کا بیٹا احمد پیدائشی معذور ہے۔ شادی کے بعد شوبز کے دروازے بند ہوئے تو یہ دکھیاری ن لیگ کی متوالی بن گئی۔ اکثر اس سیاسی جماعت کی تقریبات میں نظر آنے لگی۔ جہاں اس نے اپنے سینے پر اپنے قائد میاں نوازشریف کی مورت والے بیج سجا رکھے ہوتے تھے۔ اس کی انہی خدمات کے اعتراف میں ن لیگ کی قیادت نے اسے انعام کے طور پر پنجاب اسمبلی میں خواتین کی خصوصی نشستوں کے کوٹہ سے ایم پی اے کے عہدہ سے نوازا۔ اس کے بعد اس کی خوب بن آئی۔ الحمرا آرٹس کونسل کی رکن گورننگ باڈی کے ساتھ سنسر بورڈ کی ممبر کا عہدہ بھی چونگے میں مل گیا۔
یہاں تک تو معاملات ٹھیک رہے‘ پھر اس نیک پروین کے بارے میں الحمرا کینٹین‘ بیک سٹیج اور الحمرا کی راہداریوں میں طرح طرح کی کہانیاں سننے کو ملیں۔ کسی فنکار کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے آرٹسٹ سپورٹ فنڈ کی فہرست میں اس نے اپنے کئی عزیزو اقارب اور ملنے والوں کے نام بھی درج کرا رکھے ہیں اور انہیں بھاری ماہانہ وظائف مل رہے ہیں۔ ایک کلاکار کا کہنا ہے اس نے الحمرا کے دو ڈراموں کی ڈیٹس لیں‘ ایک اپنے نام پر اور ایک اپنی کٹھ پتلی رضیہ ملک کے نام…. جبکہ الحمرا میں درجنوں سینئر آرٹسٹوں کو عرصہ دراز سے ڈیٹس نہیں ملیں۔ یہاں قابل ذکر امر یہ ہے کہ الحمراءمیں 16 دن کے ڈرامہ سپل کی ڈیٹ 2 لاکھ روپے میں فروخت ہوجاتی ہے۔
خبر یہ بھی ہے کہ اس باکمال فنکارہ نے آرٹ کی ترویج کیلئے ایک این جی او بنائی جس کی سالانہ گرانٹ 3لاکھ کے لگ بھگ تھی، اسی این جی او کے تحت اس نے الحمرا اور کلچر کمپلیس میں درجنوں ڈراموں کے خصوصی شو کروائے جس کا وہ پنجاب آرٹ کونسل اور الحمرا سے 50ہزار روپے فی شو علیحدہ بٹورتی رہی ہیں، ان ڈراموں میں کوئی قابل ذکر فنکار نہیں ہوتا تھا بلکہ ساری کاسٹ نئے فنکاروں پر مشتمل ہوتی تھی، جنہیں کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا جاتا تھا۔
جبکہ الحمرا میں گزشتہ سات آٹھ برسوں سے ہر اتوار کو بچوں کا پسندیدہ ڈرامہ ”عینک والا جن“ کھیلا جارہا ہے جو شائقین کو فری دکھایا جاتا ہے اور اس میں نئے آرٹسٹوں کے ساتھ معروف فنکار بھی حصہ لیتے ہیں مگر اس کی انتظامیہ کو فی شو صرف 20ہزار روپے دئیے جاتے ہیں، منا لاہوری اور بل بتواری (نصرت آرا) جیسے آرٹسٹ ساری عمر اسی ڈرامہ میں پرفارم کرنے رہے ہیں۔ اس کلا کارہ پر اپنے شوز کے دوران لاکھوں روپے کے دیگر فنڈز بھی ہتھیانے کا الزام ہے۔ جس کی تحقیقات ہونا چاہئیں۔
اس کی ایک بڑی فنکاری یہ بھی ہے کہ ا س نے اپنی ایم پی اے شب کے زور پر اپنے معذور بیٹے کو تماشا بنا ڈالا ہے۔ اس کا لخت جگر بولنے، سننے، چلنے پھرنے سے قاصر ہے، وہ بے چارا تو اپنے کپڑے بھی نہیں بدل سکتا، اس کی نگہداشت کیلئے اس نے گھر میں خصوصی ملازمہ رکھی ہے، اس نے اپنے اس معذور بیٹے کو اپنے اختیارات کے بل بوتے پر الحمرا میں معاون ساﺅنڈ آپریٹر بھرتی کرارکھا ہے جس کی ماہانہ تنخواہ 20 ہزار روپے ہے، معذوروں کو نوکریاں ضرور ملنی چاہیئں، مگر یہاں معاملہ حق دار کو حق دینے کی بجائے کنبہ پروری اور بندر بانٹ کا ہے۔
اعلیٰ حکومتی ایوانوں میں جانے کے خواب تو عنایت حسین بھٹی، قوی خان، مسرت شاہین اور کمال جیسے باکمال آرٹسٹوں نے بھی دیکھے تھے مگر ان کی مرادیں بر نہ آئیں۔ عنایت حسین بھٹی اور قوی خان نے آمر ضیاءالحق کے عہد میں 1985ءکے غیر جماعتی الیکشن حصہ لیا ۔بھٹی صاحب کے مقابلے میں میاں آصف (چوبرجی ہری بلڈنگ والے تھے) جو بہت تھوڑے ووٹوں کی برتری میں جیت گئے، اسی طرح قوی خان کے مقابلہ میں لیاقت بلوچ نے میدان مارا۔ قوی خان کی انتخابی مہم جمیل فخری (مرحوم) ناصرنقوی اور محمد زبیر سمیت دیگر آرٹسٹوں نے چلائی، اس حلقہ سے افسر رضا قزلباش بھی امیدوار تھے۔ الیکشن کے بعد ایک تقریب میں قوی اور قزلباش کا آمنا سامنا ہوا تو قزلباش نے قوی سے کہا۔ جناب آپ میرے بھی پسندیدہ آرٹسٹ ہیں، میں آپ کا فین ہوں، آپ مجھے کہتے تو میں آپ کے حق میں دستبردار ہو جاتا۔ اس الیکشن میں قوی خان نے 16 ہزار سے زائد ووٹ لئے تھے، قزلباش کے دستبردار ہونے کی صورت میں اگر ان کے ووٹ قوی خان کو مل جائے تو یہ مقابلہ انتہائی کانٹے دار ہوتا۔
اسی طرح میاں آصف کے مقابلے میں عنایت حسین بھٹی بھی بہت کم ووٹوں کے مارجن سے ہارے تھے۔ بھٹی صاحب اداکار، گلوکار اور فلمساز ہونے کے ساتھ انتہائی متاثر کن مقرر بھی تھے۔ وہ شروع میں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی سے بہت متاثر تھے۔ 1977ءکی انتخابی مہم میں ان کا شمار پیپلز پارٹی کے اہم مقررین میں ہوتا تھا، وہ پیپلز پارٹی کلچرل ونگ کے انچارج بھی رہے۔زندگی کے آخری ایام میں وہ سردار عبدالقیوم خان کی مسلم کانفرنس میں شامل ہو گئے۔ اسی طرح اداکار کمال نے بھی سیاست گری کی اور کراچی کے ایک حلقہ سے الیکشن لڑا، مگر وہ سیاسی میدان میں کوئی کمال نہ دکھا سکے جبکہ اداکارہ مسرت شاہین نے سیاست میں انمٹ نقوش مرتب کئے۔ ان کا بڑا کارنامہ ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت کے قائد مولانا فضل الرحمن کے مقابلہ میں دوبار الیکشن لڑنا ہے۔ مسرت شاہین نے اپنی سیاسی جماعت بنا کر مولانا کے مقابلہ میں خوب ہلہ گلہ کیا۔ جس پر اسے قتل کرنے کی دھمکیاں بھی ملیں مگر وہ دونوں الیکشنوں میں آخردم تک مولانا کے خلاف ڈٹی رہیں۔ اسی طرح گذشتہ الیکشن میں گلوکار ابرار الحق اور وفاقی وزیر احسن اقبال کے درمیان خوب مفابلہ ہوا۔ اس تناظر میں کنول نعمان جیسی معمولی آرٹسٹ کا رکن اسمبلی بننا غیر معمولی واقعہ ہے، یہ ”ہنگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے“ جیسی نادر مثال ہے، اس نیک پروین نے خادم اعلیٰ پنجاب کا ساتھ چھوڑتے ہوئے ان کے نام جو مکتوب لکھا ہے اس کا کچھ حصہ دیگر اخبارات کے ساتھ ”خبریں“ میں بھی شائع ہوا ہے، کنول نعمان کا کہنا ہے کہ میں پنجاب اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے رہی ہوں، وزیراعلیٰ صاحب اسے مہربانی فرما کر قبول کر لیں۔ میں نے آپ کی قیادت میں 10 سال گزارے ہیں۔ آپ کو میرے حوالے سے کوئی شکایت نہیں ہو گی، الحمداللہ میرا ضمیر مطمئن ہے، میں نے حق نمک ادا کر دیا ہے، میرے کچھ تخفظات تھے جس کے باعث میں ن لیگ سے کنارہ کشی کر رہی ہوں، تخفظات سے اس کی کیا مراد ہے، کیا وہ ایم پی اے بننے کے بعد وزیر مشیر بننا چاہتی تھی یا کسی اور بڑے عہدہ کی متمنی تھی؟ اس کی وضاحت تو محترمہ کنول نعمان ہی کر سکتی ہیں، مگر کیا یہ کم نہ تھا کہ پنجاب کے خادم اعلیٰ نے اپنی دریا دلی کے باعث ایک عام سی ایکٹریس کو اسمبلی میں پہنچا کر خاص شخصیت بنا دیا جہاں برسوں اس کے خوب وارے نیارے رہے۔
(بشکریہ: روزنامہ خبریں)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker