اسلام آباد : پاکستان کے سوشل میڈیا پر بدھ کے روز سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بارے میں متضادات اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔
بدھ کی شب سوشل میڈیا پر جہاں کئی صارفین نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ عمران خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے کسی اور مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، وہیں بعض افراد کا کہنا تھا کہ جیل میں قید کے دوران عمران خان انتقال کر گئے ہیں۔
سابق وزیر اعظم عمران خان دو سال سے زیادہ عرصے سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، انھیں 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں احتساب عدالت نے سزا سنائی تھی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبروں پر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے حکام کا کہنا ہے کہ عمران خان بالکل صحت مند ہیں۔
اڈیالہ جیل کے حکام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان بالکل صحت مند ہیں اور انھیں جیل کے قوائد کے علاوہ عدالت کی طرف سے ہدایت کردہ دیگرتمام سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اپنے بھائی کے انتقال اور اسی نوعیت کی دیگر افواہوں کی مکمل تردید کی ہے۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ جیل میں قید کے دوران عمران خان کے انتقال کی افواہیں گردش کر رہی ہیں لیکن اس بار یہ خبریں پھیلنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے اہلخانہ کو گذشتہ تین ہفتوں سے ان سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی، جس نے مزید افواہوں کو جنم دیا۔
واضح رہے کہ رواں مہینے میں عمران خان کے اہلخانہ اور پارٹی قائدین کو ان سے ملنےکی اجازت نہیں دی گئی۔
سوشل میڈیا پر متعدد اکاؤنٹس کی جانب سے ایک تصویر بھی پوسٹ کی جا رہی ہے جس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو ہپستال کے بیڈ پر لیٹا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔
تاہم بی بی سی اردو نے ریورس انجن سرچ کے ذریعے یہ معلوم کیا ہے کہ یہ تصویر دراصل نومبر 2022 کی ہے، جب پنجاب کے علاقے وزیرِ آباد میں عمران خان کے احتجاجی مارچ پر فائرنگ ہوئی تھی اور وہ بھی اس واقعے میں زخمی ہوئے تھے۔
( بشکریہ : بی بی سی ۔۔ اردو )
فیس بک کمینٹ

