نوشابہ عابد ہماری پیاری دوست ۔۔صبح سویرے ۔۔۔سرخ گلابوں اور موتیے کی پھولوں کی تصویریں دعاؤں کے ساتھ بھیجنے والی زندگی سے بھرپور مسکراہٹ چہرے پر سجائے سب سے محبت رکھنے والی پیاری دوست ۔۔۔۔آج بیوہ ہوگئی ۔۔۔۔اس دل دہلا دینے والی خبر نے سب سننے والوں کو غم سے نڈھال کردیا ۔۔۔۔شوخ رنگوں سے بے انتہا پیار کرنے والی سہاگن کی ۔۔۔سرخ چوڑیاں ٹوٹ گئیں ۔۔اتنی محبت کرنے والی بیوی کو کیسے یقین آیا ہوگا کہ اچانک اس کا سرخ دوپٹہ سفید ہوچکا ہے ۔۔۔۔ مجھے معلوم ہے ۔۔۔۔۔یہ سہاگن سے بیوہ ہونے کا وقت بھاری پتھر کی طرح سرکتا ہی نہیں ۔۔شریک سفر کو تنہا چھوڑ کر جانےوالے کے غم سے نڈھال حال میں اس کے بچوں کے مستقبل کا سوال بار بار ذہن و دل کی دنیا کو اتھل پتھل کرتا رہتا ہے ۔
مگر مقدر لکھنے والے کے پاس سب کچھ ہے وہ جتنی غم کی برسات میں آنکھوں کو سلگنے کا ایندھن دیتا ہے اتنا ہی سامان راحت بھی تیار کر رکھتا ہے ۔۔یہ دھواں آگ نہیں بنتا بلکہ صبر جمیل کی صورت تسکین زندگی کا سامان بن جاتا ہے ۔۔۔۔پیاری دوست ۔۔۔مجھے اچھی طرح اندازہ ہے کہ ۔۔۔۔جانے والے نے منوں مٹی اوڑھ کر ابدی روشنی کا سراغ پالیا ہوگا۔۔۔۔مگر اس عارضی دنیا میں اس کے پیاروں کا جینا اس کے بنا دشوار ہوجاتا ہے ۔۔۔موت اس دنیا کی قید سے آذادی تو ہے ۔۔مگر یہ یہی موت ۔۔۔زندہ ذہنوں کے جاگنے اور پرانی یادیں واپس لانے کا نام بھی ہے ۔۔۔سفید رنگ میں لپٹی ہوئی میت ۔۔۔۔دنیا کے سب غموں دکھوں اذیتوں فکروں سے آزاد ہوکر ہمیں یاد کےصحرا میں تنہا چھوڑ جاتی ہے ۔۔۔۔۔اور اس فانی جسم کی جدائی میں ابدی روح تڑپ تڑپ کر روتی رہتی ہے ۔”۔۔۔مائے نی میں کنھوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی“ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آسماں وہی رہتا ہے اور زمین بھی وہی ۔۔۔گردش ماہ وسال بھی وہی ۔۔۔۔بس سفید رنگ میں لپٹی ہوئی یادیں باقی رہ جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے ۔۔وہ وقت یاد آرہا ہے جب ہم پہلی بار ملے تھے ۔۔۔۔سنہری یادیں۔۔۔سفید پرندے بن کر دل دریا میں اتر رہی ہیں ۔۔میری کتاب کی تقریب رونمائی میں میڈم عقیلہ جاوید میڈم فرزانہ کوکب میڈم شازیہ عنبرین سر نسیم شاہد آپا زہرہ سجاد زیدی ماہ رخ حفیظ تابندہ نسرین اور سر سجاد نعیم کے ساتھ سر قاضی عابد کی عمدہ گفتگو کی یادیں ۔یا وہ تقریب جب اردو ناول کانفرنس بہت پیاری مسز صوفیہ خشک اور سر یوسف خشک کے ساتھ ہم نے ہنستے مسکراتے تصویریں بنوا ئیں تھیں ۔۔۔
ایک مرتبہ وہ بھر پور ملاقات جب پیاری دوست فرزانہ کوکب کی کتاب کی تقریب رونمائی میں جب میں نے مقالہ پڑھا تھا ۔۔پھر میری بیٹی ڈاکٹر زروہ ارسلان کی شادی پر آپ نے خوب دوستی نبھائی تھی ۔۔۔میرے ساتھ بیٹی کو دعاؤں میں رخصت کیا تھا ۔قاضی عابد بھائی نے ہمیشہ عزت اور محبت سے یاد رکھا ۔مجھے یونیورسٹی کے سیاسی فتوری معاملات کا کچھ علم نہیں تھا ۔۔کیوں اس زندگی میں مخالفت کی ہواؤں کا سامنا ہر انسان کو کرنا ہوتا ہے مگر میں نے ہمیشہ نوشابہ آپ کو مسکراتے ہوئے پایا ۔۔۔۔۔۔آپ مجھ سے ایک سوال اکثر پوچھا کرتی تھیں کہ ماں باپ کے بعد شوہر کی اچانک جدائی بھی یہ درد کی گھڑی صائمہ آپ نے کیسے ہمت سے کاٹی ۔۔۔۔ تو میرا جواب بھی یہی ہوتا تھا کہ سفید رنگ میں لپٹی ہوئی یادوں کے سہارے یہ وقت کاٹا نہیں جاتا بلکہ خودبخود کٹ جاتا ہے ۔۔۔میں نے جب سفید دوپٹہ اوڑھا تو شاید میری والدہ یا میری ساس جو اس وقت حیات ہوتیں تو شدت غم سے تڑپ کر شاید دم دے دیتیں ۔کہ اتنی جلدی اس نے بزرگی اوڑھ لی ۔۔اچھا ہوا وہ یہ دن دیکھنے سے پہلے جنت مقیم ہوئیں ۔۔۔دوست ۔۔۔۔بیوگی امتحان ہے بہت بڑا امتحان ۔۔گویا ۔۔ایک مسافر کے آگے بہت سی منزلیں ہوں مگر آگے کوئی رستہ بھی نہ ہو ۔۔۔۔ یقین و گماں کی اس دنیا میں کب سدا کس نے رہنا ہے ۔۔غبار رفتگاں بڑھتا جارہا ہے وقت سب سے بڑا مرحم ہے ۔۔اور سفید رنگ بہت طاقت ۔۔حوصلہ ہے امن ہے استقامت ہے اور پاکیزگی بھی ۔۔میری دعا ہے کہ اس سفید رنگ میں جس میں ہوا ہے بادل ہیں اور بادباں ہے ۔۔۔اور جانے والے موت کی کشتی پر سوار سمندر پار اترنے والے ہیں ان کو سکون ابدی نصیب ہو سنا تھا کہ ۔۔۔بھر ا میلہ اس طرح اچانک چھوڑ کر جانے والوں کے جنازے بڑے شاندار ہوتے ہیں ۔۔۔اورچاہنے والوں کی دعائیں زمین و آسمان کے گرد نورانی ہالہ بنالیتی ہیں ۔۔آج سر عابد نے اس طرح جاکر یہ ثابت بھی کردیا ۔۔۔۔نوشابہ آپ اس سفید دوپٹے کے ہالے میں اپنی دعائیں جاری رکھنا ۔۔ہمت و حوصلہ کے ساتھ اس سفید رنگ کے دوپٹے کو اوڑھ کر درد کی دولت سمیٹ کر اپنے بچوں کے لیے جینا ہے ۔۔۔خدا آپ کا آپ کے پیارے بیٹوں کا حامی و ناصر ہو آپ کو صبر جمیل عطا ہو ۔۔۔شعبہ اردو بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کے ایک قابل مایہ ناز جناب قاضی عابد استاد محترم کو جنت الفردوس میں مقام خاص عطا ہو اور ان کے شاگردوں دوست احباب کو یہ بھاری صدمہ جھیلنے کی توفیق ملے ۔۔۔۔آمین
فیس بک کمینٹ

