اختصارئےصائمہ صادقلکھاری

صائمہ صادق کا اختصاریہ : کرونا کو نشے کی لت کیسے پڑی ؟

رمضان کا تیسرا عشرہ شروع ہوا تو ابا نے کچھ رقم بھجوائی کہ عید کی تیاری کر لی جاۓ۔۔بازار کون کون جاۓ گا طے یہی پایا کہ وبائی موسم ہے کرونا ہر طرف پھڑکتا پھدکتا پھر رہا ہے ۔شاپنگ تو ترک کر دی جاۓ ۔یہ کوئی بڑا مسلہ نہ تھا لیکن قباحت یہ کہ گروسری وغیرہ لینے تو بازار جانا ہی ہے ۔طے ہوا آنکھیں چیک کروانے جانا ہے تو میں ہی سب لیتی آٶں ۔ہسپتال سے فراغت کے بعد جوں ہی سٹیشن پر آئی ۔سواۓ عملے کے میرے وہاں کوئی نہ تھا ۔پر مسلسل گانے بجنے کی آوازیں آ رہی تھی۔رمضان میں اور گانے بھلا کون سن رہا ۔۔؟ادھر اُ دھر نظریں گھمائیں پر نا کام ۔پیچھے مڑ کے دیکھا توبالکل سامنے کرونا شریف برجمان تھے ۔۔۔۔
اک لمحے کو توگبھرا گئی ۔ہاۓ ۓ !!رے کرونا ہاۓمن ہی من میں خود کو کوسنے لگی ۔اففف ۔گھر سے نکلی ہی کیوں ۔۔
احتیاطی تدابیر اپنا رکھی تھیں ۔سنبھلنے میں وقت نہ لگا۔تھوڑا میری آنکھوں میں ڈر بھانپ کر کرونا نے میری اور میں اس کی طرف دیکھا۔
غمگین آسودہ بھرائے ہوئے لہجے میں بولا۔واہ رے پاکستانی عوام گھبرا تو میں رہا ہو یہاں آ کے نہ کوئی استقبال نہ کوئی خاطر ۔۔۔الٹا چل رہا سب بازاروں ، مارکیٹوں،میں اتنی بھیڑ کیا دکھڑا سناٶں‌۔اب کل کی ہی سنو بورے نما انسان کے ہاتھی جیسے پاٶں تلے کچلتے بچا۔میر ا کیا ہے رمضان میں سیدھا جنت جاتا میرے مزے ۔لیکن وہ اس مبارک مہینے میں قتل کا مرتکب ٹھہرتا ۔
شدت کی گرمی اور روزے میں اتنا رش دم گھٹتا ہے میرا ۔پاکستانی عوام کو دیکھو ڈبل ماسک لگاۓ روزے کی حالت میں رات گئے تک شہد کی مکھیوں کی طرح بھنبھنا تی ہیں ٹھنڈی شام میں سانس لیتے گھبراتا ہوں۔اففف ۔۔۔مجال ہے مجھے اپنی جان بچانی پڑ رہی ہے ۔اک ہی ماسک کو ہزاروں بار دھودھو کر چلا رہے اور بھائی چارہ ایسا کہ کل بینک میں بنا ماسک داخلہ نہیں تھا لائین میں پیچھے کھڑے بھائی نے اپنا ماسک اتار کے دیا ۔۔۔۔۔شام میں اک دیہاتی مارکیٹ دا خل ہواڈھلڑے سے میں خوش ہوا کہ شکار ملانہ ماسک نہ سنی ٹائزر ابھی قدم بڑھایا ہی تھا کہ اس نے وہ گالیاں دیں‌ کہ کانوں کوہاتھ لگاتے ہوۓ بھاگا بھاگا نکلا وہاں سے ۔۔۔اور تو اور تھوڑی دیر پہلے یہ سنا کہ کروناورونا کچھ نہیں ڈھکوسلے ہیں سب ۔کوئی ڈر ہی نہیں‌ ۔۔ایسے میں رونا نہ آۓ تو کیا کروں ۔یہاں بیٹھا غم ہلکا کر رہا ہوں جو ہونے کو نہیں آتا۔ بے سکونی سے نشے کی لت پڑ گئی ہے ۔مدہوش پڑا رہتا ہوں یہاں ۔میرا سٹیشن آ گیا اترنے ہی لگی تو دھاڑیں مار کر روتے ہو ۓ
بولا ہاے ے ے رے کرونا

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker