سجاد جہانیہکالمکھیل

بوجھ : دیکھی سنی / سجاد جہانیہ

دھیرے دھیرے رینگتی شب دوسرے پہر کے اختتام کو بڑھ رہی ہے۔ میرے دل پر بوجھ ہے۔ گویا کوئی بھاری پتھر کہ جس کا بوجھ دل کو کچلے ڈالتا ہے۔ خوف ہے، شرمندگی اور پچھتاوا۔ اتوار کا دن تھا، گاڑی بھی کھڑی تھی اور میں بھی گھر میں تھا، پھر مجھے خیال کیوں کر نہ آیا۔ ابھی کوئی گھنٹہ بھر پہلے ٹیلی وژن والے کمرے میں نسرین، میری اہلیہ عالیہ کے پاس بیٹھی روداد سنا رہی تھی۔ وہ گئی تو عالیہ نے آکر مجھے دن بھر کی کہانی سنائی۔ ایک ایک حرف اور جملہ ندامت کی کنکری بن کر مجھ پر برستا تھا اور دل کا بوجھل پن بڑھاتا تھا۔ کیا مجھ سے نہیں پوچھا جائے گا؟ کٹہرے میں کھڑا کرکے کیاوہ وجہ دریافت نہیں فرمائے گا کہ میری مخلوق تکلیف میں تھی، تو اس میں کمی کرسکتا تھا مگر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا رہا۔ میرے پاس تب صفائی میں کہنے کو بھلا کیا جملہ اور کون عذر ہوگا؟ مجھے جہالت، ذلالت اور گنوار پن نکال کر میری جھاڑ پونجھ کرکے انسان بنانے والے جناب رسالت پناہؐ جب فرمائیں گے کہ ’’کیا میں نے تمہیں ہم سایہ کے حقوق نہیں بتلائے تھے‘‘؟ تو میں عرقِ ندامت میں غرق کیا کوئی جواب دے پاؤں گا؟ بس یہی بوجھ ہے جس کو قرطاس پہ اتار کے ہلکا کرنا چاہتا ہوں۔
میں جس گھر میں رہتاہوں اس کی چہاردیواری کے اندر مغربی حصہ میں ایک ذیلی مکان (انیکسی) ہے جہاں شکیل، نسرین اور ان کے تین بچے فرحان، عاصمہ اور معصومہ رہتے ہیں۔ شکیل اور نسرین دونوں ہی کارپوریشن میں ملازمت کرتے ہیں۔ ان کے فرائض میں اپنی ڈیوٹی کے علاقہ کو صاف رکھنا شامل ہے۔ ڈیوٹی کے بعد نسرین ہمارے گھر کی صفائی کے علاوہ کپڑے اور برتن وغیرہ دھونے کاکام بھی کردیتی ہے۔ دونوں میاں بیوی محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کو رزقِ حلال سے پال رہے ہیں۔ ان کے تینوں بچے بڑے اچھے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھتے ہیں۔ وہ سکول جن کی فیس اچھے بھلے سفید پوش ادا کرنے میں بارمحسوس کرتے ہیں مگر شکیل اور نسرین کو جنون کی حد تک اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دینے کی دھن ہے، سو وہ اپنے بچوں کو وہاں پڑھا رہے ہیں۔
اتوار کے روز نسرین اکثر ہمارے ہاں سے چھٹی کرتی ہے۔ اپریل کے آخری روز بھی اتوار تھا۔ صبح کے دس سوا دس بجے کا عمل ہوگا، ٹیلی وژن والے کمرے کا وہ کشادہ دروازہ جو برآمدے اور پچھلے لان کی طرف کھلتا ہے، کھول کے اس کے درمیان میز کرسی رکھے میں اخبار پڑھ رہاتھا جب پچھلے لان میں ہانپتی کانپتی، روتی اور دہائی دیتی نسرین نمودار ہوئی۔ مجھے بیٹھا دیکھ کر تھوڑا ٹھٹھکی اور پھر اس نے بلند آواز میں کہا ’’صاحب جی! میرے پوتر دا ایکسیڈنٹ تھی گے‘‘ میں بوکھلا ساگیا۔ وہ اونچی آواز میں روتی تھی اور پریشانی میں کوئی جملہ ٹھیک سے نہ کہہ پاتی تھی۔ اتنا بتایا کہ فرحان کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے۔ میں نے عالیہ کو آواز دی مگر نسرین جلدی میں تھی، بس اطلاع کرکے واپس مڑ گئی۔ عالیہ نے اس کو سامنے کے دروازے سے جا کرپکڑا۔ اکلوتے بیٹے کو حادثہ پیش آیاتھا سو مامتا کا ساگرجوار بھاٹے پر تھا۔ اضطراب اور بے کلی میں نسرین بلند آہنگ روتی تھی اور عالیہ اس کو تھامے تسلی کے بول بولتی تھیں۔
یہی وہ وقت تھا جب میرے بوکھلاہٹ کے شکار ذہن نے کام نہ کیا۔ شکیل اور نسرین تو فطری حجاب میں تھے، اتوار کو تو عثمان ڈرائیور بھی نہیں ہوتا، اب بھلا وہ میاں بیوی ’’صاحب‘‘کوکیسے کہتے کہ گاڑی کے سٹیئرنگ پر بیٹھیں اور ہمارے ساتھ چلیں۔ اللہ جانتا ہے کہ میرے ذہن میں بھی نہ آیا کہ زخمی کو ہسپتال منتقل کرنے کے لئے چار پہیوں والی سواری کی ضرورت ہوگی۔ وہ میاں بیوی موٹرسائیکل پر بیٹھے اور روانہ ہوگئے۔ اگلے دو تین گھنٹے کے دوران میں شکیل سے فون پررابطہ رہا۔ وہ مریض کی پوزیشن بتاتا رہا۔ آخر میں اس نے کہا کہ مہر صاحب نے گاڑی بھیجی ہے۔ اس پر فرحان کو لے کر مظفرگڑھ جارہے ہیں۔ مہرخالد مظفرگڑھ کی ضلعی انتظامیہ میں بڑے عہدے پر ہیں اور یہیں ہماری کالونی میں رہتے ہیں۔ شکیل اور نسرین پہلے ان کے ہاں کام کرتے تھے۔ ان کا اتفاق سے فون آیا تو شکیل نے حادثے کابتایا۔ انہوں نے کہا فوراً یہاں مظفرگڑھ آجاؤ، میں ضلعی ہسپتال میں اس کی بہتر دیکھ بھال کروا دوں گا۔ میری طرح انہوں نے صرف مشورہ ہی نہیں دیا بلکہ اپنی گاڑی بھی بھجوائی۔
فرحان اب ضلعی ہسپتال مظفرگڑھ کے سرجیکل وارڈ میں داخل ہے۔ شکیل اس کے پاس ہے، نسرین ابھی ابھی واپس پہنچی تو حال دینے کو عالیہ کے پاس چلی آئی۔ اس نے بتایا کہ فوری طور پر جائے حادثہ کے قریب ترین ایک پرائیویٹ ہسپتال میں لے کر گئے۔ وہاں کی انتظامیہ نے پنڈلی سے شکستہ ٹانگ دیکھ کر کہا ’’وہاں سامنے استقبالیہ پر 70ہزار روپے جمع کروا کے آؤ تاکہ علاج شروع کریں‘‘۔ منت سماجت کی گئی تو جواب ملا کہ ’’تم لوگ ہم سائے سے آئے ہو سو کم نرخ بتایا وگرنہ اس آپریشن کے تو کم از کم ایک لاکھ بنتے ہیں‘‘۔ ماں باپ نے جھولتی ٹانگ والے بچے کو رکشے میں ڈالا اور بوسن روڈ کے ایک ہسپتال میں لے گئے۔ وہاں کا ڈاکٹر بچے کے ددھیالی عزیزوں میں سے کسی کا واقف تھا مگر وہ ڈاکٹر شہر سے باہر تھے۔ وہاں سے پھر رکشہ لیا اور چلڈرن کمپلیکس ہسپتال چلے گئے۔
اب ذرا دل کو تھام کے بے حسی کا اندازہ لگائیے۔ جھولتی ٹانگ والا درد سے نیم بے ہوش بچہ ایمرجنسی میں پڑا ہے اور والدین علاج کی دہائی دیتے ہیں۔ وارڈ انتظامیہ انچ ٹیپ لے کر آگئی اور بچے کاقد ماپنا شروع کردیا۔ کہاگیا اس کاقدساڑھے پانچ فٹ ہے، اس کاعلاج یہاں نہیں ہوسکتا۔ والدین نے کہا ساتویں میں پڑھتا ہے، تیرہ برس عمر ہے، خیر سے قد نکال لیاہے مگر ہے تو بچہ ۔کہاگیا کہ جو بھی ہے اپنے قد کے اعتبار سے یہ بچوں کے شمار میں نہیں آتا، آپ اس کو لے جائیں۔ اسی دوران مہرصاحب کی کال آچکی تھی۔انہوں نے چھاؤنی میں کسی ہسپتال جانے کا کہا مگر وہاں کے ڈاکٹر صاحب بھی دست یاب نہ ہوسکے۔ اس پرمہرصاحب نے گاڑی بھیج کر انہیں مظفرگڑھ بلوالیا۔
سفارش یا جیب میں پیسے نہ ہوں توسرکاری شفاخانے یاتھانے جانا بے وقوفی ہے۔ تھانوں کے بارے میں سنا کرتے تھے کہ وہ اس امر کاتعین کرتے وقت کہ جرم کس تھانہ کی حدود میں ہوا ہے،ایک ایک انچ ماپا کرتے ہیں مگر علاج کرنے سے قبل مریض کا ماپ تول چلڈرن کمپلیکس ہسپتال ملتان ہی کا طرۂ امتیاز ہے۔ ورلڈ گزیٹڑ 2010ء کے مطابق ملتان شہر کی آبادی 52لاکھ 6ہزار 4سو 81ہے۔ سرکاری اور نجی شعبے میں درجنوں ہسپتال ہیں مگر اس ملک کے غریب شہری کا بچہ اگر تکلیف میں مبتلا ہو تو اس پانچویں بڑے شہر میں کئی کئی گھنٹے وہ رکشوں پر خوار ہوتا ہے مگر اسے علاج نہیں ملتا۔ علاج ہی کیا ہر شعبے کا یہی عالم ہے۔ قابلِ احترام میاں صاحبان سے ، محترم عمران خان سے اور جناب آصف زرداری سے میری گزارش ہے کہ ان میں سے اب جو بھی آگے اقتدارمیں آئے، کوئی ایسا طریقہ اپنائے کہ اس ملک کا نظام درست ہو جائے۔ عوام سے لے کر خواص تک اس ملک کے شہریوں کے جو مزاج اورعادتیں بگڑی ہوئی ہیں کسی طور ان کو ٹھیک کردیں۔
ہمیں نئے ہسپتال ، نئے تعلیمی ادارے، نئے میڈیکل کالج، یونیورسٹیاں، اورنج لائن ٹرینیں، میٹرو بسیں نہیں چاہئیں۔ نئی چوکیاں، تھانے اور فورسز بھی درکار نہیں۔ کچھ کرسکتے ہیں تو بس نظام کو ٹھیک کردیں۔ پہلے سے موجود انفراسٹرکچر میں کام کرنے والوں کے مزاج درست کردیں۔ منہدم ہو چکے اداروں کی دیواریں بنیادوں سے لے کر چھتوں تک دوبارہ چنوادیں۔ان کو ایسی مضبوطی سے استوار کریں کہ کل کو اگر قوم کی کسی بیٹی سے زیادتی ہو تو وزیراعلیٰ کے ہیلی کاپٹر کو لاہور سے اڑان نہ بھرنی پڑے۔ کسی بے آسرا کی دہائی پر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے کسی ہسپتال کے ایم ایس کو فون نہ کرنا پڑے کہ اس کا علاج پوری توجہ سے کرکے رپورٹ سی ایم کو بھجوائی جائے۔ ہرادارہ اپنا فرض خود ادا کرے۔ کوئی شکیل ، کوئی نسرین اپنے جگر کا ٹکڑا، اپنا زخمی فرحان لے کرشفاخانے جائیں تو انہیں دھتکارا نہ جائے۔ سب ادارے اپنا اپنا کام ذمہ داری سے کریں۔بس اور کچھ نہیں چاہیے۔
شب،دوسرا پہر تمام کرکے تیسرے میں قدم رکھ چکی ہے۔ آپ سے حال بانٹنے کے بعد دل کا بوجھ کچھ ہلکاہوگیا ہے۔ دعا فرمائیے گا کہ اللہ اور اللہ کا رسولؐ ہم سب کے ساتھ نرمی کارویہ اپنائیں۔ آمین
(بشکریہ:روزنامہ خبریں)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker