بی بی سیسمیع چوہدریکھیل

سمیع چوہدری کا کالم: ’آفریدی کو صرف پندرہ گیندیں درکار تھیں‘

حسن علی نے جارحیت کا جواب احتیاط کی بجائے طمطراق سے دینے کا سوچا۔ تائج الاسلام نے پاکستانی مڈل آرڈر کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے تھے اور اوپنرز کی بے مثال کاوش کے باوجود پاکستان ایک بڑی برتری کے بوجھ تلے آتا دکھائی دے رہا تھا۔
تائج الاسلام کے لیے پاکستان ہمیشہ ہی پسندیدہ شکار رہا ہے۔ یہاں پھر وہ پاکستانی مڈل آرڈر کو الجھا رہے تھے۔ جب کوئی بولر بیک وقت گیند کو بلے کی طرف اندر بھی لا رہا ہو اور باہر بھی نکال رہا ہو تو بڑا بڑا تجربہ جھوجھ جاتا ہے۔
فواد عالم، اظہر علی اور عابد علی کے ساتھ بھی یہی ہوا اور جہاں پاکستان دو سیشن بغیر کوئی وکٹ گنوائے گزار آیا تھا، وہیں یہ سارا قصہ دو ہی سیشنز میں ختم ہونے کے قریب تھا مگر حسن علی نے بحران کا جواب جارحیت سے دینے کا سوچا۔
آف سٹمپ پر پڑی پہلی گیند پر انھوں نے تائج الاسلام کو مڈآن باؤنڈری پر چوکا رسید کیا۔ دوسری گیند پر انھوں نے ٹانگ نکال کر لانگ لیگ کی باؤنڈری پر چھکا جڑ دیا۔ اب یہاں اگر کوئی مستند بلے باز ہوتا تو تیسری گیند پر سنگل لے لیتا یا محض دفاع ہی کرتا کہ دو گیندوں پر دس رنز ملنے کے بعد اب ذرا احتیاط سے اوور گزار لیا جائے۔
مگر یہاں حسن علی تھے جو اپنے مڈل آرڈر کی ناکامی کے سبب تائج الاسلام سے شدید نالاں تھے اور اپنے غصے کے اظہار کے لیے تیسری گیند پر وہ کریز سے اچھل کر نکلے کہ ایک بار پھر گیند کو شائقین تک پہنچا سکیں لیکن اس بار تائج الاسلام زیادہ ہوشیار نکلے۔
چٹوگرام کی پچ میں پہلے روز بولرز کے لیے کوئی خاص مدد نہیں تھی۔ صبح کے سیشن میں اگرچہ پیسرز کو وکٹ سے گرفت مل رہی تھی مگر بعد کے دونوں سیشن یہاں بیٹنگ کی بہار تھی۔
دوسرے روز بھی معاملہ یہی رہا اور صرف صبح کا سیشن ہی وکٹوں کے لیے زرخیز ثابت ہوا، جہاں حسن علی نے میچ کو سر کے بل پلٹا کر ایک بڑی برتری کا رستہ روکا مگر تیسرے دن اگر پاکستانی بیٹنگ کو کوئی امید تھی کہ صبح کا سیشن نکال کر وہ دن بھر لمبی اننگز کھیلیں گے تو تائج الاسلام کے مطابق یہ محض خوش فہمی تھی۔
وکٹ میں باؤنس متغیر ہو رہا تھا۔ کچھ گیندیں رک کر آتیں تو کبھی نیا گیند توقع سے بھی پہلے، بلے تک سلائیڈ کر آتا۔ بلے باز کے لیے یہاں قدم جمانا خاصا مشکل ہو چکا تھا اور یہی دشواری پاکستانی مڈل آرڈر کی ناکامی کا سبب بنی۔
سلیکشن کے حوالے سے پاکستان کی یہ کجی بھی نمایاں ہو کر ابھری کہ ٹیم میں ریگولر لیگ سپنر کوئی موجود ہی نہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ لیگ سپن بنگلہ دیشی بلے بازوں کی کمزوری ہے، پاکستان کا یہ تزویراتی فیصلہ کوتاہ بینی کا عکاس ہے۔
کیونکہ ٹیسٹ کرکٹ میں جب کسی ٹیم کو چوتھی اننگز کی بیٹنگ کرنا ہو تو اس پر ذمہ داری سوا ہوتی ہے کہ حریف کو 300 سے کم پر لپیٹ کر، پہلی اننگز میں لمبا کھیلے اور کچھ برتری حاصل کرے۔ ویسے، پانچویں دن کی پچ میں اتنی جان بھی نہیں ہوتی کہ لمبے اہداف کا تعاقب کرنے میں مدد ملے۔
یہاں پاکستان بھی پہلی اننگز کے خسارے کے بعد گہرے پانیوں میں تھا مگر آفریدی بولنگ کے لیے آئے تو انھیں یہ دھارا بدلنے کو صرف پندرہ گیندیں درکار تھیں۔
پہلے ہی اوور کی چوتھی گیند پر شادمان اسلام بال بال بچ گئے۔ گیند ڈرائیونگ لینتھ پر تھی مگر وہ یہ نہیں سجھا پا رہے تھے کہ آفریدی کب گیند ان کی طرف لائیں گے اور کب سیم کے بل پہ باہر نکالیں گے۔
اپنے دوسرے اوور کی پہلی گیند پر ایک بار پھر انھوں نے شادمان کو کنفیوز کر چھوڑا کہ بلا کدھر کو جائے اور قدم کہاں۔ مار دیا جائے کہ چھوڑ دیا جائے لیکن بہرحال قسمت ایک بار پھر شادمان کی طرف داری کر گئی۔
جب تک آفریدی تیسرے اوور کے لیے آئے، شادمان کی گومگو خاصی بڑھ چکی تھی۔ آف سٹمپ کے ذرا باہر پڑی گیند پر یہ خلجان اور ابھر کر سامنے آیا اور انھیں گیند چھوڑنے کا فیصلہ کرتے دیر بھی ہوئی۔ دوسری گیند آف سٹمپ کے باہر تھی اور آؤٹ سوئنگ تھی۔
اور اس سے اگلی گیند وہ تھی کہ جہاں شادمان کے سارے حساب کتاب گڈمڈ ہو گئے۔ آفریدی نے اسی آف سٹمپ چینل پر فل لینتھ پھینکی جہاں سے اب تک وہ شادمان کو چکراتے آ رہے تھے۔ شادمان نے کلائی استعمال کر کے باؤنڈری بٹورنے کا سوچا مگر گیند ان کی توقع کے یکسر برعکس اندر کی جانب آئی اور پیڈ سے ٹکرا گئی۔
جونھی پاکستانی بولنگ کو یہ پہلی دراڑ نظر آئی، انھوں نے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اسی اوور میں آفریدی نے ڈرائیو پر مجبور کر کے شانتو کی تکنیک پر بھی سوال اٹھا دیے اور بنگلہ دیش کے سکور کارڈ کو ایک اور جھٹکا دے ڈالا۔
اور جب حسن علی نے کپتان مومن الحق کی کلیدی وکٹ بھی حاصل کر لی تو بنگلہ دیشی مزاحمت مرجھانے لگی۔ سیف حسن اور مشفق الرحیم نے ذرا سی ہمت دکھائی مگر پانی کے وقفے کے فوری بعد آفریدی کی ضرب ایسی تھی کہ گویا پاکستان دھاڑتے ہوئے میچ میں واپس آ گیا ہو۔
شاہین شاہ آفریدی ہمیشہ محاذ پر سب سے آگے کھڑے ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہاں بھی ایک بار پھر انھوں نے پاکستان کے لیے اس میچ کو زندہ کر ڈالا ہے۔
سوال صرف یہ ہے کہ کیا ان کے باقی ساتھی بھی اس زندگی کو پروان چڑھا پائیں گے؟
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker