بی بی سیسمیع چوہدریکالمکھیللکھاری

سمیع چوہدری کا کرکٹ کالم: ٹیسٹ سیریز میں آسٹریلیا کے فیورٹ ہونے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟

ٹیسٹ کرکٹ میں ایک رِیت سی ہے کہ جب کوئی مہمان ٹیم دورے کا آغاز کرتی ہے تو میزبان ملک اس کا پہلا امتحان اپنی مشکل ترین کنڈیشنز میں لیتا ہے۔
مثلاً ایڈیلیڈ اور سڈنی دو ایسی وکٹیں ہیں جہاں روایتی آسٹریلوی باؤنس نہیں ہے اور تیسرے دن سے سپنرز کو کچھ مدد بھی ملنے لگتی ہے۔
مگر جب کبھی پاکستان آسٹریلیا کے دورے پہ جاتا ہے تو پہلا ٹیسٹ ہمیشہ برسبین میں شیڈول کیا جاتا ہے تاکہ گابا کی ڈراؤنی وکٹ کا باؤنس، ایشیائی کنڈیشنز کے عادی بلے بازوں کی ساری خود اعتمادی مجروح کر ڈالے۔
پاکستان کی مگر مشکل یہ رہی کہ اس تاریخی دورے کو ممکن بنانے کے لیے پی ایس ایل اپنی ونڈو سے ہٹ کر منعقد کروانا پڑی اور یہ ممکن نہیں تھا کہ پاکستان وارنر، لبوشین اور سمتھ جیسے مستند بلے بازوں کا پہلا امتحان لاہور کی دھیمی وکٹ پہ لیتا۔
اور راولپنڈی پاکستان کی ان چند وکٹوں میں سے ہے جو پیس اور باؤنس رکھنے والے فاسٹ بولرز کی تائید کرتی ہے۔ لہٰذا راولپنڈی میں کھیلنے والی اس آسٹریلوی الیون پر کوئی سراسیمگی طاری نہیں ہو گی کہ وہ خود بھی نامی گرامی فاسٹ بولرز سے لبریز اٹیک رکھے۔
پاکستان کے لیے مشکل یہ بھی رہے گی کہ انجریز کے بعد درست الیون کیسے تشکیل دی جائے۔ حسن علی اور حارث رؤف کی عدم دستیابی نے پاکستان کے آپشنز محدود کر ڈالے ہیں۔
فہیم اشرف کی انجری اس سے بھی بڑا جھٹکا ہے کہ ان کی غیرموجودگی میں الیون کا توازن کیسے درست رکھا جائے کیونکہ وہ بیٹنگ میں بہترین اوسط رکھتے ہیں اور فاسٹ بولرز کا بھی خوب بوجھ بٹاتے ہیں۔
اس سے سوا یہ کہ پی ایس ایل کی مارا ماری سے محض چار دن کے وقفے کے بعد شان مسعود، بابر اعظم اور محمد رضوان جیسے کلیدی مہرے کیسے ٹیسٹ کرکٹ کے مائنڈ سیٹ سے ہم آہنگ ہوں گے۔
اگرچہ آسٹریلوی کیمپ میں یہ پریشانی ضرور ہے کہ 24 سال سے انھیں پاکستانی کنڈیشنز کا کوئی تجربہ نہیں ہوا مگر زمینی حقائق کو مدِنظر رکھا جائے تو آسٹریلوی ٹیم بہرطور برتر نظر آتی ہے۔ رینکنگ کی شہادت بھی یہی ہے اور حالیہ ریکارڈ بھی یہیں دلیل دیتا ہے۔
جس یکطرفہ برتری سے کینگروز نے ایشز جیتی ہے، اس کے بعد کمِنز کی ٹیم کا اعتماد بھی بہت بلند ہو گا۔ اور یہ تو ہم ایشز میں جان ہی چکے ہیں کہ کمِنز کی قائدانہ صلاحیتیں کسی بحث کی متقاضی نہیں ہیں۔ فاسٹ بولرز ویسے بھی جارحانہ کپتان ہوتے ہیں۔
جبکہ بابر اعظم کے لیے یہ امتحان سخت ہو گا کہ انھیں اپنی ہوم کنڈیشنز میں اب تک کی مشکل ترین اپوزیشن درپیش ہے۔ بابر کی تزویراتی چالوں کی بھی خوب آزمائش ہوگی کہ وہ اپنے کچھ اہم ترین کھلاڑیوں کے بغیر، کیسے اس ٹیم کو جیت کی راہ پر ڈالیں۔
پاکستان اور آسٹریلیا کی گذشتہ ٹیسٹ سیریز میں بابر اعظم ہیزل ووڈ کے خلاف خاصی مشکل میں نظر آئے تھے۔ اور اگر اس تزویراتی پہلو میں بابر اعظم کے پی ایس ایل کے المیے کو بھی جمع کر دیا جائے تو کمِنز کے لیے امیدوں کے کئی دیئے روشن ہو جاتے ہیں۔
مگر پاکستان کو برتری یہ رہے گی کہ شاہین شاہ آفریدی بہترین فارم میں ہیں اور پی ایس ایل جیتنے کے بعد ان کا اعتماد بھی بہت بلند ہے۔
دیکھنا صرف یہ ہو گا کہ کتنی جلدی وہ ٹیسٹ کرکٹ کے تقاضوں میں خود کو ڈھال سکتے ہیں کیونکہ مہینہ بھر ٹی ٹونٹی کھیلنے کے بعد اچانک ٹیسٹ کرکٹ شروع کرنا ذرا دشوار ہوتا ہے۔
جس طرح سے یہ سیریز شیڈول کی گئی ہے، ممکن نہیں کہ سپنرز اس میں کوئی بڑا کردار ادا کر پائیں۔
راولپنڈی ہی کی طرح کراچی کی وکٹ بھی تاریخی اعتبار سے ہمیشہ سیم اور سوئنگ کی طرف داری کرتی رہی ہے۔ محض لاہور کی کنڈیشنز ہوں گی کہ آسٹریلوی بلے بازوں کو واقعی مخمصے میں ڈال دیں۔
اگرچہ فی زمانہ ٹیسٹ کرکٹ میں فیورٹ ہمیشہ میزبان ٹیم ہی ہوا کرتی ہے مگر یہاں شیڈولنگ کے مسائل، انجریز اور پی ایس ایل کی تھکاوٹ کے سبب پاکستان فیورٹ نہیں ہے اور اگر پاکستان کے آزمودہ کار چہروں میں سے کوئی ایک دو ناکام ہوئے تو آسٹریلیا فیورٹ بھی ہو سکتا ہے۔
(بشکریہ:بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker