قارئین کرام ! گزشتہ کالم میں اساتذہ کے حضور گزارشات کی جسارت کی تھی ۔بہت سے بچوں نے فون کر کے حوصلہ افزائی کی اور مجھے اپنی تحریر کی بہترین اُجرت اُن جوانوں کی تعریف کی صورت میں ملی ۔
ایک اور انتہائی افسوس ناک وڈیو یا ٹک ٹاک میری نظر سے گزری ۔ملتان کی ایک پرائیویٹ یونیورسٹی جس کا دورہ حال ہی میں گورنر صاحب فرما کر گئے ہیں یہ ٹک ٹاکر اس یونیورسٹی کی ڈائریکٹر ہیں ۔میرے پاس الفاظ نہیں کہ ان کے بارے میں کیا لکھوں ؟ ہم بچوں کو کیا اخلاقیات سونپ رہے ہیں یہی ایک سوال مجھے مسلسل بے چین کر رہا ہے ۔خیر آج میرا موضوع کچھ اور تھا ۔۔ان بچوں کی ستائش پر ایک تعلیمی ادارے کی یہ ٹک ٹاکر بھی یاد آگئی ۔۔ ایک محفل میں ایک ڈسپنسر نے انکشاف کیا کہ ایک پرائیویٹ ہسپتال نے فلاں انجکشن پنتیس روپے فی کس کے حساب سے خریدا ہے ۔تمام ڈاکٹر صاحبان انگشت بدنداں تھے کہ فلا ں فارما سوٹیکل کا ریٹ تین سو روپے ہے ۔اور فلاں کا اُس سے کچھ کم اور بہترین رزلٹ ہے ۔یہی سالٹ پینتیس روپے میں کیسے دستیاب ہے ۔بہر حال میرے وطن میں یہ باتیں اچنبھے کی نہیں ہیں ۔ اسی محفل میں ان ڈاکٹر صاحبان کی موجودگی میں میں نے ہیلتھ کارڈ کے حوالے سے ذکر چھیڑ دیا ۔نتیجہ گفتگو جو نکلا وہ آپ سب کے سامنے رکھتی ہوں ۔سوچیے گا ضرور ۔۔
لائف انشورنس کا ادارہ ایک عرصے سے بس رینگ رینگ کر چل رہا تھا ۔ اس محکمے کی بھی سُنی گئی ۔پرائیویٹ ہسپتال اس ادارے سے این او سی لیں گے پھر ماہانہ رپورٹس دے کر کلیئرنس بھی اسی محکمے سے لینی ہے ۔حکومت کے پاس چیک اینڈ بیلنس کے بہترین ذرائع موجود ہیں ۔ تحقیق کے خفیہ طریقے بھی ہیں ۔ہو سکتا ہے جو بات میں کرنے جا رہی ہوں وہ سو فیصد نہ ہو ۔ لیکن یہ حقائق ہیں ۔حکومت اس طرف توجہ ضرور کرے ۔ بے شک اس کی نگاہ میں پرائیویٹ ہسپتالوں کو نوازنا ضروری تھا ۔حالانکہ ضرورت تو گورنمنٹ ہسپتالوں کو اَپ گریڈ کرنے کی تھی۔ بنیادی مراکز صحت میں جا کر دیکھیں کس طرح ڈاکٹرز اور باقی عملہ مصیبتیں اُٹھا کر ڈیوٹی دیتا ہے ۔عمارتیں کھنڈر بنی ہوئی ہیں دوائیں پوری نہیں ۔۔ اگر انہی ہسپتالوں کی حالت درست کی جاتی دوائیں ،تھیٹر کا سامان میسر ہو تو غریبوں کو دروازے پہ علاج مل جاتا ۔گزشتہ حکومت پر بہت اعتراض ہوا کہ سڑکیں بنا دیں لیکن ہسپتال نہیں بنائے تو جناب آپ نے سڑکوں کی مرمت کی زحمت تو ایک طرف پہلے سے موجود ہسپتالوں کے لیے کیا کیا۔پرائیویٹ ہسپتال مُجھ جیسے غریب نے تو بنانے نہیں یہ دولتمندوں کا ایک سائیڈ بزنس ہے ۔ جیسے پرائیویٹ سکولز کسی نہ کسی کی بیگم ۔کسی سیاستدان کی ملکیت ہیں ۔ مثال کے طور پہ ایک پرائیویٹ ہسپتال کو ایک آپریشن کے اٹھارہ ہزار ملیں گے جو کہ اتنے ہی مقرر ہیں ۔وہ سرجن کی فیس اینستھیزیا کی فیس سرجری میں استعمال ہونے والی دوائیں اسی فیس سے ارینج کر ے گا ۔اب ا ن کی کوشش ہوگی کہ سستا یا ہو سکتا ہے نیا ڈاکٹر ہائیر کیا جائے۔جس کی فیس کم سے کم ہو ۔ میڈیسن سستی لی جائیں ۔جس کی طرف میں نے تحریر کے آغاز میں اشارہ کیا کہ ایک پرائیویٹ ہسپتال نے کسی کمپنی سے غیر معیاری انجکشن اُٹھائے جو پینتیس روپے میں نہیں مل سکتا ۔تو یقینا ً اسے بھگتنا تو مریض کو ہی پڑے گا ۔
وہ ہسپتال جو صحت کارڈ کے پینل پہ آنے کے لیے دس لاکھ مخصوص ادارے کو ادا کرے پھر ماہانہ کلیئرنس لینے کے لیے دو ہزار روپے فی مریض رشوت بھی ادا کرے تو معذرت کے ساتھ وہ پرائیویٹ ہسپتال چیریٹی کا شوقین نہیں ہے ۔تو قارئین کرام میں تمام شُرکاءگفتگو کو بے بسی سے سنتی رہی اور سوچتی رہی کہ مالک میں کس دیس میں رہتی ہوں ۔ جہاں رعایا کے نام پر نہ جانے کس کس ذریعے سے دولت سمیٹی جاتی ہے ۔جہاں چوروں کو پکڑنے کا ایک ادارہ ہے جو ان چوروں سے حصہ لے کر با عزت بری کر دیتا ہے ۔ جو جتنا بڑا چور وہ اُتنا بڑا معتبر ہے۔ چور جب جیل سے باہر آتا ہے تو ہار پہنائے جاتے ہیں ۔وکٹری کے اشارے دکھا کر غریبوں کا مضحکہ اُڑایا جاتا ہے ۔
ایک بڑے ادارے کے قانونی مشیر سے شرف ملاقات ہوا تو پتا چلا کہ موصوف بڑے زمیندار ہیں ۔ ایک اعلٰی ہستی کے کلاس فیلو تھے تو بس یونہی ایک نئے تجربے کے لیے ایڈوائیزری لی تاکہ کورٹ آنے کا بھی بہانہ رہے ۔میں سوچتی رہی کہ کتنا اچھا ہوتا اگر یہ ایڈوائیزری کسی غریب وکیل کو ملتی جس نے بچوں کا پیٹ پالنا تھا ۔
کیسے درست ہو گا یہ سب ۔درستگی کے لیے ہی تو چُنتے ہیں ہم ان لوگوں کو ۔اور یہ مہربان حلف لیتے ہیں ،پلاننگ کرتے ہیں کہ ذرائع کیسے بڑھائے جائیں۔میں سوچتی رہی ایک دلیر صحافی کے پروگرام جس نے ثبوت کے ساتھ پروگرام کیئے ۔مگر کسی منصف نے گوارہ نہ کیا کہ اس کی بات پر کان دھرتا ۔
بہت مایوس ہیں ہم لوگ۔اور انتخاب کے لیے کوئی رہبر دکھائی نہیں دیتا ۔مجھے لگتا ہے ہم ایک جنگل میں کھڑے ہیں جہاں سارے درخت کیکر کے کانٹوں سے بھرے ہیں ۔اور جب چناﺅ کا کوڑا برسایا جاتا ہے ۔تو سوچتے ہیں نسبتاکم کانٹوں والے کیکر چُن لیں ۔بس اتنی سی داستان ہے ۔
فیس بک کمینٹ

