بعض اوقات دیانت دار سرکاری ملازم کے غلط مذہبی تعصبات بھی بہت بڑی ناانصافی کا سبب بن جاتے ہیں۔اس طرح کے ایک کیس میں قومی تحویل میں لی گئی ایک فیکٹری کا مینجر جو خاصا پڑھا لکھا اور بڑا لائق فائق تھا ملوث پایا گیا۔اس پر الزام تھا کہ اُس نےکچھ فولاد بازاری قیمت سے کم نرخ پر فروخت کردیا جس سے حکومت کا 13000 ہزار روپے کا نقصان پہنچا۔دوران تفتیش ایک انسپکٹر( ایف آئی اے) نے اسے مارا پیٹا۔وہ منیجر اگلے دن ہانپتا کانپتا اور غصہ میں بھرا ہوا میرےپاس آیااور کہنے لگا:
میں بڑی مشکل سے آپ تک پہنچا ہوں۔انسپکٹر مجھے جان سے مارنے پر تلا ہوا تھا۔میں نے اس کی منت سماجت اور خوشامد کرکے جان بچائی ہے۔
میں نے اپنے ڈپٹی ڈائیریکٹر جعفر خان کو جو بڑا قابل اور ایماندارافسر تھا بلایا اور کیس کی تفصیلات کا مطالعہ کرنے لگا۔وہ فولاد 1980 میں بیچا گیا تھا اور قیمتوں کا موازنہ 1984کی قیمت سے کیا گیا تھا۔میں نے یہ اطمینان کرنے کے بعد کہ ملزم بالکل بے گناہ ہےتفتیشی انسکپٹر بارے میں معلومات حاصل کیں۔وہ بھی بڑا ایماندار اور متقی افسر نکلا۔میں سوچ میں پڑگیا کہ یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے۔
چھان بین کرنے پر پتہ چلا کہ وہ شکایت مارشل لا ہیڈ کوارٹرز سے آئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایک بھٹو نواز مرزائی بلا خوف وخطر اربوں روپے لوٹ رہا ہے۔میرا خیال تھا کہ اس میں لازماًکسی مذہبی دیوانے کا غیظ وغضب شامل ہے۔
میرا قیاس درست نکلا۔کارپوریشن کے سربراہ کا تعلق جماعت احمدیہ سےتھا جب کہ تفتیشی انسکپڑ شیعہ تھا۔انسکپٹر تفتیش کے دروان مذہبی تعصب میں مبتلا ہوگیااور احمدی کو دہشت زدہ کرنے پر تل گیا۔اس نے احمدی کو اس وقت تک نہیں چھوڑاجب تک وہ انسکپڑ کے مرشد کے ہاتھ پراسلام قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوگیا۔انسپکٹر کو اس بات پر بڑا ناز تھا کہ اس نے ایک غیر مسلم کو اپنے سرکاری اختیارات استعمال کرکے دایرہ اسلام میں شامل کرلیاہے۔اس مقدمہ کو خارج کرنے کے لئےضروری اقدامات کئے گئے۔مجھے نہیں معلوم آیا وہ احمدی مستقل طور پر مسلمان ہوا تھا یا وقتی طور پر۔
( سابق انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس سردار محمد چودھری کی خود نوشت جہان حیرت سے اقتباس )

