سوات: دریائے سوات میں تیزبہاؤ کی وجہ سے 17 سیاح پانی کے ریلے میں بہہ گئے۔جمعہ کی صبح سوات بائی پاس کے مقام پر دریاکےکنارے ہوٹل پر ناشتہ کرنے والی چند فیملیز دریاکے خشک حصہ میں اتریں، اچانک ریلہ آیا اورسب کو بہا لے گیا۔ریسکیو کے مطابق سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والا متاثرہ خاندان سیالکوٹ سے سوات سیر کے لیے آیا تھا جو دریا کے کنارے بیٹھا ناشتہ کررہا تھا تاہم اسی دوران بارش کی وجہ سے دریا میں تیز بہاؤ ہوا اور ایک ہی خاندان کے 10 افراد بہہ گئے۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ 8 بجے کے قریب ان لوگوں کے ڈوبنے کی اطلاع ملی، بائی پاس پر مہمان آئے ہوئے تھے جو دریا کے کنارے بیٹھے تھے، ان لوگوں کو پانی کے ریلے کا علم نہیں تھا۔ریسکیو حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا اور 4 افراد کو بچالیا گیا جب کہ 9 کی لاشیں مل گئی، باقی 4 کی تلاش جاری ہے۔جاں بحق7 افراد کا تعلق سیالکوٹ اور 2 کا مردان سے ہے جبکہ جاں بحق افراد میں 5 بچے بھی شامل ہیں۔ڈپٹی کمشنر سوات نے جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دریا میں نہانے اور اس کے قریب جانے پر دفعہ 144 نافذ کررکھی ہے لیکن اس کے باوجود سیاح وہاں جاتے ہیں۔
نمائندہ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سیاح نے کہا کہ ان کے خاندان کے 10 افراد دریا میں بہہ گئے۔
سیاح نے بتایا کہ ہم ناشتہ کرکے چائے پی رہے تھے اور بچے دریا کے پاس سیلفی لینے گئے، اس وقت دریا میں اتنا پانی نہیں تھا، اچانک سے پانی آیا تو بچے پھنس گئے، ریسکیو کو آگاہ کیا تو وہ ڈیڑھ سے 2 گھنٹے بعد آئے، یہ سب ان کے سامنے ہوا، ریسکیو کی موجودگی میں بچے دریا میں ڈوبے اور وہ بچا نہیں سکے۔ڈپٹی کمشنر سوات شہزاد محبوب کے مطابق ڈوبنے والے 10 افراد کا تعلق سیالکوٹ، 6 کا مردان اورایک سوات کا رہائشی ہے۔ضلعی انتظامیہ کاکہناہے کہ دریائے سوات میں اچانک ریلے سے مختلف مقامات پر 70افرادپھنس گئےتھے جن میں سے 55کو ریسکیوکرلیاگیاہے اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اور درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافہ اورتیزی سے گلئیشرز پگھلنے کے باعث دریاؤں میں اچانک ریلے کا آجانا اب معمول بنتاجارہاہے۔ دریائے سوات میں سیاحتی موسم کے دوران جگہ جگہ لوگ دریا میں ٹھنڈے پانی سے لطف اندوز ہورہے ہوتے ہیں لیکن ذرا سی غفلت اورلاپرواہی قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بن جاتی ہے۔
( بشکریہ : جیو نیوز )
فیس بک کمینٹ

