گذشتہ جمعہ یکم محرم کی تاریخ تھی اور اسی دن دریائے سوات میں پانی کے منہ زور اور تند و تیز ریلے میں بہہ جانے والے سترہ افراد کی بے بسی و بے چارگی کی خبر پاکستان بھر کے عوام کو عوام کی زندگی کی بے توقیری کا احساس دلاتی رہی۔پنجاب اور سندھ کے سیاست دان کے پی کے حکومت کے خوب لتے لیتے رہے۔سونے پر سہاگہ یہ کہ کے پی کے میں مسلسل بارہ تیرہ سال سے حکمرانی کرنے والی جماعت پی ٹی آئی کے موجودہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے یہ کہہ کر مرنے والوں کے ساتھ ساتھ دیگر عوام کو بھی ان کی اوقات یاد دلا دی کہ "انہوں نے دریائے سوات میں ڈوبنے والوں کو ٹینٹ تو نہیں دینے تھے”۔
کل جمعہ کا دن تھا اور محرم کی آٹھ تاریخ۔جمعہ نماز کی تیاری سے پہلے ٹی وی آن کیا تو کراچی کے معروف و مشہور علاقے اور سندھ میں 2008سے آج تک مسلسل برسراقتدار جماعت پی پی پی کے گڑھ لیاری میں ایک پانچ منزلہ عمارت گرنے اور گری ہوئی عمارت کے ملبے تلے دبے ہوئے افراد کی خبر حکام کی نظر میں عوام کی زندگیوں کی قدر و قیمت کا پتہ دے رہی تھی۔محرم کی وجہ سے بند کی گئی انٹر نیٹ کی سہولت امدادی اداروں تک اس سانحے کی بر وقت اطلاع نہ پہنچ سکنے کا سبب بن گئی۔
ایک جمعے سے دوسرے جمعے تک ان آٹھ دنوں میں جب ان دو المناک سانحات کے علاوہ دہشتگردی کے واقعات میں بھی ہمارے کئی فوجی جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور روزانہ کی بنیاد پر پیش کر رہے ہیں ہمارے وزیراعظم اپنے دوچار پسندیدہ وزراء کے ساتھ ایک جہاز سے اترتے اور دوسرے پر سوار ہوتے دکھائی دیئے گویا ملک کا نظام اور دیگر معاملات "ٹھیکے” پر دے دئیے گئے ہوں۔
ملک میں موجود حکومتی اور اپوزیشن کے دیگر ترجمانوں کا کام لڑاکا اور بد زبان عورتوں کی طرح ایک دوسرے کے عیب گنوانے کے سوا اور کچھ نہیں ۔ یہ کام احسن طریقے سے کرنے پر وہ داد وتحسین کے مستحق ہیں۔
کل لیاری میں رہائشی عمارت زمیں بوس ہونے کے نتیجے میں آخری خبریں آنے تک سولہ افراد کی ہلاکت کے بعد سندھ میں عوامی خدمت کی دعویدار جماعت پی پی پی کے مئیر کراچی مرتضٰی وہاب اور وزیر بلدیات سعید غنی نے جاۓ وقوع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ” عمارتوں کو مخدوش قرار دے کر انہیں خالی کرنے کے نوٹس دے دئیے گئے تھے”.۔۔وزیر بلدیات سعید غنی نے تو نوٹس لہرا کر دکھاتے ہوئے اعتراف کیا کہ "ہم بلڈنگ مافیا کا کچھ نہیں بگاڑ سکے”..
مخدوش عمارتوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ متبادل رہائش نہ ہونے کے صورت میں ہم کہاں جائیں ؟
کراچی بلکہ ملک بھر میں ایسے سانحات معمول کی بات ہیں انسانی جانوں کی کوئی قدر و قیمت و وقعت نہیں ہے۔لوگ سڑکوں پر حادثات کی صورت میں مریں یا رہزنوں کے ہاتھوں قتل ہوں۔نیرو چین کی بانسری بجاتے رہے ہیں اور بجاتے رہیں گے۔۔
اس سانحے کے بعد بلڈنگ اتھارٹی کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ کراچی میں 548 عمارتوں کو مخدوش قرار دے کر انہیں خالی کرنے کے نوٹس جاری کئے گئے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ ان مخدوش عمارتوں کے رہائشی افراد انہیں چھوڑ کر آخر کہاں جائیں ؟ کاش کئی کئی کنالوں اور ایکٹروں میں رہنے والے افسران اور عوامی خدمت کے دعویدار حکمران بے گھر ہونے کے خوف میں مبتلا ان مخدوش عمارتوں میں اپنی زندگیاں داؤ پر لگا کر رہنے والوں کی پریشانی اور دکھ سمجھ سکیں۔ اور کاش کراچی میں مخدوش قرار دئیے جانے والی 548 عمارتوں کے رہائشیوں کو متبادل رہائش فراہم کر کے مزید انسانی جانوں کے نقصان سے بچنے کے اقدامات کر لئے جائیں۔حکمرانوں کی نظر میں تو ملک میں معاشی انقلاب آ چکا ہے مگر عوام کی زندگیاں عذاب سے دوچار ہیں۔
فیس بک کمینٹ

