ملتان : نامور افسانہ نگار کالم نگار اور صحافی مسعود اشعر کی آج چوتھی برسی ہے ۔ان کا 91 برس کی عمر میں پانچ جولائی 2021 کو انتقال ہو گیا تھا ۔ مسعود اشعر کا اصل نام مسعود احمد خان تھا وہ دس فروری 1931 کو رام پور میں پیدا ہوئے ۔
قیام پاکستان کے بعد لاہور اور ملتا ن میں قیام پذیر رہے اور روزنامہ احسان، زمیندار، آثار اور امروز سے وابستہ رہے۔مسعود اشعر کئی برس تک روزنامہ امروز ملتان کے اقامتی ایڈیٹر کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔ ان کے ملتان میں اس وقت کے کور کمانڈر ضیاءالحق کے ساتھ قریبی مراسم تھے تاہم بعد ازاں انہیں بحالی جمہوریت کی قرارداد پر دستخط کی پاداش میں این پی ٹی کے دیگر ملازمین کے ہمراہ ملازمت سے سبکدوش کر دیا گیا ۔
مسعود اشعر کے افسانوں کے مجموعے آنکھوں پر دونوں ہاتھ، سارے افسانے اور اپنا گھرکے نام سے شائع ہوئے۔حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2009 ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔وہ ایک طویل عرصہ لاہور میں قیام پذیر تھے اور معروف علمی ادارے مشعل بکس کے سربراہ رہے ۔ وہ روزنامہ جنگ اور روزنامہ دنیا میں ہفتہ وار کالم بھی لکھتے تھے۔ مسعود اشعر کو ان کی ادبی خدمات پر 2015ء میں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔
فیس بک کمینٹ

