میں نے ایک جگہ لکھا تھا کہ اگر ملتان کی علمی،ادبی اور تہذیبی زندگی سے ڈاکٹر انوار احمد کو مائنس کر دیں تو پیچھے فقط سناٹے رہ جائیں گے۔اس جملے کے عقب میں عقیدت مندی سے زیادہ تجزیاتی سچائی تھی جس پر میں آ ج بھی قائم ہوں۔مجھے یاد ہے میں نے جب ۱۹۸۳ میں شعبہ اردو بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں داخلہ لیا تھا تو میرے اس وقت کے اساتذہ میں انوار احمد صاحب بھی شامل تھے۔پھر کسی وجہ سے میں نے ملتان کو خیرباد کہہ کر پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج لاہور میں داخلہ جا لیا۔وہاں پر اردو کے تمام اساتذہ اپنی قابلیتوں اور کام کی وجہ سے "لیجنڈ” تھے،ان اساتذہ میں محترم ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار صاحب بھی تھے ایک دن انھی کے دفتر میں بیٹھا تھا تو ملتان یونیورسٹی کا ذکر چل نکلا ، میں نے سر کو بتایا کہ میں ملتان کا بھگوڑا ہوں تو ذوالفقار صاحب نے ناراض ہوتے ہوئے کہا کہ بیٹا وہاں انوار احمد صاحب جیسے لائق استاد موجود ہیں،آ پ نے ملتان کو چھوڑ کر غلطی کی ہے ۔انوار احمد صاحب سے میری عقیدت کا اغاز یہیں سے ہوا۔
۱۹۸۳ سے لے کر لمحہءموجود تک اس عقیدت میں بتدریج اضافہ ہی ہوا ہے ۔انوار احمد صاحب کے بارے کسی نے کہا تھا کہ آ پ تدریسی استاد کے ساتھ ساتھ ایک اتالیق بھی ہیں جو تعلیم کے ہمراہ تربیت بھی کرتے ہیں۔آ پ کی لاتعداد شخصی خوبیاں ہیں پر آ ج مجھے آ پ کی سرائیکی زبان وادب پر اجمالا کچھ لکھنا ہے ۔اردو زبان وادب کی تدریس، طنزومزاح،کالم نویسی،تحقیق،تنقید اور تخلیق کے تناظر میں آ پ کی ناقابل فراموش خدمات ہیں۔آ پ کے دلکش اسلوب اور لیکچر دینے کے موثر انداز نے ہزارہا طالب علموں کو اردو زبان وادب کی جانب راغب کیا تو تھا ہی پر سرائیکی زبان وادب اور وسیبی تہذیب و ثقافت کی شناسائی میں بھی آ پ کی شخصیت کا اہم کردار ہے ۔خواجہ فرید کے تین رنگ،فریدیات کی نہایت اہم کتاب ہے ۔جب آ پ شعبہ سرائیکی بی یو ملتان کے ناظم بنے تو اس شعبے کی دنیا ہی بدل دی۔کئی اہم کتابوں کی اشاعت آ پ ہی کے دور میں ہوئی۔آ پ نے یہاں پر سرائیکی عجائب خانہ قائم کر کے یہ پیغام دیا کہ جامعات کا کام صرف درس وتدریس یا تحقیق کی باریکیوں کو متعارف کرانا نہیں ہوتا بلکہ مقامیت اور مقامی تاریخ،تہذیب اور ثقافت کو بھی یوتھ کے سامنے لانا ہوتا ھے۔آ پ کا بیانیہ تھا کہ ہمیں سب سے پہلے سرائیکی زبان اس کے ادب اور یہاں کی تاریخ،تہذیب اور ثقافت کو متعارف کرانا چاہیے اس کا لسانی میڈیم کوئی بھی ہو اس سے فرق نہیں پڑتا۔آ پ اس حقیقت کو جانتے تھے کہ سرائیکی زبان کی ریڈرشپ کا دائرہ ابھی وسیع نہیں ہے۔ایسا نہ ہو جائے کہ زبان کی محبت میں سرائیکی اپنی مقامیت،تاریخ،تہذیب و ثقافت اور اپنی دھرتی کی شناخت ہی نہ کرا سکیں۔آ پ کے بیانیے سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے پر آ گے چل کر پتا چلا کہ آ پ کا موقف صحیح تھا۔آ پ نے اپنے بیانیے(سرائیکی کے وسیع تعارف)کے لیے اپنی مجلسوں،اپنی تحریروں،تقریروں اور گفتگووں میں اپنے وسیب کا تعارف غیر مرئی انداز میں اس طرح کرایا کہ آ ج بڑے بڑے ایوانوں اور اشرافیہ کی محفلوں میں سرائیکی زبان وادب اور یہاں کے وسیب کی مقامیت اپنی شناخت کو مستحکم کراچکی ہے ۔آ پ نے سندی تحقیق میں بھی کسی نہ کسی طرح سرائیکیت کو شامل رکھا۔آ پ آ ئے روز vivas یا ملازمتوں کے سلسلے میں جاتے رہتے ہیں وہاں باتوں ہی باتوں میں سرائیکی کا حوالہ لے ہی آ تے ہیں۔
سرائیکی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا یا ادبی کانفرنسوں میں اپنی گفتگو میں سرائیکی اور سرائیکیت کی جانب فنکارانہ انداز میں Twist لے لینا بالواسطہ طور پر سرائیکی زبان وادب کا تعارف ہی مقصود ہوتاہے ۔جب ہم آ پ کی خدمات کا سرائیکی زبان وادب کے تناظر میں ادبی مجلہ "پیلھوں” کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کے کام کو داد دیئے بغیر رہ نہیں سکتے کہ آ پ نے اس رسالے کے ہر شمارے میں سرائیکی زبان وادب کے پس منظر میں بڑی اہم اور موقر تحریروں کو شائع کیا،سرائیکی مشاہیر کے خاص شمارے شائع کیے،کئی اصناف کے تعارف اور ان کے مباحث کو اچھوتے انداز میں نمایاں کیا اور ملتان سے شائع ہونے والے اخبارات کے ادبی ایڈیشنوں میں وادی سندھ کی اس ترقی یافتہ زبان (سرائیکی) کے تعارف اور اس کی تفہیم پر عالمانہ بحثیں کیں۔وسیب سے تعلق رکھنے والے(گوپی چندنارنگ جیسی شخصیات) مشاہیر کو اپنے انداز میں متعارف کراکے سرائیکی کی عظمت کا اعتراف کیا۔اس طرح آ پ نے معاصر سرائیکی خدمت گاروں کے مقابلے میں کوئی کم خدمات سرانجام نہیں دیں۔
فیس بک کمینٹ

