اہم خبریں

2018 کے الیکشن میں مجھے میری پارٹی نے ہروایا : شاہ محمود قریشی

ملتان : پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملتان میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 217 میں ہونے والے ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران اپنے ایک خطاب میں کہا ہے کہ سنہ 2018 کے عام انتخابات میں وہ ملتان سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر الیکشن ہارنے کی وجہ ان کی اپنی پارٹی تحریک انصاف تھی۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ اُن کے خلاف ان کی اپنی پارٹی نے سازش کی تھی۔
اس بیان کے بعد بی بی سی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود نے وضاحت کی ہے کہ وہ اپنے بیان میں تحریک انصاف کے ان سابق رہنماؤں کی جانب اشارہ کر رہے تھے جو آج پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی خبریں کہ میرا پارٹی کے ساتھ آج کل کوئی اختلاف چل رہا ہے ’محض پراپیگنڈا ہیں۔‘
بدھ کو ملتان کے حلقہ پی پی217 میں ہونے والے ضمنی الیکشن کی مہم کے دوران ایک کارنر میٹنگ سے خطاب میں شاہ محمود قریشی نے کہا `کہ سال 2018 کے جنرل الیکشن میں میری پارٹی نے ہی میرے خلاف سازش کرتے ہوئے مجھے صوبائی اسمبلی کی سیٹ سے ہروایا۔‘تاہم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس سازش سے انھیں کوئی فرق نہیں پڑا، وہ تو وزیر خارجہ بن گئے، مگر ملتان کو فرق پڑا اور جنوبی پنجاب کو فرق پڑا۔
انھوں نے کہا کہ ’برملا کہہ رہا ہوں اور خان کو بھی کہا ہے کہ آج پنجاب کی یہ کیفیت نہ ہوتی اگر شاہ محمود یہاں سے جیت گیا ہوتا۔‘
کارنر میٹنگ سے خطاب میں شاہ محمود نے کہا کہ لوگوں نے انھیں کہا کہ ضمنی الیکشن اپنے بیٹے کو مت ہرائیں، لوگ کہیں گے وائس چئیرمین کا بیٹا ہار گیا تو بے عزتی ہو گی۔
وہ کہتے ہیں کہ `میں نے ان سے کہا کہ کچھ جنگیں صرف جیتنے کے لیے نہیں لڑی جاتیں۔‘
واضح رہے کہ 2018 میں شاہ محمود قریشی کو پی پی 217 سے تحریک انصاف ہی سے تعلق رکھنے نوجوان آزاد امیدوار محمد سلمان نے شکست دی تھی جو پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترے تھے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود نے کہا کہ محمد سلمان کو پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا تھا اور طے تو یہ پایا تھا کہ جسے پارٹی ٹکٹ نہیں دے گی وہ ٹکٹ ملنے والے کے حق سے دستبردار ہو گا تاہم سلمان دستبردار نہیں ہوئے تھے اور تحریک انصاف کے ہی لوگوں نے انھیں سپورٹ کیا جو آج ن لیگ کے ساتھ ہیں۔
( بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker