وزیر اعظم شہباز شریف قاہرہ میں ماحولیات کی ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد ’نجی دورہ پر نجی پرواز ‘ سے لندن روانہ ہوگئے ہیں۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب نے اس دورہ کی مزید معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے لیکن موجودہ حالات میں شہباز شریف کی لندن روانگی متعدد سوالات کو جنم دے گی اور شکوک و شبہات کی فضا مزید گہری ہوگی۔ یہ سارے اشارے مل کر ایک کمزور اور غیر مؤثر حکمرانی کی تصویر کشی کرتے ہیں۔
پاکستان کی قومی اسمبلی نے شہباز شریف کو ملک کا وزیر اعظم منتخب کیا ہے۔ ملکی قانون کے لحاظ سے وہی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر بھی ہیں۔ اس تناظر میں ان سے فیصلے کرنے اور بطور چیف ایگزیکٹو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی توقع کی جاتی ہے لیکن گزشتہ چھے ماہ کے دوران شہباز شریف کا بیشتر وقت بیرون ملک دوروں پر صرف ہؤا ہے۔ وہ تیسری بار لندن کے دورے پر پہنچے ہیں۔ اب یہ بات کوئی راز بھی نہیں ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف ہیں لیکن فیصلے نواز شریف کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر اہم موقع پر شہباز شریف لندن سے ہدایات کا انتظار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس وقت ملک میں ایک طرف نئے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے قیاس آرائیوں اور اندازے قائم کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور یہ سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پاک فوج کی کمان نئے چیف کے ہاتھ میں آنے کے بعد ملکی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ تو دوسری طرف عمران خان نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران وزیر آباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ کے بعد سے تحریک انصاف نے شاہراہیں بلاک کرکے شہریوں کی زندگی اجیرن کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اب یہ بات بھی واضح ہوچکی ہے کہ پارٹی لیڈروں کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود 28 اکتوبر کو لاہور سے شروع ہونے والا لانگ مارچ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی توقعات کے مطابق نہیں تھا۔ عمران خان کا خیال تھا کہ وہ اپنی پارٹی کی علاقائی قیادت کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کردیں گے لیکن یہ امید بر نہیں آئی۔ تحریک انصاف کے لیڈر چند ہزار کے ہجوم کو لاکھوں کا مجمع قرار دے کر بلند بانگ دعوے ضرور کرتے رہے لیکن اس کے ساتھ ہی لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے کی تاریخ میں بھی آگے بڑھتی رہی ۔ ابتدائی پروگرام کے مطابق لانگ مارچ 4 نومبر کو اسلام آباد پہنچ کر دھرنے میں تبدیل ہونا تھا تاکہ حکومت سے مستعفیٰ ہونے اور نئے انتخابات منعقد کروانے کا مطالبہ پورا کروایا جاسکے۔ لاہور سے نکلتے ہوئے ہی عمران خان کو اندازہ ہوگیا تھا کہ لاکھوں تو کجا دس بیس ہزار سے بڑا ہجوم بھی جمع کرنا مشکل ہوگا۔ اسی لئے یہ نام نہاد لانگ مارچ روزانہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی شعلے برساتی تقریریں سننے کے لئے جمع ہونے والے ہجوم سے نہیں بڑھ سکا۔ عمران خان روز رات کو تقریر کرکے لاہور میں اپنے گھر چلے جاتے اور لوگ تتر بتر ہوجاتے ۔ نئے دن کے ساتھ ایک نئے شو کی تیاری کی جاتی۔
حکومت کو اطمینان تھا کہ اتنی تعداد کے ساتھ اسلام آباد آکر عمران خان کو ویسی ہی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا جو انہیں 25 مئی کو پیش آئی تھی اور لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کرنا پڑا تھا۔ اس دوران البتہ تحریک انصاف کے میڈیا سیل نے جلوس میں لوگوں کی کمی کو زور دار خبروں اور عمران خان کے نت نئے الزامات سے بھرپور طور سے پورا کرنے کی کوشش کی۔ بدقسمتی سے لانگ مارچ کے پہلے دور کا اختتام 3 نومبر کو وزیر آباد کے قریب عمران خان پر فائرنگ کے واقعہ سے ہؤا ہے۔ فائرنگ کرنے والا شخص گرفتار ہوچکا ہے اور اس نے مذہبی وجوہات کی بنا پر حملہ کرنے کا ’اعتراف‘ بھی کیا ہے۔ تاہم عمران خان نے وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور ایک فوجی جنرل پر اس حملہ کی منصوبہ بندی کرنے اور ایف آئی آر میں ان ناموں کو شامل کروانے کی ضد کرکے معاملہ کو مسلسل طول دیا ہے۔
عمران خان کا دعویٰ ہے کہ پنجاب پولیس نے ان کی مرضی کے مطابق ایف آئی آر درج نہیں کی لیکن وہ اس بات کی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں کہ جو پولیس چوہدری پرویز الہیٰ کے حکم پر تحریک انصاف کے مٹھی بھر لوگوں کو شاہراہیں روکنے کی سہولت فراہم کررہی ہے، اس نے اس معاملہ میں وزیر اعلیٰ کا حکم ماننے سے کیوں انکار کیا۔ حقیقت یہی ہے کہ پرویز الہیٰ خود بھی ایف آئی آر میں ایک فوجی افسر کا نام شامل کرنے پر آمادہ نہیں تھے ، اسی لئے عمران خان کی خواہش پوری نہیں ہوسکی۔ نہ ہی عمران خان نے ایف آئی آر درج کروانےکے لئے کسی عدالت سے رجوع کیا کیوں کہ ان کا مقصد اس معاملہ کی ’غیرجانبدارانہ‘ تحقیقات نہیں بلکہ اسے سیاسی منہ زوری کے لئے استعمال کرنا ہے۔
سیاسی مقدمہ مضبوط کرنے کے لئے عمران خان نے گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران خود کو مظلوم اور ’حکمرانوں‘ کو ظالم قرار دینے کی پوری کوشش کی ہے۔ اس دباؤ میں اضافہ ہی کے لئے بطور خاص سی این این اور ترک ٹیلی ویژن کے ساتھ انٹرویو کا اہتمام بھی کیا گیا۔ دونوں انٹرویوز میں عمران خان نے ایک اعلیٰ انٹیلی جنس افسر پر الزام عائد کیا لیکن اینکرز کے بار بار پوچھنے پر بھی یہ بتانے سے قاصر رہے کہ ان کے پاس اپنے دعوے کے حق میں کیا ثبوت ہے۔ عمران خان البتہ اپنا یہ مقدمہ مضبوط کرنے میں کامیاب رہے کہ انہیں جن لوگوں پرشک ہے، ان کے خلاف مقدمہ تک درج نہیں ہوتا۔ اب وہ ایک نئے فوجی افسر نام عام کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔ یہ طریقہ فوج پر دباؤ میں اضافہ کرنے ہی کا ہتھکنڈا ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف اس وقت صرف سیاسی کامیابی کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کے بیانات اور دعوؤں سے ملکی شہرت اور قومی اداروں کی کارکردگی پر کیا اثر مرتب ہوتا ہے، وہ فی الوقت ان کا مسئلہ نہیں ہے۔
عمران خان کی اس سیاسی سرگرمی اور جارحانہ حکمت عملی کا جواب دینے کے لئے وفاقی حکومت کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ آئی ایس پی آر نے ایک فوجی افسر پر الزام عائد کرنے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ایسا الزام عائد کرنے والے لوگوں کا احتساب کیا جائے۔ شہباز شریف نے اس کا یہ حل نکالا ہے کہ انہوں نے چیف جسٹس سے درخواست کی ہے کہ وہ اس حملہ کی تحقیقات کرنے کے لئے فل کورٹ کمیشن قائم کریں۔ اور وہ خود پہلے ماحولیاتی کانفرنس کے بہانے اور اب نامعلوم وجوہات کی بنا پر لندن روانہ ہوگئے ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ وہ میڈیکل چیک اپ یا کسی دوسری نجی ضرورت کے لئے لندن گئے ہوں لیکن پاکستان میں یہی تاثر یقین میں تبدیل ہوگا کہ ملک پر اصل حکومت نواز شریف کی ہے۔ اسی لئے شہباز شریف ہر موقع پر لندن کی طرف بھاگتے ہیں۔ملک اس وقت جس انتشار اور بدامنی کا نمونہ پیش کررہا ہے، اس کے پیش نظر وزیر اعظم کو بہر صورت اسلام آباد میں موجود ہونا چاہئے تاکہ وہ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی تیار کریں اور اس کی قیادت کرسکیں۔ لیکن شہباز شریف یہ کردار ادا کرنے میں ناکام ثابت ہورہے ہیں۔ ایسی صورت میں پوچھنا چاہئے کہ اگر وہ ملکی سیاسی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت و حوصلہ ہی نہیں رکھتے اور ہر مشکل وقت میں بھائی کے مشورے کے محتاج یا کسی غیبی امداد کے منتظر رہیں گے تو وہ ان کی اتھارٹی کو کیسے تسلیم کیا جاسکے گا۔ یہ عذر کافی نہیں ہے کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی حکومتیں لانگ مارچ کے حوالے سے اپنی ہی پارٹی کو مکمل تعاون فراہم کررہی ہیں۔ یہ ضرور غلط طریقہ ہوگا لیکن پاکستانی سیاست میں ایسے ہی طریقوں کو کامیابی کا زینہ بنایا جاتا ہے۔ اسی لئے عمران خان تمام تر دباؤ اور پرویز الہیٰ سے ایف آئی آر کے سوال پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے باوجود صوبے میں حکومت سے علیحدہ ہونے پر تیار نہیں ہیں۔ اگر ملک کی کوئی دوسری پارٹی ایسی ہی صورت حال کا سامنا کررہی ہوتی ، تو وہ بھی ایسا ہی منفی اور افسوسناک رویہ اختیار کرتی۔ سوال تو یہ ہے کہ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے پنجاب کی قیادت کا دعویٰ کرنے والی مسلم لیگ (ن) اور حکومت کیا کردار ادا کررہی ہے۔
مسلم لیگ (ن) ضرور وفاق میں وزارت عظمی پر براجمان ہے لیکن اس کے متعدد لیڈر پنجاب میں انتقامی کارروائیوں سے بچنے کے لئے اسلام آباد میں ’پناہ‘ لینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ شہبازشریف کو غیر ملکی دوروں سے فرصت نہیں اور اسلام آباد میں ان کی حکومت اس بحران سے نکلنے کا کوئی ٹھوس روڈ میپ دینے میں ناکام ہو رہی ہے۔ وزیر داخلہ نے ضرور ایک دو بیانات میں پنجاب حکومت کو متنبہ کیا ہے لیکن کیا صرف ایک پریس کانفرنس یا ٹوئٹ بیان ، اس سیاسی طوفان کو روکنے میں کامیاب ہوسکے گا جو عمران خان نے اس وقت برپا کیا ہؤا ہے۔ یہ امر بھی باعث حیرت ہے کہ لانگ مارچ میں عوام کی عدم دلچسپی کو بھی حکومت مناسب طریقے سے سیاسی بیانیہ میں تبدیل نہیں کرسکی اور نہ ہی تحریک انصاف کی اس کمزوری کو وفاقی حکومت کی اتھارٹی مسلط کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکا ہے۔ ایسے میں بے یقینی اور عدم تحفظ میں اضافہ ہورہا ہے۔
صوبائی حکومتیں سیاسی ایجنڈے کے لئے جعلی فساد برپا کئے ہوئے ہیں لیکن وفاقی حکومت نہ فسادیوں کی گرفت کرتی ہے، نہ متبادل سیاسی حکمت عملی واضح کرتی ہے اور نہ ہی وفاق کی طاقت کہیں دکھائی دیتی ہے۔ وسیع تر تناظر میں اس صورت حال کا نقصان شہباز شریف یا اتحادی جماعتوں کو نہیں بلکہ ملکی سالمیت کو پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ لیکن عمران خان کی ٹانگ کھینچ کر خود اقتدار پر قابض ہونے کی خواہش مند پارٹیاں ابھی تک کوئی متبادل سیاسی بیانیہ لے کر میدان میں نہیں نکلیں۔ حتی کے پنجاب کے ’مرد آہن‘ نواز شریف خود تو عدالتی گرفت سے بچنے کے لئے لندن مفرور تھے ہی، پہلا موقع ملتے ہی انہوں نے اپنی صاحبزادی مریم کو بھی وہیں بلا لیا۔ اب شہباز شریف بھی بھائی اور بھتیجی سے مشاورت کے لئے لندن میں ہیں۔ ایسی حکومت کو نرم ترین الفاظ میں بھی شکست خوردہ کہا جائے گا۔ شہباز شریف اور ملک پر حکمران جماعتوں کے تمام قائدین کو علم ہونا چاہئے کہ سیاسی میدان میں شکست سے زیادہ شکست کا خوف و احساس کسی سیاسی قوت کی ناکامی کا سبب بنتا ہے۔اتحادی پارٹیوں کی حکومت اور لیڈر اگر عمران خان کی جارحانہ پیش رفت کا مقابلہ نہ کرسکے تو ملک کو ایک بحران سے نکالنے کے زعم میں مبتلا یہ رہنما قوم کو ایک طویل اور خوفناک انتشار کی طرف لے جانے کا سبب بنیں گے۔ شہباز شریف یا تو اپنی اتھارٹی ثابت کریں، عوام کو سکھ کا سانس لینے کی سہولت فراہم کریں یا یہ عہدہ کسی ایسے شخص کے حوالے کریں جو یہ کام کرنے کا اہل ہو۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

