ایم ایم ادیبکالملکھاری

میاں شہباز شریف گھبرائے ہوئے کیوں ہیں ۔۔ایم ایم ادیب

جب ہاتھ صاف ہوں ،دامن پر کوئی دھبہ نہ ہو توانسان حالات سے اتنی جلدی نہیں گھبراتاجتنی جلدی میاں شہباز شریف گھبراگئے ہیں۔اطلاعات کے کے مطابق نیب کی حالیہ پیشی میں ان کا لہجہ درشت تھا ،اس پر نیب والوں کی ٹون بھی بدل گئیَ۔عام طور پر ایسا نہیں ہوتا ،ملزم تلخ بھی بولے تو منصف صبرو تحمل سے سنتا ہے کہ منصف کا غصہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے ۔
ہمارے نظامِ عدل کی یہ خامی رہی ہے کہ بعض بڑے فیصلوں میں بھی غصے اور ذاتی عناد نے شکوک وشبہت پبدا کر دیئے ،یوں انگلیاں اٹھانے والوں کو کوئی نہ روک سکا۔تاریخ ایسے فیصلوں سے اٹی پڑی ہے ،ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمہ کے فیصلے میں اختلافی نوٹ لکھنے والے جسٹس نسیم الحسن شاہ نے اس وقت کے اٹارنی جنرل یحیٰ بختیار سے ناراضی کی سزا بھٹو کو دی ،اس کا اعتراف بعد ازاں انہوں نے خود کرکے عدل کے منہ پر طمانچہ رسید کردیا ۔
آج نیب عدالت کے فیصلے جو معتبر نہیں گردانے جارہے تو اس کی وجہ وہی مائینڈ سیٹ ہے ۔تاہم وہ لوگ جیسا کہ میاں شہباز شریف ،جب نیب کے روبروپورا سچ بولنے سے گریز کرتے ہیں تو قصور وار کٹہرے میں کھڑے ہونے والوں کا بھی ثابت ہورہا ہوتا ہے ۔
پہلے ہی خادم اعلیٰ کے اس بیان بارے چہ مگوئیاں بہت تھیں کہ وہ اپنے اخراجات دس بھینسوں کے دودھ سے چلاتے ہیں ،جو انہوں نے جاتی عمرہ میں رکھی ہوئی ہیں اور اب نئی پیشی کے موقع پر انہوں نے یہ کہہ کر سب کو حیران وششدر کردیا کہ ”میں کتے اور انڈے وغیرہ بیچتا ہوں “ ان کا یہ بیان سچا بھی ہوسکتا ہے کہ کتوں کی اعلیٰ بریڈز تیار کر کے بیچنا ایک نفع بخش کاروبارہے ،جہاں تک انڈوں کی بات ہے تو ممکن ہے حمزہ شہباز کی پولٹری فارمنگ کے ساتھ انہوں نے انڈوں کا کاروبار رچا رکھا ہو ،سو انہوں نے عدالت کے روبرو جھوٹ بولنا مناسب نہیں سمجھا ۔
یہ قیاس آرائی اوراندازہ بھی ہوسکتا ہے مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس بار وہ بہت گھبرائے ہوئے تھے اس لئے نیب عدالت کے سوالات کے اطمینان بخش جوابات نہ دے سکے ،یا پھر جان بوجھ کر انہوں نے عدالت کے سوالات کو درخورِاعتنا نہیں سمجھا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کرونا کے خوف نے انہیں بوکھلا رکھا ہو ،جو بھی ہے اسے درست قرار نہیں دیا جا سکتاکہ قومی سطح کے لیڈر کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے خلاف جگ ہنسائی کا طوفان کھڑا کرے ،بھلے سرکاری اراکین اسمبلی اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر بٹھائے گئے بچے جمہورے ۔
ویسے آجکل یہ کام ہمارے ایک پیٹی بھائی بھی بڑی ہی سنجیدگی سے انجام دے رہے ہیں (اللہ انہیں کرونا کی پکڑسے کامیابی سے نکالے ۔آمین )جس دورُخے اسلوب بیان کو وہ یک رخا بنا کر پیش کررہے ہیں یہ ان ہی کاکمال ہے اور ان ہی کو زیبا ہے ۔ہم اپنی رائے آئیندہ کے کسی اظہاریئے کے لئے محفوظ رکھتے ہیں کہ عافیت بھی اسی ہی میں ہے ۔
جہاں تک میاں شہباز شریف کی بات ہے ان سے یہ سہواََ ہوا کہ ہمیشہ کی طرح عجلت اور جذبات میں کئے گئے فیصلے کے تحت پاکستان تشریف لائے حالانکہ وہ کرونا وبا کو وجہ بنا کر عدالت سے لمبی رخصت آسانی کے ساتھ لے سکتے تھے ۔
یوں لوگوں کی اٹھائی گئی افواہیں کہ وہ کسی ”قوت“ کے اشارے پر یا حکومت کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرکےآئے ۔بعد کے حالات کے تیور کوئی ایسا اشارہ اب تک نہیں دے رہے ،گو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے یہاں ہرطرح کے امکانات کے دروازے کھلے رہتے ہیں ،ہماری سیاست کی بساط پر مہروں کے بدلنے میں دیر نہیں لگتی ۔مگر اس سے بھی انحراف نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان جس ڈھب سے حکومت چلارہے ہیں ان کے نرالے پن نے ان کی پناہ کا ایک دریچہ کھلا رکھا ہوا ہے ،ان دنوں وہ اس دریچے ہی سے اندر باہر دیکھ رہے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی کابینہ کے نابغوں سے کم کم ہی مشاورت کرتے ہیں ،اب یہ آنے والا وقت بتائے گا کہ ان کا یہ عمل ملک و قوم کے لئے کتنا سود مند رہا ۔ویسے حاکم وقت کبھی سودوزیاں کے سودوں میں نہیں پڑا کرتے اگر اب ایسا ہوتا تو ہمارے حالات ابتلا کی اس تحت الثریٰ میں نہ ہوتے جس میں اب ہیں اور تو اور ہم من حیث القوم ان جھمیلوں میں نہیں پڑتے ۔ہم عقل کو لبِ بام کھڑا دیکھ کر منہ چھپالیتے ہیں ،اسی لئے ہر نئے الیکشن کے موقعہ پر ہم امیدوار کے سابقہ گناہوں پر مٹی ڈال دیتے ہیں کہ اس کے پوتر ہونے کے لئے ایک تازہ ترین عمرہ ہی کافی ہوتا ہے ۔
بات میاں شہباز شریف صاحب کے ذرائع آمدن سے شروع ہوئی تھی جو شکر ہے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں میں شامل نہیں ورنہ تو ان کا آئیندہ الیکشن میں جیتنا مخدوش ہوجاتا ۔ان کی ساری گفتگو میں بچوں کے قول و فعل سے دست کشی سمجھ سے بالاتر ہے ،اتنے خرد مند مدبر سیاستدان فقط انہتر برس کی عمر پہنچتے پہنچتے اتنے بھولے کیسے ہوگئے کہ گھر کے بھیدی بن کر لنکا ڈھانے پر کے در پے ہوگئے ۔۔!
اگر میاں شہباز شریف سے متعلق حسنِ ظن رکھ لیا جائے تو صریحاََ یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنا سیاسی بیانیہ بدلنے کی جس روش کا آغاز میاں نواز شریف کی آخری وزارت عظمیٰ کے چھن جانے کے بعد کیا تھا اور اب بھی اسی کو نئی زندگی دینے کی تگ و دو میں ہیں ،کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بڑے میاں صاحب اگر فوج کے خلاف عناد کو دل سے نکال دیتے تو اقتدار پی ٹی آئی کی بجائے ن لیگ کے پاس ہوتا اس شرط پر کہ وزیر اعظم چھوٹے میاں صاحب ہوں جن کا دل ہمیشہ فوج کے ساتھ دھڑکتا ہے اور وہ ہر لحاظ سے عمران خان سے زیادہ فوج کو عزیز رکھتے ہیں ،اس طرح گھر کی بات گھر ہی میں رہ جاتی ،بہر حال ان حالات میں بھی میاں شہباز شریف کو گھبرانا نہیں چاہیئے کہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مسلم لیگ ریشہ دوانیوں کی جنگ خال خال ہی ہاری ہے۔۔!

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker