اقبال ہراجکالملکھاری

غضنفرشاہی صاحب کے نام ۔۔اقبال ہراج کی یادیں

میں صحافت میں حادثاتی طورآیا۔ میں شیخ ریاض پرویزکے پاس سرکاری نوکری کی سفارش کرا نے آیاتھاوہ اس وقت ملتان میں ریذیڈنٹ ایڈیٹرتھےسرکاری نوکری نہ ملی توشیخ صاحب مجھے نوائے وقت میں ملازمت دے دی،یہاں میری ملاقات غضنفر شاہی صاحب سے ہوئی جورپورٹر تھے،شاہی صاحب پریس کلب کی سیاست میں بھی کافی سرگرم تھے سوسیاسی نظریات میں ہم آہنگی کی بدولت میں نے ان کے گروپ کوجوائن کرلیا،میں ایک دوست اورسائنس ٹیچراشفاق انجم کے ساتھ رہائش پذیرتھا،جب دوست نے ساتھ ٹھہرانے سے انکارکیاتومیں اپنے کولیگ جاویداخترجاویدسے بات کی ،انہوں نے بتایاکہ ان کاایک پلاٹ ہے جس میں ایک کچاکمرہ ہے جس میں لائٹ نہیں ہینڈپمپ لگاہواہے جس میں پانی دینے کے بعدپانی آناشروع ہوجاتاہے،میرے پاس چونکہ دوسراآپشن نہیں تھاسوایک دن میں نے اپنی کتابیں اوردوسراسامان اس میں شفٹ کردیا۔
میرے پاس چارپائی نہیں تھی،سورات کوایک پیرصاحب کے ڈیرے کے باہرسڑک پرپڑی موٹے بان سے بنی پرانی سی چارپائی اٹھائی ،سرپر رکھی اوراپنی نئے مسکن کی طرف پیدل چل پڑاجووہاں سے بارہ تیرہ کلومیٹردورتھا راستے میں کئی بارتھکاوٹ کے باعث رکناپڑامکان تک پہنچتے پہنچتے میری کمردوہری ہوچکی تھی،بڑی مشکل سے مکان پرپہنچا چارپائی صحن میں بچھادی،صبح دس بجے تک چارپائی پردیوار کاسایہ رہتاجیسے ہی دھوپ آتی میں پریس کلب چلاجاتا ۔شام تک شاہی صاحب کی محفل میں بیٹھتاپھروہیں سے آفس چلاجاتاآفس سے چھٹی پردوبارہ شاہی صاحب کے پاس پریس کلب آجاتا شاہی صاحب رات کوواپس مکان پرڈراپ کردیتے ۔
میں نے شاہی صاحب کوہمیشہ بڑابھائی سمجھا انہوں نے بھی ہمیشہ مجھے سپورٹ کیاکبھی مایوس نہیں کیاایک دفعہ میری جیب کٹ گئی اورمجھے اپنی پوری تنخواہ جو 3500 تھی سے محروم ہوناپڑامیرے پاس کھانے کے پیسے بھی نہ تھے تورضی صاحب سے ذکرکیارضی نے شاہی صاحب کو بتایاجنہوں نے پیسے تودے دئے لیکن شکوہ کیاکہ میں نے براہ راست انہیں کیوں نہیں بتایا۔ ایک دفعہ میرامالک مکان سے جھگڑاہوگیاتوشاہی صاحب محمدمظہرکے ساتھ میرے پاس پہنچ گئے اورصلح کرادی ۔
مارچ 2019میں میں لاہورآگیاتوشاہی صاحب کامیرے ساتھ مسلسل رابطہ رہامیری حوصلہ افزائی اوربچوں کی خیریت معلوم کرتے رہے وفات سے دویاتین ماہ قبل میرے بارباراصرار پرمجھے ملنے ملتان میں میرے مکان سورج میانی تشریف لائے مجھ سے کہاکسی ہوٹل میں بیٹھ کرگپ شپ کرتے ہیں مجھے گاڑی میں بٹھایااور رضاآبادچوک پرہوٹل پرپہنچ گئے،ہم دونوں ماضی میں کھوگئے انہوں نے ایک دوست کاشکوہ کیا اور کہاان سے واپڈا سے متعلقہ کام کاکہالیکن انہوں نے نہیں کرایاشاہی صاحب نے اس کولیگ کانام لیتے ہوئے کہاوہ شخص جب نامہ نگارتھااور ایک دن بڑی مشکل میں تھاتوانہوں نے اس کامسئلہ حل کرایا ملاقات کے دوران شاہی نے مجھ سے اجازت چاہی تومیں نے کہاشاہی صاحب ساری عمرآپ بل دیتے رہے آج میں بل دوں گا انہوں نے میراہاتھ تھامتے ہوئے خودبل دیامجھے گاڑی میں بٹھایاوہیں ڈراپ کیا جہاں سے پک کیا تھامجھ سے اجازت چاہی میں گاڑی سے اترکرسڑک کے دوسری طرف رک گیاانہیں ہاتھ ہلاتے ہوئے الوداع کیا۔
بعدمیں وہ علیل ہوگئے کبھی ان سے رابطہ ہوتاتوکہتے دعاکریں پھر ہماری بات چیت واٹس ایپ میسیج تک محدود ہوگئی ایک دن میں نے انہیں بتایاکہ شاہی صاحب میری بڑی بیٹی کی دوdistintcionsآئی ہیں چھوٹی بھی اچھے نمبروں سے کامیاب ہوگئی ہے ،شاہی صاحب نے جوابی واٹس ایپ میں لکھاآپ بڑے خوش قسمت ہیں کہ آپ کی بیٹیاں اتنی محنتی اور ذہین ہیں اللہ انہیں مزیدکامیابیاں دے میں نے ان سے طبیعت کے بارے پوچھاانہوں نے لکھاہراج یارطبیعت ٹھیک نہیں ہے پھر دودن بعدان کی وفات کی خبرآگئی مجھے ان کے بارے میں لکھنے کی ہمت نہیں ہوسکی آج جب ان کے احسانات کاذکر کر رہاہوں توخیالات بے ترتیب ہوچکے ہیں آنکھوں سے آنسورواں ہیں جورکنے کانام ہی نہیں لے رہے زندگی میں دوست بنتے رہتے ہیں لیکن ایسے بے لوث دوست کم ہی ملتے ہیں ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker