خواتین و حضرات کالوں کے کالے دیس افریقہ سے ایک دکھی کہانی برآمد ہوئی ہے۔جس کو سن کر ناہنجار و نامعقول با آواز بلند کہتے پائے گئے شکر ہے کہ کالے افریقہ کے کالے دیس سے کوکین گانجے کے علاوہ بھی کوئی کام کی چیز برآمد ہوئی ہے ہاں تو میں کہہ رہا تھاکہ یہ سٹوری مسٹر کانجا کے بیٹے کالی چرن کی ہےجو کہ ایک سائیں لوک بندہ تھا۔اس کے منہ سےہر وقت رال ٹپکتی ،آنکھیں قدرتی سرخ اور نشئیوں جیسی تھیں۔ وہ ہر وقت اپنی ہی سوچوں میں گم رہتا تھا۔ کالی چرن چونکہ کالوں کے دیس افریقہ کا باسی تھا اس لیئے اس کے والدین اسے وچ ڈاکٹروں اور باہر ویدوں کے پاس لیئے پھرتے تھے راوی کہتا ہے کہ اگریہی کالی چرن کہیں ہمارے دیس میں پیدا ہوا ہوتا تو اس کے والدین کے وارے نیارے ہو جانے تھے کیونکہ جیسا اس کا حلیہ اور عادات و اطوار ہیں ۔اس نے تو دو منٹ میں ہی مجذوب اورپھر اللہ کا ولی مشہور ہو جانا تھا۔بلکہ اب تک تو اس کی شہرت” بابا کالے شاہ” کے نام ہو چکی ہونی تھی ۔اور بڑی تعداد میں مریدین حضرات نے کالا شاہ کالا میرا کالے اے سرکار، کہتے ہوئے اس کے گرد دھمالیں ڈالنی تھیں۔
پھر کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ ان کی طرف ایک حضرت صاحب تشریف لائے۔ کیوں آئے ۔ یہ بات ابھی تک واحد حاضر صیغہ راز میں ہے۔اتفاق سے ان کی نظر کالے دیس کے کالی چرن پر پڑ گئی۔اسے دیکھتے ہی ان کے کاروباری ذہن میں وہی خیال آیا جو کہ ہر چالاک اور دو نمبر آدمی کے ذہن میں آ سکتا ہے۔چنانچہ انہوں نے مسٹر کانجا سے کالی چرن کا ہاتھ مانگ لیا۔یہ سن کر مسٹر کانجے نے بڑی مشکوک نظروں سے حضرت صاحب کی طرف دیکھا۔لیکن چونکہ وہ خود بھی اس سے جان چھڑانا چاہتے تھے سو اسے جانے دیا۔حضرت صاحب جو کہ کالا چٹا پہاڑ سے لے کر کالا ڈھاکہ تک ۔۔اور کالا شکاکو سے لے کر کالا خطائی تک، ہر جگہ فراڈ کر چکے تھے۔ کالی چرن کو ایک کچی آبادی میں لے آئے۔ اور وہاں پر اسے ایک کمرہ کرائے پر لے دیا۔ یہ کالا نوجوان جو کہ اتفاق سے حبشی بھی تھا اور ہمارے ہاں اللہ والا مشہور کرنے کے لیئے لایا گیا تھا۔لیکن اس کی تقریب رونمائی سے پہلے ہی کچھ ایسا ہوا کہ وہی کالے کرتوت والےحضرت صاحب اپنے کسی کالے دھندے کی وجہ سے کال کوٹھڑی میں بند ہو گئے۔ (سچ کہا ہے مولانا طارق جمیل صاحب نے کہ جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے)۔
سونے پہ سہاگہ یہ کہ کسی کلموہے نے کالی چرن کے سارے پیسےبھی چرا لیئے ۔وہ کہتے ہیں نا کہ مرے کو مارے شاہ مدار۔یہاں شاہ مدار کا کردار واپڈا والوں نےادا کیا۔ چنانچہ پہلے ہی ماہ اس کالے کو جو بجلی کا بل موصول ہوا، اس میں لکھی قیمت کو دیکھ کر ابھی وہ دلدوز چیخ مارنے ہی والا تھا کہ بھوک کی وجہ منہ سے چیخ کی بجائے محض سیٹی کی آؤاز ہی نکل سکی ۔اسی دوران اس کی نظرایک مریل سے امرود کے درخت پر پڑی ، جس پر پھل تو لگا تھا لیکن سڑا ہوا۔جس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی ہر شاخ یہ (تھری پیس سوٹ پہنے) الو بیٹھا تھا۔ اس نے سوچا کہ شاید یہاں الو وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں یا پھر کیا پتہ اس مملکت خداد کا یہی دستور ہو ۔چنانچہ وہ انجام گلستان کی فکر کیئے بغیر آگے بڑھا۔۔ابھی امرود توڑنے ہی والا تھا کہ ایک الو جو کہ اتفاق سے طوطا بھی تھا چلا کے بولا۔کھاؤ گے تو مارے جاؤ گے۔اس پر کالے دیس کے کالے حبشی نے جو کہ یہاں نیا نیا آیا تھا بولا پھر میں کیا کروں۔۔میں کس کو کھاؤں؟ اس پراس الو نے جوکہ اتفاق سے طوطا بھی تھا بڑی دل سوزی سے کہا ۔۔سو باتوں کی ایک ہی بات۔دوست یہاں سے زندہ بھاگ ۔چنانچہ کہانی کے ہیرو نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ بنا بھید بھاؤ۔ وہیں سے جو دوڑ لگا ئی تو پھر سیدھا اپنے دیس میں جا کر دم لیا۔ ادھرجب واپڈا والوں نے دیکھا کہ بندہ غریب اور کمزور تھا سو انہوں نے نہ صرف اس کا میٹر کاٹ دیا بلکہ اس پر بجلی چوری کا مقدمہ بھی بنا دیا۔اور ووڈے چوہدری صاحب کی ساری چوری شدہ بجلی اس پر ڈال دی۔
لو جی دوستو یہاں سے کہانی میں نیا موڑ آتا ہےجو کہ راوی بقلم خود بیان کرتا ہے کہتا ہےکہ گھر واپسی پر کالی چرن نے سکھ ،جبکہ والدین نے دکھ کا سانس لیا۔ پھرقدرت کا کرشمہ دیکھیں کہ ایک دن اس کالے کو خود سے بھی زیادہ کالی لڑکی سے عشق ہو گیا۔اور کرشمہ در کرشمہ یہ کہ لڑکی نے بھی ہاں کر دی۔پھر کیا تھا دونوں نے مل کر لڈی ہے جمالو ڈالی ۔اس سے اگلے دن کی بات ہے کہ آسمان پر گھنگور گھٹا چھائی تھی۔ کسی بھی وقت، کالی گھٹا کالے بادلوں کے ساتھ گرج برس سکتی تھی کہ ایسے میں کالوں کے دیس افریقہ میں وہی کالا عاشق اپنے سے بھی کالی گرل فرینڈ کو کالی اندھیری رات میں کالے سمندر کے پاس بغرض ڈیٹ لے گیا۔ وہ دونوں ساحل سمندر کے قریب ایک کالے بینچ پر بیٹھ گئے۔رات اتنی کالی تھی کہ کالی چرن کو اپنے سے بھی کالی محبوبہ قریب ہونے کے باوجود بھی دکھائی نہ دے رہی تھی۔اس نے سمجھاکہ شاید وہ چلی گئی ہے یہ سوچ کر کالے کا کلیجہ منہ کو آ گیا۔ پھرکالی رات میں کالے بینچ پر بیٹھے کالی چرن نے اپنے سے بھی کالی گرل فرینڈ کا ہاتھ پکڑنے کی غرض سے اپنے کالے منہ سے کہا،
ڈارلنگ بیٹھی ہو یا چلی گئی ہو؟
اپنے سے کم کالے عاشق کی یہ بات سن کر وہ کالی پورے دانت نکال کر ہنس دی۔۔ گھپ اندھیرے اور کالی رات میں کالی کی چٹی آنکھیں اور سفید دانت دیکھ کر کالا غش کھا کر بے ہوش ہو گیا۔(ٹھیک ہی کہتے تھے مولانا صاحب کہ جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے)۔راوی اس بارے خاموش ہے کہ کالی رات میں اس کالے کو ہوش آیا کہ نہیں؟۔۔کہ صورت حال کو دیکھ کرخود اس کا اپنا بھی” تراہ ” نکل گیا تھا۔۔اور وہ بھی جائے واردات سے جوتوں سمیت بھاگ لیا تھا۔۔(ٹھیک ہی کہتے تھے مولانا صاحب کہ جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے)

