سرائیکی وسیبشاہد راحیل خانلکھاری

ادبی بیٹھک اور ملتان کا کھدر پوش ۔۔ شاہد راحیل خان

جن ہستیوں سے کئی دہائیوں کا تعلق ہو۔جن کے چہروں پر آپ نے جوانی کے بانکپن سے لے کر ضعیف العمری تک کی لکیریں دیکھی ہوں اور ان لکیروں سے بیان ہوتی ہوئی کئی کہانیوں کے آپ چشم دید گواہ رہے ہوں۔ اس جہان فانی سے جانا تو سب نے ہے مگر ایسے لوگ لمحہ بھر میں دور ہو کر ایسی نامعلوم منزل کی طرف عازم سفر ہو جایئں، جہاں سے واپسی مشکل ہی نہیں ناممکن ہے توان کی جدائی پر یقین کرنا ، ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔ سید مسعود کاظمی بوسن روڈ کالج میں مجھ سے ایک جماعت سینئر تھے۔ خود دار، ملنسار اور کھدر پوش۔ جی ہاں۔ مسعود کھدر پوش ایک بہت بڑا نام تھا، آج کی نسل شاید اس نام سے واقف بھی نہ ہو ۔ مسعود کاظمی کی طبیعت اور شخصیت میں سادگی اور بے باکی کی ایک خاص اداپر میں مسعود کاظمی کو کبھی کبھی کھدر پوش کہا کرتا تھا۔کالج میں مسعود کاظمی کی پہچان ان کی شاعری تھی، کئی بار انٹر کالج مشاعروں میں ان کی رفاقت حاصل رہی مگر زیادہ قربت اس وقت پیدا ہوئی جب سید مسعود کاظمی نے کالج کے الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیاان کے مقابلے میں ایک مذہبی جماعت کی طاقتور ذیلی تنظیم کا امیدوار تھا۔یہ وہ دور تھا جب سیاسی شعور رکھنے والے ”سبز “ اور ”سرخ “ کے خانوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ایک طرف سے نعرہ لگتا ۔۔ایشیاسبز ہے ۔۔ تو دوسری طرف سے جواب آتا۔۔ایشیاءسرخ ہے ۔۔ ۔میرا تعلق بھی اس خانے سے تھا جس پر سرخ نشان لگا ہوا تھا۔ بس مذہبی جماعت کی طاقتور ذیلی تنظیم کے امیدوار کو شکست دینے کے لیئے میں سید مسعود کاظمی کے ہراول دستے میں شامل ہو گیا۔ سید مسعود کاظمی نے واضح اکثریت سے ” ایشیاءسبز ہے“ کی نعرہ زن سپاہ کو شکست فاش دے کرہمارے دلوں میں اپنی محبت مزید راسخ کر لی۔پھر یوں ہو ا کہ سید مسعود کاظمی بھی زمانے کی بھیڑ میں کھو گئے اور میں بھی۔اور مدت بعد جب دوبارہ ملاقات ہوئی تو پتہ چلا کہ سید مسعود کاظمی، زمانے کے تلخ وشیریں تجربات سے گزرکر اب زندگی کے قدرے مشکل دور سے نباہ کر رہے ہیں۔ ایک عرصہ صرف احباب ہی سے نہیں، شاعری سے بھی دور رہنے کے بعد ” آس “ نامی ایک رسالہ سید مسعود کاظمی کی زندگی اور توجہ کا مرکز ہے۔اتنی مدت کے بعد ” آس “ رسالے کا نام سے بنک اکاﺅنٹ کھولنے کے لیئے آنا ، میرے اور سید مسعود کاظمی کے گمشدہ تعلق کی دریافت اور تجدید کا باعث بنا۔انہی دنوں میں ” سخن ور فورم “ کے نام سے بنی ادبی تنظیم کے حوالے سے اخبار میں چھپی خبر پر بات ہوتی تو سید مسعود کاظمی مجھے اس تنظیم کے ہفتہ وار منعقد ہونے والے اجلاس میں شرکت کی دعوت دیتے۔ میرا جواب ہوتا ، کاظی صاحب ۔ ایسی کئی تنظیمیں بنتی ،ٹوٹتی دیکھی ہیں۔آپ بھی جانتے ہیں، ان تنظیموں میں کیا ہوتا ہے۔ مگر کاظمی کی تکرار اور اصرار ہوتا۔ارے نہیں یار۔ یہ مختلف لوگ ہیں۔ آپ آیئں تو سہی۔ سخن ور فورم کے دو نام رضی الدین رضی اور شاکر حسین شاکر تو میرے لیئے اجنبی نہیں تھے۔جب میں سخن ور فورم کے اجلاس میں آیا تو ایک حیرت انگیز خوشگوار تجربے سے گزرا،یہاں بلا تفریق سب کے لیئے عزت تھی احترام تھا اور محبت تھی۔خیر۔ یہ ایک الگ موضوع ہے۔میں بات کر رہا ہوں سید مسعود کاظمی کی۔ خود بھی ایک ایسے دکھ سے گزر رہا ہوں کہ بقول ہمارے دوست نوازش علی ندیم تم صبر کی تلقین مجھے کر تو رہے ہو۔۔۔اے ، شہر کے لوگو مرا نقصان تو دیکھو ۔۔ ۔اس لیئے بے ترتیب لفظوں کی اس تحریر کے جھول پر انتہائی معذرت۔کئی دنوں بعد یہ چند الفاظ لکھنے کی ہمت اس لیئے ہوئی کہ گزشتہ سال اکیس اپریل کو ہم سے جدا ہونے والے سید مسعود کاظمی کی پہلی برسی انیس اپریل کو سخن ور فورم کے زیر اہتمام منائی گئی تو اس میں شرکاءکی کمی پر رضی نے جو پوسٹ کی اس پر احباب کی بے حسی اور بے اعتنائی نے میرے زخم خوردہ دل کو مزید زخمی کر دیا۔سخن ور فورم کے ایک اجلاس میں کسی کی برسی کے موقع پر ایک بار میں نے کہا تھا کہ جن مرحومین کو ان کے عزیز و اقارب بھلا دیتے ہیں انہیں سخن ور فورم یاد رکھتا ہے۔ سید مسعود کاظمی کی پہلی برسی کے موقع پر شرکاءکی کمی پر رضی کا شکوہ بجا ہے۔ سید مسعود کاظمی نے تو ملتان اور وسیب کے دانشوروں، شاعروں اور ادیبوں پر جو احسان ” دبستان ملتان “ لکھ کر کیا ہے وہ سید مسعود کاظمی کا ایک ناقابل فراموش کارنامہ ہے۔ملتان اور وسیب کے لوگوں کو تو سید مسعود کاظمی کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے ویران قبرستانوں کی خاک چھان کر اور ٹوٹی پھوٹی قبروں پر لکھے معدوم ناموں کو تلاش کر کے انہیں دوبارہ زندگی دی۔میں بعض ایسے افراد سے واقف ہوں جنہیں خود اپنے اجداد کی نا قبرکا پتہ تھا نا ان کے ادبی و علمی قد کاٹھ کا۔سید مسعود کاظمی نے بصد کوشش بسیار انہیں تلاش کر کے ایک کتاب کی صورت میں ایک تاریخ مرتب کر دی۔چودہ اگست انیس سو سینتالیس سے لے کر چودہ اگست دو ہزار پندرہ تک کے ایک سو پچانوے قلم کاروں کو ایک کتاب میں منتقل کرنے کو خواب دیکھنا اور پھر اس کی عملی تفسیر ”دبستان ملتان “ جیسی کتاب کی صورت میں مرتب کر کے سامنے لانا کو ئی آسان کام نہیں تھا۔ سید مسعود کاظمی آپ کو میرا سلام۔ آپ جہاں بھی ہو۔ میرا دل کہتا ہے، اللہ کی رحمت میں ہو۔ آپ کی پہلی برسی میں عدم شرکت کے دکھ کے ساتھ ساتھ آج کل میں جس کرب سے گزر رہا ہوں ، یہ شعر اس کی عکاسی کر رہا ہے
جو بیت گیا ہے ،وہ گزر کیوں نہیں جاتا
بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker